ذرا اس منظر کا تصور کریں: قیامت قائم ہونے کو ہے، لوگ گھبراہٹ میں ہیں — اور ایک شخص کے ہاتھ میں کھجور کا چھوٹا سا پودا ہے۔ ہمارا عام انداز یہ ہوگا کہ ایسے وقت میں پودا کون لگاتا ہے؟ مگر نبی کریم ﷺ کی تعلیم اس کے بالکل برعکس ہے: “اگر قیامت قائم ہو جائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کھجور کا پودا ہو، اور وہ اسے لگانے کی استطاعت رکھتا ہو تو ضرور لگا دے۔” (مسند احمد) اس ایک جملے میں درخت لگانے کی پوری فلسفیانہ عظمت چھپی ہے — یہ وہ عمل ہے جس کا ثواب انسان کے مرنے کے بعد بھی بند نہیں ہوتا۔ اسی لیے اس مضمون کا موضوع ہے: درخت لگانا کیوں صدقہ جاریہ ہے، اس کے فضائل کیا ہیں، اور مرحوم والدین کے لیے یہ کیسے بہترین صدقہ بن سکتا ہے۔
صدقہ جاریہ کیا ہے؟
صدقہ جاریہ وہ نیکی ہے جس کا نفع اور ثواب انسان کے مرنے کے بعد بھی جاری رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے: صدقہ جاریہ، یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جائے، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔” (صحیح مسلم:1631)
اب غور کریں: نقد صدقہ ایک بار دیا اور ختم؛ مگر ایک درخت — وہ دہائیوں کھڑا رہتا ہے۔ اس کا پھل نسلیں کھاتی ہیں، اس کے سائے میں مسافر ٹھہرتے ہیں، اس کی شاخوں پر پرندے گھونسلے بناتے ہیں۔ اس لیے درخت لگانا صدقہ جاریہ کی سب سے سادہ، سستی اور پائیدار صورتوں میں سے ایک ہے۔
درخت لگانا صدقہ ہے — صحیح حدیث کی صراحت
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جو مسلمان کوئی درخت لگائے یا فصل بوئے، پھر اس میں سے پرندہ یا انسان یا جانور کھائے، تو وہ اس کے لیے صدقہ شمار ہوتا ہے۔” (صحیح بخاری:2320) امام مسلم کی روایت میں اس پر مزید وضاحت ہے کہ یہ ثواب قیامت تک جاری رہتا ہے جب تک وہ درخت موجود رہے۔
یعنی یہ صدقہ لگانے والے کی زندگی ہی میں نہیں، اس کے دنیا سے جانے کے بعد بھی — جب تک درخت قائم ہے اور مخلوق اس سے فائدہ اٹھا رہی ہے — اس کے نامہ اعمال میں لکھا جاتا رہے گا۔ اسی بنا پر مسند احمد کی ایک اور روایت کا مفہوم ہے کہ جس نے بغیر ظلم کے درخت لگایا، جب تک اللہ کی مخلوق میں سے کوئی بھی اس سے نفع اٹھاتا رہے گا، اسے ثواب ملتا رہے گا۔
سات اعمال جن کا ثواب قبر میں بھی پہنچتا ہے
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک اور روایت میں سات اعمال گنوائے گئے ہیں جن کا اجر بندے کو مرنے کے بعد، قبر میں ہونے کے باوجود، ملتا رہتا ہے: (1) علم سکھانا، (2) نہر کھدوانا، (3) کنواں کھودنا، (4) درخت لگانا، (5) مسجد بنانا، (6) قرآن مجید ترکے میں چھوڑنا، (7) ایسی اولاد چھوڑنا جو اس کے لیے دعائے مغفرت کرے۔ (مجمع الزوائد؛ یہ روایت صحیح الجامع میں بھی نقل ہے) غور کریں — اس فہرست میں درخت لگانا کنویں اور نہر کے ساتھ کھڑا ہے، کیونکہ تینوں کا نفع عام اور دیرپا ہے۔
مرحوم والدین کے لیے درخت لگانا: مستند فتویٰ
یہ سوال عام ہے کہ فوت شدہ والدین کے ایصالِ ثواب کے لیے درخت لگایا جا سکتا ہے یا نہیں؟ جامعہ بنوریہ ٹاؤن کراچی سے بالکل اسی سوال پر فتویٰ موجود ہے: ایک صاحب نے پوچھا کہ والدین فوت ہو چکے ہیں، میں پھل دار درخت لا کر کچھ گاؤں والوں میں بانٹ دوں اور کچھ خود لگاؤں — تو دارالافتاء نے صحیح بخاری کی مذکورہ حدیث اور مجمع الزوائد کی سات اعمال والی روایت کی بنیاد پر جواب دیا کہ پھل دار درخت لگانا صدقہ جاریہ میں شامل ہے اور اس کا ثواب مرحومین کو پہنچتا ہے۔ فتویٰ یہاں پڑھیں: دارالافتاء بنوریہ ٹاؤن: درخت لگانا صدقہ جاریہ
عملی ترکیب یہ ہے: اپنے علاقے کے موسم کے مطابق پھل دار یا گھنے سائے والے مقامی درخت منتخب کریں، مرحومین کے ایصالِ ثواب کی نیت سے لگائیں — اور اہم بات یہ کہ لگانے کے بعد ان کی دیکھ بھال کا بندوبست بھی کریں؛ جو پودا پانی نہ ملنے سے سوکھ جائے، اس سے وہ جاری نفع حاصل نہیں ہوتا جس پر ثواب موقوف ہے۔
درخت لگانا “دنیاوی کام” نہیں — صحابہ کا طرزِ عمل
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ بڑھاپے میں پودا لگا رہے تھے کہ ایک شخص نے تعجب سے کہا: آپ جیسا بزرگ بھی یہ (دنیاوی) کام کر رہا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں اپنے رب سے اس کا اجر چاہتا ہوں۔ صحابہ کرام کے نزدیک مخلوق کو نفع پہنچانے والا ہر کام عبادت تھا — کھیتی، باغبانی اور شجرکاری کو انہوں نے کبھی دین سے الگ “دنیا” نہیں سمجھا۔
درخت کے دنیوی فوائد بھی کم نہیں
آخرت کے اجر کے ساتھ ساتھ درخت کے دنیوی فوائد آج ہر آنکھ دیکھ رہی ہے: گھنا سایہ گرمی کی شدت کم کرتا ہے، درخت ہوا کو صاف کرتے ہیں، پرندوں اور جانوروں کو پناہ ملتی ہے، اور زمین کا کٹاؤ رکتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں گرمی کی لہریں اور سیلاب بڑھتے جا رہے ہیں، شجرکاری صرف ایک ماحولیاتی مہم نہیں — سنت کی روشنی میں دیکھیں تو یہ اجتماعی صدقہ جاریہ ہے: ایک درخت پورے محلے کے لیے نفع ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
سوال: کیا گملے یا چھت پر لگایا گیا پودا بھی صدقہ جاریہ ہوگا؟
جواب: ثواب نفع کے بقدر ہے — جس پودے سے مخلوق کو فائدہ پہنچے (پھل، سایہ، خوشبو، پرندوں کی پناہ)، اس پر اسی نسبت سے اجر ہے۔ بڑا درخت اپنی مدت اور نفع کی وسعت کی وجہ سے اس میں سرفہرست ہے۔
سوال: درخت لگانا افضل ہے یا نقد صدقہ؟
جواب: دونوں نیکیاں ہیں اور اپنی اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہیں۔ درخت کی خصوصیت اس کا دوام ہے — ایک بار کی محنت اور دہائیوں کا جاری ثواب۔ بہترین صورت یہ ہے کہ دونوں کو جمع کیا جائے۔
سوال: کیا کسی اور کی زمین یا سرکاری جگہ پر درخت لگا سکتے ہیں؟
جواب: کسی کی ملکیت زمین پر اس کی اجازت کے بغیر لگانا درست نہیں۔ سرکاری شجرکاری مہمات اور اپنی زمین/گھر/مسجد و مدرسے کے احاطے اس کے مناسب مقامات ہیں۔
سوال: درخت سوکھ جائے یا کٹ جائے تو ثواب ختم ہو جائے گا؟
جواب: جب تک درخت سے نفع پہنچتا رہا، اس عرصے کا ثواب لگانے والے کو مل چکا۔ صدقہ جاریہ کا اجر اسی قاعدے پر ہے — اور بندے کی سچی نیت کا اجر اللہ کے ہاں الگ محفوظ ہے۔ اس لیے لگاتے وقت لمبی عمر والے، مضبوط مقامی درخت کا انتخاب سمجھداری ہے۔
سوال: کیا صرف پھل دار درخت ہی صدقہ ہے؟
جواب: نہیں۔ حدیث میں نفع عام ہے — پھل کھایا جائے، سائے میں کوئی بیٹھے، پرندہ گھونسلا بنائے یا جانور چارہ کھائے — ہر صورت صدقہ ہے۔ پھل دار درخت کا ذکر اس لیے نمایاں ہے کہ اس کا نفع سب سے واضح اور طویل ہوتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ درخت لگانا ان چند اعمال میں سے ہے جو انسان کی زندگی سے آگے بڑھ کر اس کی آخرت میں کام آتے ہیں۔ اس موسم میں ایک درخت اپنے لیے، ایک اپنے مرحوم والدین کے نام — اور دیکھ بھال کی پکی نیت کے ساتھ — لگا دیجیے؛ ہو سکتا ہے یہی وہ عمل ہو جو قبر میں آپ کے لیے روشنی بن کر پہنچے۔