رات کے دو بج رہے ہیں۔ آپ بستر پر لیٹے ہیں، لیکن نیند آنکھوں سے کوسوں دور ہے۔ دماغ میں ایک ہی خیال گھوم رہا ہے — کل کیا ہوگا؟ بچوں کی فیس کہاں سے آئے گی؟ والد کی بیماری کا علاج کیسے ہوگا؟ یہ نوکری رہے گی یا نہیں؟ دل زور زور سے دھڑک رہا ہے، اور ایک انجانا خوف سینے میں گھر کر گیا ہے۔
اگر یہ کیفیت آپ کے لیے اجنبی نہیں، تو جان لیں کہ آپ اکیلے نہیں ہیں۔ آج کی تیز رفتار زندگی میں پریشانی اور بے چینی ہر دوسرے گھر کی کہانی بن چکی ہے۔ لیکن اسلام نے ہمیں اس کیفیت سے نکلنے کا ایسا نسخہ دیا ہے جو نہ صرف دل کو سکون بخشتا ہے بلکہ مسائل کے حل کے دروازے بھی کھولتا ہے — اور وہ ہے مسنون دعاؤں کا سہارا۔
اس مضمون میں ہم پریشانی دور کرنے کی مستند دعائیں پیش کریں گے جو قرآن و حدیث سے ثابت ہیں، ان کا ترجمہ اور فضیلت بیان کریں گے، اور یہ بھی بتائیں گے کہ دعا کے ساتھ کون سے عملی اقدامات آپ کی بے چینی کو ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتے ہیں۔
بے چینی کیوں ہوتی ہے؟ اسلامی نقطہ نظر
اسلامی تعلیمات کے مطابق دل کی بے چینی کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ ہے اللہ سے دوری — قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دلوں کا سکون صرف اللہ کے ذکر میں ہے۔ جب ہم نماز چھوڑ دیتے ہیں، قرآن سے دور ہو جاتے ہیں، تو دل خالی ہو جاتا ہے اور اس خلا کو پریشانی بھر دیتی ہے۔
دوسری وجہ ہے مستقبل کا خوف اور ماضی کا پچھتاوا۔ ہم یا تو گزرے ہوئے واقعات پر افسوس کرتے رہتے ہیں یا آنے والے کل کی فکر میں گھلتے رہتے ہیں۔ حال میں جینا بھول جاتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی لیے غم اور فکر سے پناہ کی دعا سکھائی — کیونکہ غم ماضی کا ہوتا ہے اور فکر مستقبل کی۔
میں نے اپنی زندگی میں دیکھا ہے کہ جو لوگ پابندی سے صبح و شام کی دعائیں پڑھتے ہیں، ان کے چہروں پر ایک عجیب اطمینان ہوتا ہے۔ حالات ان کے بھی مشکل ہوتے ہیں، لیکن ان کا دل مطمئن ہوتا ہے۔ یہی ذہنی سکون کی دعا کا کمال ہے۔
پریشانی دور کرنے کی پہلی مسنون دعا
صحیح بخاری میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے:
اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ
ترجمہ: اے اللہ! میں فکر اور غم سے تیری پناہ مانگتا ہوں، عاجزی اور سستی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، بزدلی اور بخل سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور قرض کے بوجھ اور لوگوں کے غلبے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
حوالہ: صحیح بخاری:6369
غور کریں — یہ ایک دعا میں پریشانی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے۔ فکر (مستقبل کا خوف)، غم (ماضی کا دکھ)، عاجزی (بے بسی کا احساس)، قرض (مالی پریشانی) — کوئی پہلو نہیں چھوڑا گیا۔ اسی لیے یہ دعا بے چینی ختم کرنے کی جامع دعا سمجھی جاتی ہے۔
پڑھنے کا طریقہ: صبح و شام پابندی سے پڑھیں۔ خاص طور پر جب دل گھبرا رہا ہو، وضو کر کے قبلہ رخ بیٹھ کر دل کی گہرائی سے یہ دعا مانگیں۔
دل کے سکون کے لیے دوسری دعا
جامع ترمذی میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی پریشانی لاحق ہوتی تو آپ یہ دعا پڑھا کرتے تھے:
يَا حَيُّ يَا قَيُّوْمُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيْثُ، أَصْلِحْ لِيْ شَأْنِيْ كُلَّهُ، وَلَا تَكِلْنِيْ إِلٰى نَفْسِيْ طَرْفَةَ عَيْنٍ
ترجمہ: اے ہمیشہ زندہ رہنے والے! اے ہر چیز کو قائم رکھنے والے! میں تیری رحمت سے فریاد کرتا ہوں، میرے تمام معاملات درست فرما دے، اور مجھے ایک پلک جھپکنے کے برابر بھی میرے نفس کے حوالے نہ کر۔
حوالہ: جامع ترمذی:3524
اس دعا کا آخری جملہ بہت گہرا ہے — “مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کر”۔ اکثر ہماری پریشانی کی جڑ ہمارے اپنے وسوسے ہوتے ہیں۔ ہم خود ہی سوچ سوچ کر پہاڑ کھڑا کر لیتے ہیں۔ یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ اپنے نفس کے وسوسوں سے نکل کر اللہ کی رحمت میں پناہ لیں۔
تیسری دعا — حضرت یونس علیہ السلام کی دعا
جب حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تھے — اندھیرا، تنہائی، موت کا خوف — اس وقت انہوں نے جو دعا مانگی، قرآن نے اسے قیامت تک کے لیے محفوظ کر دیا:
لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ
ترجمہ: تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے ہوں۔
حوالہ: سورۃ الانبیاء:21:87
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مسلمان بھی کسی چیز کے بارے میں یہ دعا مانگے، اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتے ہیں۔ (جامع ترمذی:3505) سوچیں — اگر مچھلی کے پیٹ جیسی مشکل میں یہ دعا کام آئی، تو آپ کی پریشانی کیا چیز ہے؟ یہ مشکل وقت کی سب سے طاقتور دعا ہے۔
چوتھی دعا — حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا اور جب صحابہ کو دشمن کے لشکر سے ڈرایا گیا، تو ان کا جواب یہی تھا:
حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ
ترجمہ: ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔
حوالہ: سورۃ آل عمران:3:173
یہ گھبراہٹ کی دعا کے طور پر سب سے مختصر اور طاقتور ہے۔ جب دل اچانک گھبرائے، یہی پڑھیں۔
پانچویں دعا — اللہ کی رحمت کی امید
سنن ابی داؤد میں روایت ہے کہ پریشان حال شخص کی دعا یہ ہے:
اَللّٰهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو، فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
ترجمہ: اے اللہ! میں تیری رحمت کی امید رکھتا ہوں، مجھے ایک پلک جھپکنے کے برابر بھی میرے نفس کے حوالے نہ کر، اور میرے تمام معاملات درست فرما دے۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔
حوالہ: سنن ابی داؤد:5090
چھٹی دعا — سینے کی کشادگی کی دعا
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے پاس جانے کا حکم ہوا تو انہوں نے یہ دعا مانگی:
رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي
ترجمہ: اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے اور میرا کام آسان کر دے۔
حوالہ: سورۃ طہ:20:25-26
امتحان، انٹرویو یا کسی مشکل کام سے پہلے یہ ذہنی سکون کی دعا پڑھیں۔
رات کو بے چینی ہو تو کیا کریں؟
رات کی تنہائی میں بے چینی اور گھبراہٹ بڑھ جاتی ہے۔ اس کے لیے یہ معمول اپنائیں:
- آیت الکرسی پڑھ کر سوئیں — رات بھر حفاظت کا ذریعہ
- تینوں قل (سورۃ اخلاص، فلق، ناس) پڑھ کر ہاتھوں پر دم کر کے پورے جسم پر پھیریں
- سونے کی دعا: اَللّٰهُمَّ بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا (صحیح بخاری:6324)
- موبائل دور رکھیں — نیلی روشنی بے چینی بڑھاتی ہے
یہ معمول نیند نہ آنے کی پریشانی کا بہترین علاج ہے۔
سخت پریشانی اور گھریلو پریشانیوں کا حل
کبھی سخت پریشانی ایسی ہوتی ہے کہ دل چاہتا ہے کوئی پریشانی کا فوری حل مل جائے۔ یاد رکھیں — اللہ کی مدد اچانک بھی آ سکتی ہے، لیکن اصل سکون قلب صبر اور مسلسل دعا سے ملتا ہے۔
گھریلو پریشانیوں — میاں بیوی کے جھگڑے، اولاد کی فکر، مالی تنگی — کے لیے یہ معمول اپنائیں:
- گھر میں روزانہ سورۃ البقرہ کی تلاوت یا کم از کم آخری دو آیات پڑھیں — شیطان گھر سے دور رہتا ہے
- کھانے پر “بسم اللہ” اور سلام کو عام کریں — گھر میں برکت آتی ہے
- غصے کے وقت “اعوذ باللہ” پڑھیں اور وضو کر لیں
- ہر نماز کے بعد گھر والوں کے لیے دعا مانگیں
جب دل میں بے سکونی ہو تو فوراً وضو کر کے دو رکعت نفل پڑھیں اور اوپر دی گئی دعائیں مانگیں۔ یہ بے سکونی دور کرنے کا آزمودہ طریقہ ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
س: کیا دعا سے ڈپریشن ختم ہو سکتا ہے؟
ج: دعا دل کو سکون دیتی ہے اور اللہ سے تعلق مضبوط کرتی ہے۔ لیکن شدید ڈپریشن میں دعا کے ساتھ ماہر ڈاکٹر سے علاج بھی ضروری ہے — یہ دونوں ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔
س: پریشانی کی دعا کتنی بار پڑھیں؟
ج: صبح و شام پابندی سے پڑھنا بہتر ہے۔ جب بھی دل گھبرائے، بلا تعداد پڑھ سکتے ہیں — دعا کی کوئی حد مقرر نہیں۔
س: کیا بے وضو دعا پڑھ سکتے ہیں؟
ج: جی ہاں، دعا کے لیے وضو شرط نہیں۔ البتہ باوضو ہونا بہتر اور باعث برکت ہے۔
دعا کے ساتھ یہ عملی اقدامات بھی کریں
دعا اپنی جگہ، لیکن اسلام ہمیں اسباب اختیار کرنے کا بھی حکم دیتا ہے۔ پریشانی کا روحانی علاج مکمل تبھی ہوتا ہے جب دعا کے ساتھ عمل بھی ہو:
- نماز کی پابندی: قرآن کہتا ہے کہ بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ پانچ وقت کی نماز دل کو ایک شیڈول دیتی ہے، بے چینی کو بے لگام نہیں ہونے دیتی۔
- استغفار کی کثرت: حدیث میں آتا ہے کہ جو استغفار کو لازم پکڑے، اللہ اس کے لیے ہر غم سے نجات اور ہر تنگی سے راستہ نکال دیتا ہے۔ (سنن ابی داؤد:1518) روزانہ کثرت سے “استغفر اللہ” کہیں۔
- قرآن کی تلاوت: روزانہ تھوڑا سا قرآن ترجمے کے ساتھ پڑھیں۔ اللہ کا کلام دلوں کی شفا ہے۔
- ورزش اور نیند: یہ دنیاوی اسباب بھی اہم ہیں۔ روزانہ تیس منٹ چہل قدمی اور پوری نیند بے چینی کو کم کرتی ہے۔
- کسی سے بات کریں: پریشانی کو دل میں دبائے رکھنا اسے بڑھاتا ہے۔ کسی بھروسے مند دوست، عالم یا کونسلر سے بات کریں۔
نتیجہ
یاد رکھیں — پریشانی زندگی کا حصہ ہے، لیکن اس میں ڈوب جانا آپ کا انتخاب نہیں ہونا چاہیے۔ پریشانی دور کرنے کی دعائیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لیے ایک عظیم تحفہ ہیں۔ ان مسنون دعاؤں کو اپنی صبح و شام کا معمول بنائیں، اسباب اختیار کریں، اور پھر اللہ پر بھروسہ رکھیں۔
آپ دیکھیں گے کہ آہستہ آہستہ آپ کا دل ہلکا ہونے لگے گا۔ وہی مسائل رہیں گے، لیکن ان کا بوجھ کم لگے گا۔ یہی ذہنی سکون کی اصل تعریف ہے — حالات کا بدلنا نہیں، دل کا مطمئن ہو جانا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی پریشانیاں دور فرمائے اور دلوں کو سکون عطا فرمائے۔ آمین۔
مزید مفید مضامین
- استخارہ کرنے کا صحیح مسنون طریقہ — اہم فیصلوں سے پہلے اللہ سے رہنمائی مانگنے کا طریقہ
- رزق میں برکت کی مسنون دعائیں — حلال رزق اور مالی برکت کے لیے دعائیں