Ramzan ki zakat ki hifazat par Abu Hurairah (RA) muqarrar thay. Teen raaton tak ek chor aata raha — aur teesri raat us ne woh kalimaat sikha diye jin se subah tak shaitan qareeb nahi aata: Ayat al-Kursi. Ye waqia Sahih Bukhari 2311 mein apni puri tafseel ke saath mojood hai.
ایک چور، تین راتیں، اور آخر میں وہ سبق جو خود شیطان دے گیا۔ یہ واقعہ صحیح بخاری کی مشہور ترین روایات میں سے ہے، کیونکہ اس میں آیت الکرسی کی سب سے بڑی فضیلت ایک ایسی گواہی کے ساتھ ثابت ہے جس کی تصدیق خود رسول اللہ ﷺ نے فرمائی۔
پہلی رات: چور پکڑا گیا
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے رمضان کی زکاۃ (صدقۂ فطر کے اناج) کی حفاظت پر مقرر فرمایا۔ رات کو ایک شخص اچانک آیا اور اناج میں سے لپ بھر بھر کر اٹھانے لگا۔ میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا: اللہ کی قسم! میں تجھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے چلوں گا۔ اس نے کہا: میں بہت محتاج ہوں، میرے بال بچے ہیں اور میں سخت ضرورت مند ہوں۔ اس کی منت سماجت پر حضرت ابو ہریرہؓ نے اسے چھوڑ دیا۔
صبح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “ابو ہریرہ! تمہارے کل رات والے قیدی کا کیا ہوا؟” انہوں نے واقعہ سنایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: “سُنو! اس نے تم سے جھوٹ بولا ہے اور وہ پھر آئے گا۔” حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں: مجھے یقین ہو گیا کہ وہ ضرور لوٹے گا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرما دیا تھا۔
دوسری اور تیسری رات
دوسری رات وہ پھر آیا، پھر لپ بھر کر اٹھانے لگا، پکڑا گیا، پھر وہی محتاجی کا عذر — اور پھر چھوڑ دیا گیا۔ صبح آپ ﷺ نے پھر وہی فرمایا: “اس نے جھوٹ بولا ہے اور وہ پھر آئے گا۔”
تیسری رات حضرت ابو ہریرہؓ نے پختہ ارادے سے اسے پکڑا اور کہا: اس بار میں تجھے ضرور رسول اللہ ﷺ کے پاس لے جاؤں گا؛ یہ تیسری مرتبہ ہے کہ تو کہتا ہے پھر نہیں آؤں گا اور پھر آ جاتا ہے۔ اب چور نے آخری حربہ آزمایا: “مجھے چھوڑ دو، میں تمہیں چند کلمات سکھاتا ہوں جن سے اللہ تمہیں نفع دے گا۔” حضرت ابو ہریرہؓ — جن کے بارے میں روایت کہتی ہے کہ صحابہ خیر کی بات سیکھنے کے سب سے زیادہ حریص تھے — پوچھا: وہ کلمات کیا ہیں؟
اس نے کہا: “جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو آیت الکرسی (اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ) شروع سے آخر تک پڑھ لیا کرو؛ (اگر ایسا کرو گے تو) اللہ کی طرف سے ایک نگہبان تم پر مقرر رہے گا اور صبح تک کوئی شیطان تمہارے قریب نہیں آئے گا۔” حضرت ابو ہریرہؓ نے اسے چھوڑ دیا۔
صبح رسول اللہ ﷺ نے پوچھا تو پورا قصہ سنا، اور پھر وہ جملہ فرمایا جو اس روایت کی شان ہے: “أَمَا إِنَّهُ قَدْ صَدَقَكَ وَهُوَ كَذُوبٌ” — “سنو! اس نے تم سے سچ کہا، حالانکہ وہ بڑا جھوٹا ہے۔” پھر فرمایا: “ابو ہریرہ! جانتے ہو تین راتوں سے تم کس سے باتیں کر رہے تھے؟ وہ شیطان تھا۔”
مکمل روایت: صحیح بخاری: 2311 — اور دارالافتاء بنوری ٹاؤن کراچی نے بھی اسے سند کے اعتبار سے صحیح اور قابلِ بیان قرار دیا ہے۔
آیت الکرسی — مکمل متن اور ترجمہ
جس آیت کی طرف شیطان نے رہنمائی کی، وہ قرآن کی عظیم ترین آیت ہے — سورت البقرہ: 255 (قرآن: 2/255):
اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ۚ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۖ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
ترجمہ: “اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندہ ہے، سب کو قائم رکھنے والا ہے۔ اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ کون ہے جو اس کے حضور اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے؟ وہ جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے، اور لوگ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے۔ اس کی کرسی آسمانوں اور زمین پر پھیلی ہوئی ہے اور ان کی حفاظت اسے تھکاتی نہیں۔ اور وہی سب سے بلند، سب سے عظیم ہے۔”
ایک ضروری وضاحت: بخاری کے مختلف نمبر
یہی حدیث صحیح بخاری میں کئی مقامات پر آئی ہے، اس لیے کہیں اس کا نمبر 2311 (کتاب الوکالہ) ملتا ہے، کہیں 3275 (بدء الخلق) اور کہیں 5010 (فضائل القرآن) — یہ تینوں ایک ہی واقعے کی روایتیں ہیں، مختلف ابواب میں۔ اردو ویب سائٹس پر نمبر کا یہ فرق دیکھ کر قارئین الجھتے ہیں؛ اصل بات یہ ہے کہ روایت صحیح بخاری سے ثابت ہے۔ روزانہ وظیفے کی مکمل ترتیب کے لیے یہ مضمون بھی پڑھیں: آیت الکرسی کا وظیفہ اور فضائل۔
The Night the Shaytan Told the Truth
Is waqie ka sab se hairan kun pehlu ye hai ke hifazat ka sab se qeemti raaz ek shaitan ne bataya — aur Nabi ﷺ ne us ki tasdeeq farmayi. Is se do baatein saabit hoti hain: ek ye ke Ayat al-Kursi ki fazilat itni musallam hai ke shaitan bhi use jhutla na saka; aur doosra ye ke khair ki baat jahan se mile, Nabi ﷺ ki tasdeeq ke baad use apna lena hi sahaba ka tareeqa tha.
اس واقعے سے اسباق
پہلا: سوتے وقت آیت الکرسی شروع سے آخر تک پڑھنا محض ایک وظیفہ نہیں — حدیث کے الفاظ میں اس پر اللہ کی طرف سے نگہبان مقرر ہوتا ہے اور صبح تک شیطان قریب نہیں آتا۔
دوسرا: اپنے بچوں کو یہ آیت ضرور سکھائیں — جس حفاظت کا وعدہ ابو ہریرہؓ کو ملا، وہ ہر مومن کے لیے ہے۔
تیسرا: دھوکہ دہی اور جھوٹ کی سزا دینے میں جلدی کے بجائے صحابہؓ کی وہ صفت اپنائیں جو روایت نے خاص طور پر ذکر کی: وہ خیر کی بات کے سب سے زیادہ حریص تھے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا آیت الکرسی آواز سے پڑھنا ضروری ہے؟
حدیث میں مطلقاً پڑھنے کا ذکر ہے؛ دل کی توجہ کے ساتھ پڑھنا کافی ہے، اور بستر پر لیٹے ہوئے پڑھنا ہی اس واقعے کا سیاق ہے۔
کیا واقعی جن/شیطان چیزیں چرا سکتا ہے؟
اس صحیح روایت کے مطابق شیطان انسانی صورت میں آیا اور اناج اٹھایا؛ اس واقعے کو اہلِ علم نے اسی طرح بیان کیا ہے جیسا روایت میں آیا۔