القرآن الکریممسنون دعائیں

محرم الحرام: احترام والا مہینہ اور اس کی فضیلت

محرم الحرام کی فضیلت: ہلال اور مسجد کے میناروں کی تصویر

محرم الحرام اسلامی کیلنڈر کا پہلا مہینہ ہے اور اسے اسلامی تاریخ میں انتہائی احترام اور تقدیس کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ مہینہ نہ صرف ہجری سال کا آغاز ہے بلکہ ان چار مہینوں میں سے بھی ایک ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں “اشہر حرم” یعنی حرمت والے مہینے قرار دیا ہے۔ ان مہینوں کی فضیلت اور ان میں عبادات کی اہمیت دیگر مہینوں سے کہیں زیادہ ہے۔ اس مضمون میں ہم محرم الحرام کی اہمیت، فضیلت اور اس سے جڑے احکامات پر تفصیلی روشنی ڈالیں گے۔

اس مضمون میں ہم محرم کی فضیلت، اشہر حرم، اسلامی کیلنڈر، یوم عاشورہ، محرم کے احکامات، اسلامی مہینے کی فضیلت کے بارے میں بھی بات کرینگے۔

اسلامی نئے سال کی دعا بھی یاد کریں۔


اشہر حرم: تقدیس اور اہمیت

اسلامی سال میں چار مہینے ایسے ہیں جنہیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے خصوصی طور پر قابل احترام ٹھہرایا ہے۔ یہ مہینے ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم الحرام اور رجب المرجب ہیں۔ ان مہینوں کی حرمت کا ذکر قرآن مجید میں واضح طور پر موجود ہے۔ اسلامی مہینوں کی فضیلت میں ان چار مہینوں کا خاص مقام ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

“حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ مہینے ہے۔ جو اللہ کی کتاب (یعنی لوح محفوظ) کے مطابق اس دن سے نافذ چلی آتی ہے جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا۔ ان (بارہ مہینوں) میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں۔”

(سورہ توبہ آیت نمبر: 36)

یہ آیت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ان چار مہینوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے خاص فضیلت عطا فرمائی ہے۔ ان مہینوں میں عبادات کا ثواب بڑھ جاتا ہے اور گناہوں کی سنگینی بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ اسی وجہ سے مسلمانوں کو ان مہینوں میں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور گناہوں سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ حرمت والے مہینے میں نیک اعمال کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔


شہر اللہ المحرم: اللہ کا مہینہ

محرم الحرام کو صرف “اشہر حرم” میں شامل ہونے کی وجہ سے ہی فضیلت حاصل نہیں، بلکہ احادیث مبارکہ میں اسے “شہر اللہ المحرم” یعنی “اللہ کا مہینہ” بھی کہا گیا ہے۔ یہ نسبت اس مہینے کی عظمت اور تقدس میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ محرم کی اہمیت اس کی منفرد حیثیت سے اجاگر ہوتی ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

“رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں۔”

(صحیح مسلم، کتاب الصیام، حدیث نمبر: 1163)

اس حدیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ محرم میں روزہ رکھنا بہت زیادہ اجر و ثواب کا باعث ہے۔ خاص طور پر یوم عاشورہ (دس محرم) کا روزہ اپنی ایک الگ فضیلت رکھتا ہے جس کی تفصیل آگے آئے گی۔ “اللہ کا مہینہ” کا خطاب کسی دوسرے مہینے کو نہیں دیا گیا، جو محرم کی منفرد فضیلت کو نمایاں کرتا ہے۔


محرم میں عبادات کا اجر اور گناہوں سے اجتناب

چونکہ محرم ایک واجب الاحترام مہینہ ہے، اس لیے اس میں نیک اعمال کا اجر و ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس ماہ میں درج ذیل اعمال کا خصوصی اہتمام کریں: محرم میں نیک اعمال کی بہت فضیلت ہے۔

  • کثرت سے نوافل: نمازوں کے علاوہ زیادہ سے زیادہ نوافل ادا کیے جائیں۔
  • تلاوت قرآن مجید: قرآن پاک کی تلاوت میں اضافہ کیا جائے۔
  • ذکر و اذکار: تسبیح و تہلیل، درود شریف اور دیگر اذکار کی کثرت کی جائے۔
  • صدقہ و خیرات: ضرورت مندوں کی مدد کی جائے اور زیادہ سے زیادہ صدقہ دیا جائے۔
  • روزے: خاص طور پر 9 اور 10 محرم (تاسوعا اور عاشورہ) کے روزے رکھے جائیں۔ محرم کے روزے کی فضیلت بے پناہ ہے۔
  • استغفار: اپنے گناہوں پر ندامت کا اظہار کیا جائے اور اللہ سے توبہ کی جائے۔

اسی طرح، ان مہینوں میں گناہ کرنا بھی دوسرے مہینوں کے مقابلے میں زیادہ سخت گناہ شمار ہوتا ہے۔ لہٰذا، مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ گناہوں، ظلم و ستم، اور آپسی جھگڑوں سے بچنے کا پورا اہتمام کریں۔ خاص طور پر کسی بھی قسم کی لڑائی جھگڑے، فساد اور فتنہ پروری سے مکمل اجتناب برتا جائے۔ حرمت والے مہینے میں گناہ سے بچنا نہایت اہم ہے۔


یوم عاشورہ: فضیلت اور تاریخی اہمیت

محرم الحرام کے مہینے کا سب سے اہم دن دس محرم ہے، جسے یوم عاشورہ کہا جاتا ہے۔ اس دن کو اسلامی تاریخ میں کئی اہم واقعات سے جوڑا گیا ہے۔ عاشورہ کا دن اسلامی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عاشورہ کے روزے کی بہت زیادہ فضیلت بیان فرمائی ہے۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

“عاشورہ کے دن کا روزہ، مجھے اللہ پر امید ہے کہ وہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔”

(صحیح مسلم، کتاب الصیام، حدیث نمبر: 1162)

یہ اس روزے کی عظیم فضیلت کو ظاہر کرتا ہے۔ تاریخی طور پر، اس دن حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو فرعون کے ظلم سے نجات ملی تھی۔ یوم عاشورہ کی تاریخ بہت پرانی ہے۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں

“جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے یہود کو عاشورہ کے دن روزہ رکھتے دیکھا۔ آپ نے پوچھا: ‘یہ کون سا دن ہے کہ تم روزہ رکھتے ہو؟’ انہوں نے کہا: ‘یہ ایک عظیم دن ہے۔ اس دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کو (فرعون سے) نجات دی اور فرعون اور اس کی قوم کو (دریائے نیل میں) غرق کر دیا۔ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اس پر شکرانے کے طور پر روزہ رکھا، اس لیے ہم بھی روزہ رکھتے ہیں۔’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘ہم موسیٰ (علیہ السلام) کے زیادہ حقدار ہیں تم سے۔’ پھر آپ نے (خود بھی) روزہ رکھا اور اس کے روزے کا حکم دیا۔”

(صحیح بخاری، کتاب الصوم، حدیث نمبر: 2004)


تاسوعا (9 محرم) کے روزے کی اہمیت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کی مشابہت سے بچنے کے لیے یوم عاشورہ کے ساتھ نو محرم (تاسوعا) کا روزہ رکھنے کی بھی ترغیب دی ہے۔ 9 محرم کا روزہ سنت ہے۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

“اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو نویں (محرم) کا بھی روزہ رکھوں گا۔”

(صحیح مسلم، کتاب الصیام، حدیث نمبر: 1134)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ خواہش ظاہر کرتی ہے کہ دس محرم کے ساتھ نو محرم کا روزہ رکھنا سنت ہے۔ لہٰذا، مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ 9 اور 10 محرم دونوں دن کا روزہ رکھیں۔ تاسوعا اور عاشورہ کے روزے مل کر افضل ترین عمل بنتے ہیں۔


محرم سے متعلق غلط فہمیاں اور ان کی اصلاح

یہ بدقسمتی ہے کہ محرم الحرام کے ساتھ کئی غلط فہمیاں اور بدعات بھی منسوب ہو گئی ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ان میں سے چند یہ ہیں: محرم کی بدعات سے بچنا اہم ہے۔

  • سوگ منانا: محرم کو غم اور سوگ کا مہینہ سمجھنا اور خود کو دکھاوے کے لیے پریشان کرنا۔ اسلام غم منانے جائز نہیں اور اسی طرح شدت پسندی یا خود کو نقصان پہنچانا جائز نہیں۔
  • خاص رسومات کی ادائیگی: محرم میں ایسی رسومات ادا کرنا جو شرعی طور پر ثابت نہیں، جیسے ماتم، تعزیہ داری، یا مخصوص پکوانوں کو لازم سمجھنا۔ غیر شرعی رسومات سے پرہیز کریں۔
  • شادی بیاہ کو منحوس سمجھنا: محرم میں شادیوں اور دیگر خوشی کی تقریبات کو منحوس سمجھنا اور ان سے اجتناب کرنا قطعی طور پر غلط ہے۔ شریعت میں ایسی کوئی ممانعت موجود نہیں۔

اہم نکتہ:

اسلام ہمیں اعتدال اور میانہ روی کا درس دیتا ہے۔ کسی بھی عمل میں غلو کرنا یا بدعات ایجاد کرنا دین کا حصہ نہیں ہے۔ ہمیں قرآن و سنت کی روشنی میں اور صحابہ کرام تعبداری میں  ہی اپنے اعمال کو درست کرنا چاہیے۔


ٹیبل: محرم الحرام اور دیگر اشہر حرم کا موازنہ

خصوصیت

محرم الحرام

دیگر اشہر حرم (ذوالقعدہ، ذوالحجہ، رجب)

فضیلت

“شہر اللہ” کہلایا

حرمت والے مہینے

روزہ

عاشورہ کا روزہ (بہت افضل)

نفل روزوں کی ترغیب موجود

عبادت

اجر میں کئی گنا اضافہ

نیک اعمال کا اجر بڑھتا ہے

گناہ کی سنگینی

بہت زیادہ

دوسروں مہینوں سے زیادہ

خاص واقعہ

موسیٰ (ع) کی نجات

حج (ذوالحجہ)


محرم الحرام میں اخلاقی اقدار کی ترویج

محرم کا مہینہ ہمیں نہ صرف عبادات کی طرف راغب کرتا ہے بلکہ اخلاقی اقدار اور بھائی چارے کو بھی فروغ دینے کا درس دیتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں صبر، استقامت، حق پرستی اور قربانی کی یاد دلاتا ہے لہذا ہمیں اسلامی اخلاقیات کو بھی فروغ دینا چاہیے۔

  • صبر اور استقامت: تاریخ اسلام کے کئی اہم واقعات صبر اور استقامت کی مثالیں پیش کرتے ہیں۔
  • عدل و انصاف: ہمیں اس مہینے میں عدل و انصاف کے قیام اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا عہد کرنا چاہیے۔
  • اتحاد و یگانگت: مسلمانوں کو آپسی اختلافات بھلا کر اتحاد اور یگانگت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
  • قربانی کا جذبہ: باطل کے خلاف حق کی سربلندی کے لیے قربانی کے جذبے کو پروان چڑھانا چاہیے۔

ویڈیو: محرم الحرام کی فضیلت اور احکامات

محرم الحرام کی مزید گہرائی میں فضیلت اور اس سے متعلق شرعی احکامات کو سمجھنے کے لیے آپ یہ معلوماتی ویڈیو دیکھ سکتے ہیں:

https://www.youtube.com/watch


اہم نکات

  • محرم الحرام “اشہر حرم” میں سے ایک ہے اور اسے “شہر اللہ المحرم” کہا گیا ہے۔
  • اس ماہ میں عبادات کا ثواب بڑھ جاتا ہے اور گناہوں کی سنگینی زیادہ ہوتی ہے۔
  • یوم عاشورہ (10 محرم) کا روزہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔
  • 9 محرم (تاسوعا) کا روزہ بھی سنت ہے تاکہ یہود سے مشابہت نہ ہو۔
  • محرم سے متعلق کسی بھی قسم کی بدعات اور غیر شرعی رسومات سے اجتناب ضروری ہے۔
  • یہ مہینہ ہمیں صبر، استقامت، عدل اور اتحاد کا درس دیتا ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

1. محرم الحرام کو حرمت والا مہینہ کیوں کہا جاتا ہے؟

محرم کو حرمت والا مہینہ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اسے ان چار مہینوں (اشہر حرم) میں سے ایک قرار دیا ہے جن میں عبادات کا ثواب بڑھ جاتا ہے اور گناہ کرنا زیادہ سنگین ہوتا ہے۔ اسے “شہر اللہ” بھی کہا گیا ہے جو اس کی خصوصی تقدیس کا مظہر ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارے اسلامی مہینوں کے نام والا صفحہ پڑھیں۔

2. یوم عاشورہ کا روزہ رکھنا کیوں ضروری ہے؟

یوم عاشورہ (10 محرم) کا روزہ رکھنا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور اس کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ یہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فرعون سے نجات کا دن بھی ہے۔ عاشورہ کے روزے کی فضیلت بہت زیادہ ہے۔

3. کیا محرم میں شادی بیاہ کرنا جائز ہے؟

جی ہاں، محرم میں شادی بیاہ کرنا بالکل جائز ہے۔ شرعی طور پر ایسی کوئی ممانعت موجود نہیں ہے۔ یہ صرف ایک غلط فہمی اور معاشرتی بدعت ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ شادی کیلئے مجرب وظیفہ کے بارے میں جانیں۔

4. 9 محرم (تاسوعا) کا روزہ کیوں رکھا جاتا ہے؟

9 محرم کا روزہ 10 محرم کے روزے کے ساتھ اس لیے رکھا جاتا ہے تاکہ یہود کی مشابہت سے بچا جا سکے جو صرف 10 محرم کا روزہ رکھتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا تھا۔

5. محرم میں ماتم یا تعزیہ داری کا کیا حکم ہے؟

اسلام میں ماتم کرنا، خود کو نقصان پہنچانا یا غیر شرعی طریقوں سے غم کا اظہار کرنا جائز نہیں۔ یہ بدعات میں شامل ہیں۔ صبر اور اللہ کی رضا پر راضی رہنا اسلام کی تعلیم ہے۔

6. محرم میں ظلم و ستم سے کیوں بچنا چاہیے؟

چونکہ محرم ایک حرمت والا مہینہ ہے، اس میں گناہوں کی سنگینی بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے ہر قسم کے ظلم و ستم، لڑائی جھگڑوں اور فساد سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے تاکہ اللہ کی ناراضگی سے بچا جا سکے۔

7. محرم میں مسلمان کو کس طرح اپنا وقت گزارنا چاہیے؟

مسلمانوں کو محرم میں زیادہ سے زیادہ عبادات، ذکر و اذکار، تلاوت قرآن، صدقہ و خیرات اور استغفار میں مشغول رہنا چاہیے۔ گناہوں سے بچنے، اتحاد و یگانگت کو فروغ دینے اور اخلاقی اقدار کو اپنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔


حوالہ جات


Leave a Comment

Your email will not be published. Required fields are marked *