اسلامی تاریخ میں اگر کسی ایک صفت کو کسی ایک نام کے ساتھ جوڑا جائے تو وہ ہے: عدل اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ۔ آپؓ کو “فاروق” اسی لیے کہا گیا کہ آپ حق و باطل کے درمیان لکیر کھینچ دیتے تھے — اور اس لکیر کے سامنے بادشاہ اور فقیر، اپنا اور پرایا، سب برابر تھے۔ حضرت عمر فاروقؓ کے واقعات میں سے ایک مشہور واقعہ فارس کے ایک شہزادے کا ہے، جس میں ایک گلاس پانی نے موت کا فیصلہ بدل دیا۔ یہ واقعہ حکایات کی کتابوں میں منقول ہے — اسے پڑھیے، اور ساتھ وہ قرآنی و نبوی اصول بھی جانیے جن کی یہ حکایت عملی تصویر ہے۔
واقعہ: فارس کا شہزادہ اور پانی کا وعدہ
منقول ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں فارس کا ایک شہزادہ پیش ہوا۔ آپؓ نے اس کے سامنے اسلام کی دعوت رکھی؛ اس نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس پر آپؓ نے (اس دور کے جنگی اصولوں کے تحت) اس کے قتل کا حکم دے دیا۔
شہزادے نے کہا: “امیر المومنین! مجھے قتل کیجیے، مگر اس سے پہلے میری ایک درخواست پوری کر دیجیے — میں سخت پیاسا ہوں، مجھے پانی پلا دیجیے۔” آپؓ نے پانی منگوانے کا حکم دیا۔ جب پانی سامنے آیا تو شہزادہ بولا: “امیر المومنین! مجھ سے وعدہ فرمائیے کہ جب تک میں یہ پانی نہ پی لوں، مجھے قتل نہیں کیا جائے گا۔” آپؓ نے وعدہ فرما لیا۔
تب شہزادے نے وہ پانی زمین پر گرا دیا اور کہا: “لیجیے! اب آپ مجھے قتل نہیں کر سکتے — پانی نہ پیا گیا اور نہ پیا جا سکے گا، اور آپ کا وعدہ برقرار ہے۔”
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “اس شخص نے مجھے دھوکا دیا” — مگر اس کے باوجود آپؓ نے اپنا وعدہ توڑنا گوارا نہ کیا اور اسے رہا کر دیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جس نے شہزادے کا دل بدل دیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ خود آگے بڑھا اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا، اور کہا: “امیر المومنین! اسلام میرے دل میں پہلے سے گھر کر چکا تھا، مگر میں اس وقت ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا، کیونکہ لوگ کہتے کہ تلوار کے خوف سے مسلمان ہوا ہے۔ میں نے یہ تدبیر اس لیے کی کہ پہلے اپنے قتل کو آپ کے وعدے کے آگے ناممکن کر دوں، پھر آزاد دل سے اسلام ظاہر کروں۔” حضرت عمرؓ کو اس کی یہ سچائی اس قدر پسند آئی کہ بعد میں آپؓ اس سے سلطنت کے امور میں مشورہ بھی کیا کرتے تھے۔
(یہ واقعہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے “حیرت انگیز واقعات” سمیت حکایات کی متعدد کتابوں میں منقول ہے۔)
اس واقعے کی اصل بنیاد: وعدہ اور امان کی حرمت
اس حکایت کا دل وہ اصول ہے جو قرآن و سنت سے قطعی ثابت ہے: مسلمان کا دیا ہوا وعدہ اور امان اللہ کی امانت ہے۔ قرآن مجید کا حکم ہے: “اور اگر مشرکین میں سے کوئی آپ سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دیجیے، یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے، پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچا دیجیے۔” (سورۃ التوبہ:9:6) اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان سب برابر ہیں اور ان کے ادنیٰ فرد کی دی ہوئی امان بھی پوری امت پر نافذ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہزادے کی چال سمجھ جانے کے باوجود امیر المومنین نے وعدہ نہیں توڑا — کیونکہ اسلامی قانون کے سامنے خلیفہ کی خواہش نہیں، اللہ کا حکم چلتا ہے۔
عدل کا قرآنی معیار
حضرت عمرؓ کا عدل کسی ذاتی مزاج کا نام نہیں تھا، وہ اس قرآنی نظام کا نفاذ تھا جس کے دو ستون یہ آیات ہیں:
“اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہنے والے بنو، اللہ کے لیے گواہی دینے والے — خواہ (گواہی) تمہارے اپنے خلاف ہو یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف۔” (سورۃ النساء:4:135)
“اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر نہ ابھارے کہ تم انصاف نہ کرو؛ انصاف کرو، یہی تقویٰ کے سب سے قریب ہے۔” (سورۃ المائدہ:5:8)
وہ اسوہ جس کے وارث عمرؓ تھے
حضرت عمرؓ نے عدل کا یہ معیار اپنے آقا ﷺ سے سیکھا تھا۔ بنو مخزوم کی ایک معزز عورت نے چوری کی؛ قریش پریشان ہوئے کہ حد کیسے بچائی جائے اور سفارش کے لیے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو بھیجا گیا۔ نبی کریم ﷺ نے سفارش پر ناراضی ظاہر کی اور خطبے میں فرمایا: “پہلی امتیں اسی لیے تباہ ہوئیں کہ جب ان کا کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو چھوڑ دیتیں، اور کمزور چوری کرتا تو حد لگا دیتیں۔ اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتیں تو میں ان کا ہاتھ کاٹ دیتا۔” (صحیح بخاری:3475) جس استاد کا یہ معیار ہو، اس کے شاگرد عمرؓ کا اپنے ہی دیے ہوئے وعدے کے آگے بے بس ہو جانا کوئی حیرت کی بات نہیں۔
فاروقی عدل کا ایک اور رنگ: نابینا بوڑھا اور بیت المال
حضرت عمرؓ کے عدل کا دائرہ مسلمانوں تک محدود نہ تھا۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے “کتاب الخراج” میں نقل کیا ہے کہ آپؓ نے ایک نابینا بوڑھے یہودی کو بھیک مانگتے دیکھا؛ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ بڑھاپے اور جزیے کی ادائیگی کی مجبوری نے اسے بھیک پر لگا دیا ہے۔ آپؓ اسے گھر لے گئے، اپنی طرف سے مدد کی، اور بیت المال کے خزانچی کو حکم دیا کہ ایسے تمام نادار بوڑھوں کا وظیفہ مقرر کر دیا جائے۔ فرمایا: “اللہ کی قسم! ہم نے اس کے ساتھ انصاف نہیں کیا — اس کی جوانی میں ہم نے اس سے ٹیکس لیا اور بڑھاپے میں اسے بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔” یہی احساسِ ذمہ داری آپؓ کے اس مشہور قول میں بھی جھلکتا ہے کہ اگر فرات کے کنارے کوئی بکری بھی ضائع ہو گئی تو مجھے خوف ہے کہ اللہ مجھ سے اس کے بارے میں پوچھے گا۔
ایک دیانت دارانہ نوٹ
اس مضمون کی پہلی حکایت (فارس کا شہزادہ) اصلاحی حکایات کی کتابوں میں منقول ہے؛ اس کی اسنادی حیثیت وہی ہے جو عام حکایات کی ہوتی ہے — اسے ہم نے اسی درجے میں پیش کیا ہے۔ البتہ اس کا سبق — وعدے کی پابندی، امان کی حرمت اور قانون کے سامنے حاکم کی برابری — قرآن کی آیات اور صحیح بخاری کی حدیث سے پوری طرح ثابت ہے، اور حضرت عمرؓ کے عدل کے متعدد واقعات مستند کتب (مثلاً کتاب الخراج) میں بھی موجود ہیں۔ دین کی بات میں یہی احتیاط ہمارا اصول ہے: جو ثابت ہے اسے ثابت کہنا، اور جو حکایت ہے اسے حکایت ہی کہنا۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
سوال: حضرت عمرؓ کو “فاروق” کس نے اور کیوں کہا؟
جواب: “فاروق” کا مطلب ہے حق و باطل میں واضح فرق کرنے والا۔ یہ لقب آپؓ کو آپ کے اسی مزاج کی وجہ سے ملا — ہر فیصلے میں دلیل اور انصاف کی لکیر کھینچ دینا آپؓ کی پہچان تھی۔
سوال: کیا کسی غیر مسلم کو دیا ہوا وعدہ بھی نبھانا واجب ہے؟
جواب: جی ہاں۔ امان اور وعدے کا حکم عام ہے؛ آیتِ توبہ (9:6) میں مشرک کو دی گئی پناہ کا تحفظ فرض قرار دیا گیا ہے۔ وعدہ خلافی نفاق کی نشانیوں میں سے ہے، چاہے دوسرا فریق کوئی بھی ہو۔
سوال: حضرت عمر فاروقؓ کے مزید واقعات کہاں پڑھوں؟
جواب: ہماری سائٹ پر آپؓ کے اخلاق و عادات پر الگ مضمون موجود ہے: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اخلاق و عادات — اور مزید ایمان افروز حکایات کے لیے واقعات کا صفحہ دیکھیں۔
خلاصہ یہ کہ فارس کے شہزادے کی حکایت آخر میں جس ایک سچ کو روشن کرتی ہے، وہ اسلام کی حقانیت ہے: وہ نظام جس میں وقت کا خلیفہ اپنے دیے ہوئے ایک جملے کے آگے رک جائے، اور ایک اجنبی قیدی اپنی آنکھوں سے دیکھ کر کہے کہ یہ سچائی خوف سے نہیں، دل سے قبول کی جاتی ہے۔ عدل یہی ہے — اور اسی لیے چودہ سو سال گزرنے کے بعد بھی دنیا عدل کا نام لیتی ہے تو زبان پر پہلا نام عمرؓ ہی آتا ہے۔
Subhanallah
jazakumullah