جمعہ کا دن مسلمانوں کے لیے عید کا دن ہے — سید الایام (دنوں کا سردار)۔ اس دن کی ایک خاص فضیلت یہ ہے کہ اس میں ایک ایسی گھڑی ہے جس میں مانگی گئی دعا رد نہیں ہوتی۔ اس مضمون میں جمعہ کی دعا، قبولیت کی گھڑی، جمعہ کے دن کی مسنون دعائیں اور ان کے مستند حوالے بیان کیے گئے ہیں۔
جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی کون سی ہے؟
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: “اس میں ایک ایسی ساعت ہے کہ کوئی مسلمان بندہ اس میں کھڑے ہو کر نماز پڑھے اور اللہ سے خیر مانگے تو اللہ اسے عطا فرماتا ہے۔” (صحیح بخاری:935، صحیح مسلم:852)
اس گھڑی کی تعیین میں علماء کے دو مشہور قول ہیں:
- امام کے خطبے سے نماز تک: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت کے مطابق یہ گھڑی امام کے منبر پر بیٹھنے سے نماز مکمل ہونے تک ہے۔ (صحیح مسلم:853)
- عصر کے بعد سے مغرب تک: حضرت عبد اللہ بن سلام، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم اور امام احمد رحمہ اللہ سمیت اکثر علماء کے نزدیک یہ گھڑی عصر کے بعد دن کی آخری گھڑی ہے — اور یہی قول راجح ہے۔
حکمت یہ ہے کہ اللہ نے اس گھڑی کو پوشیدہ رکھا تاکہ بندہ پورے دن دعا کا اہتمام کرے۔
جمعہ کے دن کی 5 مسنون دعائیں اور اعمال
1۔ کثرت سے درود شریف پڑھیں
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ یہ دن مشہود ہے (فرشتے حاضر ہوتے ہیں)۔” (سنن ابی داؤد:1047) جمعہ کے دن درود کی کثرت سب سے افضل عمل ہے۔
2۔ سورۃ الکہف کی تلاوت
جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات سورۃ الکہف پڑھنے کی بڑی فضیلت آئی ہے — اس سے اگلے جمعہ تک نور حاصل ہوتا ہے۔ (المستدرك على الصحيحين للحاكم؛ شعب الإيمان للبيہقي — امام حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے) اسے جمعہ کے معمولات میں ضرور شامل کریں۔
3۔ قبولیت کی گھڑی میں دعا
عصر کے بعد سے مغرب تک کا وقت دعا کے لیے خاص کریں۔ دنیاوی حاجات، مغفرت، والدین، اولاد اور امت مسلمہ کے لیے دعا مانگیں۔ یہی وہ وقت ہے جس کے بارے میں حدیث میں بشارت ہے۔
4۔ سید الاستغفار
(یہ استغفارِ عام ہے جو صبح و شام پڑھا جاتا ہے، جمعہ کے لیے خاص نہیں — قبولیت کی گھڑی میں اس کا پڑھنا بھی باعثِ برکت ہے۔)
ترجمہ: اے اللہ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں، اور میں اپنی استطاعت کے مطابق تیرے عہد و پیمان پر قائم ہوں، میں اپنے کیے کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، میں تیرے احسانات کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں، پس مجھے بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہ نہیں بخشتا۔ (صحیح بخاری:6306)
5۔ غسل، خوشبو اور مسجد جلدی جانا
جمعہ کے دن غسل کرنا، صاف کپڑے پہننا، خوشبو لگانا اور نماز کے لیے جلدی جانا مسنون ہے۔ جو جتنی جلدی جائے گا اتنا زیادہ ثواب پائے گا۔ (صحیح بخاری:881)
جمعہ کے دن کا مسنون معمول
- فجر: غسل، صاف لباس، خوشبو
- صبح: سورۃ الکہف کی تلاوت
- دن بھر: کثرت سے درود شریف
- ظہر سے پہلے: مسجد جلدی پہنچیں، نفل پڑھیں
- خطبہ و نماز: توجہ سے خطبہ سنیں
- عصر تا مغرب: دعا و استغفار کا خصوصی اہتمام — قبولیت کی گھڑی
جمعہ کی نماز چھوڑنے کی وعید
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص سستی کی وجہ سے تین جمعہ چھوڑ دے، اللہ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔ (سنن ابی داؤد:1052) اس لیے جمعہ کی پابندی ہر مسلمان پر لازم ہے۔
جمعہ کے فضائل و احکام کی تفصیل یہاں پڑھیں: جمعہ کے فضائل، مسائل اور احکام۔ درود شریف کی فضیلت: درود شریف کی فضیلت۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
جمعہ کے دن دعا قبول ہونے کا بہترین وقت کون سا ہے؟
علماء کے راجح قول کے مطابق عصر کے بعد سے مغرب تک کا وقت قبولیت کی گھڑی ہے۔ اس وقت دعا کا خصوصی اہتمام کریں۔
کیا عورتیں گھر میں جمعہ کی دعا مانگ سکتی ہیں؟
جی ہاں، قبولیت کی گھڑی میں دعا کے لیے مسجد جانا شرط نہیں۔ عورتیں گھر میں عصر کے بعد دعا کا اہتمام کر سکتی ہیں۔
جمعہ کے دن سورۃ کہف کب پڑھیں؟
جمعہ کی رات (جمعرات مغرب کے بعد) یا جمعہ کے دن کسی بھی وقت پڑھ سکتے ہیں۔
کیا جمعہ کے دن روزہ رکھنا جائز ہے؟
صرف جمعہ کے دن کو خاص کر کے روزہ رکھنا مکروہ ہے (صحیح بخاری: 1985)، البتہ جمعرات یا ہفتے کے ساتھ ملا کر رکھنا جائز ہے۔