واضح رہے اگر کوئی شخص اپنی غیر مدخولہ بہا عورت ( یعنی وہ منکوحہ جس سے رخصتی یا تنہائی نہیں ہوئی) کو ایک ہی جملے میں کہے کہ: "میں نے تجھے تین طلاقیں دیں"، تو اس پر تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔ اور اگر طلاق کے الفاظ کو الگ الگ کر کے کہے، مثلاً: "تجھے طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے"، تو اس صورت میں صرف پہلی طلاق واقع ہوگی اور دوسری و تیسری واقع نہیں ہوگی۔ صورتِ مسؤلہ کے مطابق اگر واقعی اس شخص نے اپنی منکوحہ کے بارے میں فون پر یہ الفاظ کہ " وہ مجھ پر تین شرطوں کے ساتھ طلاق ہے "، تین دفعہ کہے ہوں، اور وہاں کے عرف میں "تین شرطوں کے ساتھ طلاق دینا" طلاقِ مغلظ ہی شمار ہوتی ہو تو ایسی صورت میں یہ لڑکی اس سے تین طلاقوں کے ساتھ جدا ہوئی ہے، بعد میں اس کے لیے اُس کے بیوی ہونے کا دعوی کرنا جائز نہیں، اور نہ ہی اُس کے باپ کے لیے یہ جائز ہے کہ اُس کو اپنی بہو سمجھے۔ البتہ شریعت میں اس عمل کے لیے کوئی مخصوص "حد" (جیسے چوری یا زنا کی سزا) مقرر نہیں ہے، لیکن یہ تعزیر کے زمرے میں آتا ہے۔ تعزیر کا مطلب: وہ سزا جو قانون کی روشنی میں حاکمِ وقت یا قاضی (جج) جرم کی نوعیت دیکھ کر طے کرتا ہے۔ گویا ایسے دعوی کرنے والوں کی سرزنش کرنا قاضی کی صوابدید پر موقوف ہے۔ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: "إِذَا طَلَّقَ الْبِكْرَ وَاحِدَةً فَقَدْ بَتَّهَا، وَإِذَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ."(مصنف ابن أبي شیبة کتاب الطلاق، في الرجل یتزوج المرأة ثم یطلقها،ج:4 ص:18) إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها؛لأن الوقاع مصدر محذوف لأن معناه طلاقا بائنا على ما بيناه فلم يكن قوله أنت طالق إيقاعا على حدة فيقعن جملة " فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة." (الهدایة،کتاب الطلاق،فصل فی الطلاق قبل الدخول،ج:3،ص:167) والتعزير ليس فيه تقدير بل هو مفوض إلى رأي القاضي وعليه مشايخنا زيلعي لأن المقصود منه الزجر، وأحوال الناس فيه مختلفة. (الدرالمختارعلی صدر رد المحتار، کتاب الحدود، باب التعزیر، 6/ 106) فتویٰ نمبر : 7371/297/324 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2026-05-03 کتاب الطلاق
اپنی منکوحہ کوفون پر تین طلاقیں دینے کا حکم
سوال
اگر کوئی شخص اپنی منکوحہ (جس کی رُخصتی نہ ہوئی ہو) کےبارے میں فون پریہ الفاظ کہ " وہ مجھ پر تین شرطوں کے ساتھ طلاق ہے " تین دفعہ کہے، تو اس سے طلاقیں واقع ہوتی ہیں یا نہیں؟ یاد رہے کہ ہمارے کوہستان کے عرف میں "تین شرطوں کے ساتھ طلاق دینا" طلاقِ مغلظ ہی شمار ہوتی ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ کسی شوہر کا تین طلاقیں دینے کے بعد یہ دعوی کرنا کہ وہ عورت میری بیوی ہے یااُس لڑکے کے باپ کا یہ کہنا کہ وہ عورت میری بہو ہے، جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز نہیں تو ایسے دعوی کرنے والوں کے لیے شریعت کیا سزا تجویز کرتی ہے؟
جواب
Related Fatwas
سی سی ٹی وی کیمرہ لگانا
سی سی ٹی وی کیمرہ لگانا کیسا ہے؟جیسے دوکان میں یا گھر کے دروازے پر یاسکولوں اور مدرسوں وغیرہ میں لگایا جاتا…
وراثتی زمین کی تقسیم میں پٹواری کی غلط قیمت پر اعتماد کے نتیجے میں کی گئی تقسیم کا شرعی حکم
زمین کا ایک بہت بڑا ٹکڑا ورثاء میں تقسیم ہوگیاہے،(زبانی تقسیم)مطلب حلقہ پٹوارمیں کسی قسم کے اندراج کی صورت میں یہ تقسیم…
بیٹے کو ہبہ کی گئی بکریاں واپس لینا
ہمارے والد صاحب نے اپنا ترکہ (مال) ہمارے درمیان تقسیم کیا تھا، جس میں کچھ بکریاں بھی شامل تھیں۔ تقسیم کے بعد…
ایزی پیسہ سیونگ اکاؤنٹ میں رقم رکھ کر منافع حاصل کرنا
ایزی پیسہ ایپ میں ایک آپشن ہے سیونگ اکاؤنٹ کا ،اس میں اگر کوئی ایک متعین مدت کے لیے رقم رکھ دے …
الکحل ملی ادویات کااستعمال
آج کل بازارمیں دستیاب بعض انگریزی دواؤں میں الکحل کااستعمال کیا جاتا ہے۔کیا ایسی دواؤں کا استعمال شرعی اعتبار سے جائز ہے…
فیصلے سے انکار کی صورت میں ثالثین فریقین سے جمع شدہ پیسے لینا
بعض علاقوں میں رائج ثالثانِ جرگہ کے طریقۂ کار کے مطابق فریقین ثالثوں کے پاس ایک متعین رقم (مثلاً دو لاکھ یا…