Ek saathi ki sachai par sawal utha, gawah koi na tha, dushman mukar gaya — to gawahi aasman se aayi. Finhas ke “Allah faqeer hai” kehne par Abu Bakr Siddiq (RA) ka ghussa, aur phir Aal-e-Imran 181 ka nazool — ye waqia Siddiq-e-Akbar (RA) ki sadaqat par Quran ki apni shahadat hai.
“صدیق” — سچا ترین، ہر بات کی تصدیق کرنے والا۔ یہ لقب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو ایسے ہی نہیں ملا۔ اور اس لقب کی سب سے بڑی دلیل وہ لمحہ ہے جب زمین پر ان کی سچائی کا کوئی گواہ نہ تھا، تو گواہی عرش سے آئی۔
پہلے یہ جانیں: “صدیق” کا لقب ملا کیسے؟
شبِ معراج کے بعد جب قریش نے واقعۂ اسراء و معراج کا مذاق اڑایا اور کچھ لوگ حضرت ابو بکرؓ کے پاس آئے کہ تمہارے ساتھی کا دعویٰ سنو — آپؓ نے فرمایا: “اگر انہوں نے یہ کہا ہے تو سچ کہا ہے۔ میں تو اس سے بڑی بات میں بھی ان کی تصدیق کرتا ہوں: صبح و شام آسمان کی خبر آتی ہے اور میں مانتا ہوں۔” سیرت کی روایات کے مطابق اسی دن سے آپؓ “صدیق” کہلائے۔ یہ تمہید اس لیے ضروری ہے کہ آگے کا واقعہ اسی لقب کی قرآنی تصدیق ہے۔
واقعہ: فنحاس کی گستاخی
ایک روز حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ مدینے میں یہودیوں کے محلے میں تشریف لے گئے۔ وہاں یہود کی بڑی تعداد جمع تھی اور ان کا بہت بڑا عالم فنحاس بھی موجود تھا۔ حضرت ابو بکرؓ نے فنحاس سے فرمایا: “فنحاس! اللہ سے ڈرو اور اسلام قبول کر لو۔ اللہ کی قسم! تم خوب جانتے ہو کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور حق لے کر آئے ہیں — یہ بات تم اپنی کتاب میں لکھی پاتے ہو۔”
فنحاس نے جواباً اسلام کی دعوت کی جگہ قرآن کی اس آیت پر طنز کیا جس میں اللہ نے فرمایا ہے: مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا — “کون ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے؟” (سورۃ البقرہ: 245)۔ فنحاس نے کہا: “اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں؛ وہ ہم سے قرض مانگتا ہے!”
یہ سن کر حضرت ابو بکرؓ کو اللہ کی غیرت میں غصہ آیا اور آپؓ نے فنحاس کے منہ پر طمانچہ مارا اور فرمایا: “اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! اگر ہمارے اور تمہارے درمیان معاہدہ (صلح) نہ ہوتا تو اے اللہ کے دشمن! میں تیری گردن اڑا دیتا۔”
مقدمہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے — اور فنحاس مکر گیا
فنحاس شکایت لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچا کہ ابو بکر نے مجھے مارا ہے۔ آپ ﷺ نے حضرت ابو بکرؓ سے پوچھا تو انہوں نے عرض کیا: “اے اللہ کے رسول! اس اللہ کے دشمن نے بہت بھاری کلمہ بولا — اس نے کہا اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔ یہ سن کر مجھے اپنے اللہ کے لیے غصہ آ گیا اور میں نے اس کا منہ پیٹ دیا۔”
فنحاس نے صاف انکار کر دیا: “میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی۔” باقی یہودی بھی اس کی پشت پر تھے، اور موقع کا کوئی دوسرا گواہ موجود نہ تھا۔ یہ بڑی پریشانی کا سماں تھا — سچا مدعی بھی تھا مگر گواہی زمین پر نہیں تھی۔
عرش سے اعلان: سورۃ آل عمران 181
اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے ساتھی کی صداقت کا اعلان عرش سے فرمایا اور فنحاس کے جھوٹ کو بے نقاب کر دیا:
لَقَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاءُ ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوا وَقَتْلَهُمُ الْأَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَنَقُولُ ذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ
“بے شک اللہ نے ان لوگوں کی بات سن لی جنہوں نے کہا: اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔ ہم لکھ لیں گے جو انہوں نے کہا اور ان کا انبیاء کو ناحق قتل کرنا بھی، اور (قیامت کو) کہیں گے: جلنے کا عذاب چکھو۔” (سورۃ آل عمران: 181)
یہ اس واقعے کا شانِ نزول ہے جسے امام واحدیؒ نے “اسباب النزول” میں اور مفسرین نے اپنی تفاسیر میں نقل کیا ہے — خود اصل مضمون میں اس کے حوالے یوں درج تھے: تفسیر قرطبی، زاد المیسر اور تفسیر ابن کثیر۔ آیت نے دو کام ایک ساتھ کیے: فنحاس کی کہی ہوئی بات کا اقرار آسمان سے ہو گیا، اور حضرت ابو بکرؓ — جن کی بات پر سوال اٹھا تھا — سچے ثابت ہوئے۔
“قرضِ حسنہ” کا اصل مفہوم — فنحاس نے معنی کیسے بگاڑا؟
اللہ تعالیٰ کسی کا محتاج نہیں کہ اسے قرض درکار ہو۔ “قرضِ حسنہ” سے مراد اللہ کی راہ میں اخلاص سے خرچ کرنا ہے، جسے اللہ نے اپنے ذمے “قرض” اس لیے کہا کہ بندے کو یقین دلائے کہ یہ خرچ ضائع نہیں ہو گا بلکہ کئی گنا بڑھا کر لوٹایا جائے گا۔ فنحاس نے لفظ پکڑ کر معنی الٹ دیا — اور یہی ہر دور کے مذاق اڑانے والوں کا طریقہ ہے۔
Finhas Ka Waqia — The Lesson
Is waqie se teen baatein roshan hoti hain. Pehli: apne deen ki izzat par ghairat Siddiq (RA) ki pehchan thi, magar un ka ghussa bhi ma’ahiday ka paas rakhta tha — unhon ne apne alfaaz mein khud is qaid ka zikr kiya. Doosri: jab banda sach par ho aur gawah na mile, to Allah khud gawah ban jata hai. Teesri: Quran ki ek aayat ka shan-e-nuzool samajh lena us aayat ko hamesha ke liye dil mein utaar deta hai.
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
فنحاس کون تھا؟
فنحاس بن عازورا — مدینے کے یہودی قبیلے بنو قینقاع کا بڑا عالم اور مال دار شخص، جس کا ذکر اسبابِ نزول کی کتابوں میں اسی واقعے کے ساتھ آتا ہے۔
حضرت ابو بکرؓ کو طمانچے کی سزا کیوں نہ ہوئی؟
کیونکہ وحی نے اصل واقعہ ہی الٹ کر ثابت کر دیا: گستاخی فنحاس نے کی تھی اور پھر جھوٹ بھی اسی نے بولا۔ جس مدعے پر کارروائی بنتی، وہ الٹا ثابت ہوا۔