غم انسان کی زندگی کا وہ بوجھ ہے جو نظر نہیں آتا مگر دل کو تھکا دیتا ہے۔ کسی عزیز کی جدائی، ناکامی، بیماری یا گزری ہوئی باتوں کا دکھ — ہر انسان کبھی نہ کبھی اس کیفیت سے گزرتا ہے۔ اسلام غم کو کمزوری نہیں سمجھتا؛ خود نبی کریم ﷺ نے غم سے پناہ مانگی اور صحابہؓ کو اس کے ازالے کی دعائیں سکھائیں۔ اس مضمون میں غم اور فکر دور کرنے کی مستند مسنون دعائیں، ایک صحابیؓ کا آزمودہ واقعہ اور قرآن کی امید بھری رہنمائی پیش ہے۔
غم سے نجات کی سب سے جامع دعا
حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ یہ دعا کثرت سے پڑھا کرتے تھے — غم سے نجات کے لیے یہ سب سے جامع نبوی دعا ہے:
ترجمہ: اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں فکر اور غم سے، عاجزی اور سستی سے، بزدلی اور بخل سے، قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے غلبے سے۔
اس دعا کی خوبی یہ ہے کہ یہ غم کی جڑوں کو بھی گھیرتی ہے: آنے والے کل کی فکر (الْهَمّ)، گزری بات کا دکھ (الْحَزَن)، اور قرض و معاشی دباؤ — جو آج کے بیشتر غموں کی اصل وجہ ہیں۔
حضرت ابو امامہؓ کا واقعہ — غم اور قرض دونوں دور ہو گئے
حضرت ابو سعید خدریؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف لائے تو ایک انصاری صحابی، ابو امامہؓ، نماز کے وقت کے علاوہ مسجد میں بیٹھے تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ابو امامہ! تم نماز کے وقت کے بغیر مسجد میں کیوں بیٹھے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے غموں اور قرضوں نے گھیر رکھا ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی دعا نہ سکھاؤں کہ جب تم اسے کہو گے تو اللہ تمہارا غم دور کر دے گا اور تمہارا قرض ادا کرا دے گا؟ پھر یہی دعا سکھائی (جو اوپر درج ہے) اور فرمایا کہ اسے صبح و شام کہا کرو۔
حضرت ابو امامہؓ فرماتے ہیں: میں نے ایسا ہی کیا تو اللہ نے میرا غم دور کر دیا اور میرا قرض ادا کرا دیا۔
سبق یہ ہے کہ غم کا حل مسجد سے جڑنے، دعا کا معمول بنانے اور اللہ پر بھروسے میں ہے — غم میں انسان کو تنہائی نہیں، اللہ کی طرف رجوع اختیار کرنا چاہیے۔
غمگین کے لیے خاص دعا — قرآن کو دل کی بہار بنانے کی التجا
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کو کوئی غم یا دکھ پہنچے اور وہ یہ دعا پڑھے تو اللہ اس کا غم اور دکھ دور کر کے اس کی جگہ کشادگی عطا فرماتا ہے۔ صحابہؓ نے پوچھا: کیا ہم یہ دعا سیکھ نہ لیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیوں نہیں، جو سنے اسے یہ سیکھ لینی چاہیے:
ترجمہ: اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا اور تیری بندی کا بیٹا ہوں۔ میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، مجھ پر تیرا حکم جاری ہے، میرے بارے میں تیرا فیصلہ عدل ہے۔ میں تجھ سے تیرے ہر اس نام کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جو تو نے خود اپنا رکھا، یا اپنی کتاب میں نازل فرمایا، یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا، یا علمِ غیب میں اپنے پاس مخصوص رکھا — کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار، میرے سینے کا نور، میرے غم کا ازالہ اور میری فکر کا خاتمہ بنا دے۔
— مسند احمد: 3712 (علامہ البانیؒ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے — السلسلۃ الصحیحۃ: 199)
دعائے یونسؑ — ہر غم اور مشکل کی کنجی
حضرت یونسؑ نے مچھلی کے پیٹ کے اندھیروں میں یہ دعا مانگی تھی، اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کوئی مسلمان کسی بھی معاملے میں اس دعا سے اللہ کو پکارے تو اللہ اس کی دعا ضرور قبول فرماتا ہے:
ترجمہ: تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی ظالموں میں سے تھا۔
— قرآن: سورۃ الانبیاء: 87؛ جامع ترمذی: 3505
پریشان حال کی دعا — جب دل بالکل بے بس ہو جائے
نبی کریم ﷺ نے بے بس اور پریشان حال شخص کی دعا یہ بیان فرمائی:
ترجمہ: اے اللہ! میں تیری ہی رحمت کی امید رکھتا ہوں، پس مجھے پلک جھپکنے کے برابر بھی میرے نفس کے سپرد نہ کر، اور میرے تمام معاملات درست فرما دے۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔
درود شریف — غم کی کفایت کا وعدہ
حضرت ابی بن کعبؓ نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ میں اپنی دعاؤں کا کتنا حصہ آپ پر درود کے لیے رکھوں؟ بات بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچی کہ انہوں نے کہا: میں اپنی ساری دعا آپ پر درود ہی رکھ لیتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تب تمہارا غم تمہارے لیے کافی کر دیا جائے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔
— جامع ترمذی: 2457 (امام ترمذی نے اسے حسن کہا ہے)
اس لیے غم کے دنوں میں درود شریف کی کثرت خاص طور پر مفید ہے۔ درود کے فضائل پر تفصیل ہماری درود شریف کی فضیلت والے مضمون میں موجود ہے۔
قرآن کی امید — مایوسی حرام ہے
غم کے وقت سب سے بڑا سہارا یہ یقین ہے کہ اللہ نے تنگی کے ساتھ آسانی رکھی ہے:
ترجمہ: پس بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ یقیناً تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔
اور اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے کہ اس کی رحمت سے مایوس ہونا گمراہوں کا کام ہے؛ وہ فرماتا ہے: “اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔” (سورۃ الزمر: 53) غم جتنا بھی بڑا ہو، اللہ کی رحمت اس سے بڑی ہے۔
غم کے وقت یہ عملی باتیں بھی اپنائیں
- نماز سے مدد لیں: نبی کریم ﷺ کو جب کوئی اہم معاملہ پیش آتا تو نماز کی طرف لپکتے تھے۔ غم کے وقت دو رکعت نماز اور لمبا سجدہ دل کا بوجھ ہلکا کرتا ہے۔
- صبح و شام کے اذکار: ابو امامہؓ والی دعا کا اصل معمول صبح و شام تھا — ہمارے صبح و شام کے مسنون اذکار اس کا مکمل مجموعہ ہیں۔
- غم دل میں نہ رکھیں: کسی قابلِ اعتماد شخص سے بات کرنا اور حل کی عملی کوشش کرنا بھی سنت کے مطابق ہے — دعا اور اسباب ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔
- طویل اداسی کی صورت میں: اگر اداسی اور بے دلی کئی ہفتے برقرار رہے اور نیند و بھوک متاثر ہو تو دعا کے ساتھ ماہر ڈاکٹر یا معالج سے رجوع کریں؛ علاج کرانا توکل کے خلاف نہیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
غم اور فکر کی دعا کون سی ہے؟
“اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ” — یہی وہ دعا ہے جو نبی کریم ﷺ کثرت سے پڑھتے تھے (صحیح بخاری: 6369) اور جسے حضرت ابو امامہؓ کو صبح و شام پڑھنے کی تلقین فرمائی تھی (سنن ابو داؤد: 1555)۔
غم اور پریشانی کی دعا میں کیا فرق ہے؟
علماء نے فرق بیان کیا ہے: الْهَمّ (فکر/پریشانی) آنے والے معاملے کی تشویش ہے، جبکہ الْحَزَن (غم) گزری ہوئی بات کا دکھ ہے۔ نبوی دعا دونوں کو سمیٹتی ہے۔ صرف پریشانی اور بے چینی کے لیے ہماری دل کی بے چینی کی دعا بھی دیکھیں۔
غم اور قرض کی دعا کون سی ہے؟
حضرت ابو امامہؓ کی آزمودہ دعا یہی ہے جو اوپر درج ہے — ان کے غم بھی دور ہوئے اور قرض بھی ادا ہوا۔ قرض کی مزید مسنون دعائیں ہماری قرض کی ادائیگی کی دعا والے مضمون میں موجود ہیں۔
کیا غم اور اداسی گناہوں کی سزا ہوتی ہے؟
نہیں، یہ ضروری نہیں۔ غم اور آزمائش انبیاءؑ اور نیک لوگوں کو بھی آئی؛ یعقوبؑ کا غم قرآن میں مذکور ہے۔ آزمائش کبھی درجات کی بلندی اور گناہوں کی معافی کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ غم میں اللہ کی طرف رجوع کیا جائے، مایوسی سے بچا جائے۔
غم کی دعا کتنی بار پڑھیں؟
ابو امامہؓ والی دعا کے لیے حدیث میں صبح و شام کا معمول ثابت ہے۔ باقی دعائیں ضرورت اور کیفیت کے مطابق جتنی بار چاہیں پڑھ سکتے ہیں — خاص تعداد کی پابندی سنت سے ثابت نہیں۔
خلاصہ
غم کا علاج سنت نے واضح دیا ہے: صبح و شام کی نبوی دعا کو معمول بنائیں، دعائے یونسؑ اور پریشان حال کی دعا سے دل کو سہارا دیں، درود کی کثرت کریں، اور یہ یقین رکھیں کہ ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر غمگین دل کو سکون اور ہر مشکل کو آسانی سے بدل دے۔ آمین