Hajj ka asan tareeqa din-ba-din: 7 Zil-Hajj ki tayyari se Tawaaf-e-Wida tak — ihram, Mina, Arafat ka wuquf, Muzdalifah, rami, qurbani, halq aur Tawaaf-e-Ziyarat. Saath Hajj ki teen aqsam, faraiz ka khulasa aur muharramat-e-ihram.
حج اسلام کا پانچواں رکن ہے اور زندگی میں ایک بار صاحبِ استطاعت پر فرض ہے۔ اس کے اعمال پانچ دنوں (8 تا 12 ذی الحجہ) میں مخصوص ترتیب سے ادا ہوتے ہیں۔ نیچے دن بہ دن آسان طریقہ دیا جا رہا ہے تاکہ حاجی کو ہر دن کا کام پہلے سے واضح رہے۔
حج کی تین اقسام
تمتع: عمرے کا احرام باندھ کر عمرہ ادا کریں، پھر احرام کھول دیں؛ 8 ذی الحجہ کو مکہ سے حج کا احرام باندھیں (پاکستان و ہند کے اکثر حجاج یہی کرتے ہیں)۔ قران: عمرہ اور حج کا ایک ہی احرام، دونوں کی نیت ساتھ۔ افراد: صرف حج کا احرام۔ اس رہنمائی کی ترتیب حجِ تمتع کے مطابق ہے۔
7 ذی الحجہ: تیاری کا دن
ایک چھوٹا بیگ تیار کریں: کپڑوں کا ایک جوڑا، مصلیٰ، ضروری ادویات اور سامان۔ احرام کی تیاری: صفائی (ناخن و زائد بال)، غسل یا وضو، بے رنگ خوشبو، پھر دو رکعت نفل پڑھ کر نیت کریں: “اے اللہ! میں نے حج کا ارادہ کیا، اسے میرے لیے آسان فرما اور مجھ سے قبول فرما” — اور تلبیہ پڑھیں:
لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ
8 ذی الحجہ (یوم الترویہ): منیٰ کا دن
زوال سے پہلے منیٰ پہنچیں۔ منیٰ میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور اگلے دن کی فجر اپنے اپنے وقت پر ادا کریں؛ دن دعاؤں اور مناسک کے مذاکرے میں گزاریں۔
9 ذی الحجہ: یومِ عرفہ — حج کا سب سے بڑا دن
طلوعِ آفتاب کے بعد عرفات روانہ ہوں اور زوال سے پہلے پہنچ جائیں۔ ظہر و عصر مسجدِ نمرہ میں جمع کر کے یا اپنے خیمے میں الگ وقت پر ادا کریں۔ وقوفِ عرفہ حج کا رکنِ اعظم ہے — زوال سے غروب تک دعا و ذکر میں مشغول رہیں؛ نبی ﷺ نے فرمایا: “بہترین دعا یومِ عرفہ کی دعا ہے” (جامع ترمذی: 3585)، اور اس دن کی افضل دعا یہ ہے: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
غروب کے بعد مزدلفہ روانہ ہوں؛ مغرب و عشاء مزدلفہ پہنچ کر جمع کریں۔ رمی کے لیے کنکریاں یہیں سے چن لیں (کل تقریباً 70)۔ فجر کے بعد وقوفِ مزدلفہ — طلوع سے پہلے تک دعائیں۔
10 ذی الحجہ: قربانی کا دن
طلوع سے پہلے منیٰ روانگی؛ جمرۂ عقبہ (بڑے شیطان) کو 7 کنکریاں ماریں — پہلی کنکری کے ساتھ تلبیہ بند۔ پھر قربانی (دمِ شکر)، پھر حلق یا قصر — اس کے بعد احرام کی پابندیاں (بیوی کے سوا) ختم۔ پھر مکہ جا کر طوافِ زیارت کریں (یہ فرض ہے؛ 12 ذی الحجہ کے غروب تک ہو سکتا ہے) اور حج کی سعی کریں۔ قارن و متمتع کے لیے ترتیب (رمی → قربانی → حلق) کی رعایت اہم ہے۔
11 و 12 ذی الحجہ: ایامِ تشریق
دونوں دن زوال کے بعد تینوں جمرات کو 7، 7 کنکریاں ماریں؛ پہلے اور دوسرے جمرے کے بعد قبلہ رخ ہو کر دعا کریں۔ راتیں منیٰ میں گزارنا سنت ہے۔ 12 کی رمی کے بعد غروب سے پہلے منیٰ سے نکل سکتے ہیں؛ ورنہ 13 کی رمی بھی لازم آئے گی۔
Hajj Ke Faraiz Aur Muharramat — Khulasa
Faraiz sirf teen hain: (1) Wuquf-e-Arafat, (2) Tawaaf-e-Ziyarat, (3) tartib ke saath ihram ki niyat-o-talbiya se aaghaz. In mein se ek bhi reh jaye to Hajj nahi hota. Waajibat mein Wuquf-e-Muzdalifah, Sa’i, Rami, Qurbani (qarin-o-mutamatti par), Halq/Qasr aur Tawaaf-e-Wida shamil hain — in ke reh jane par dam lazim aata hai. Muharramat-e-ihram: sile hue kapde (mard), sar/chahra dhankna (mard), khushbu, baal ya nakhun kaatna, shikar, aur biwi se qurbat — in se perhaiz lazmi hai.
فضیلت: نبی ﷺ نے فرمایا: “جس نے حج کیا اور (اس دوران) کوئی بے ہودہ بات اور گناہ نہ کیا، وہ اس دن کی طرح (گناہوں سے پاک) لوٹتا ہے جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا” (صحیح بخاری: 1521) — اور حجِ مبرور کا بدلہ صرف جنت ہے۔
قربانی کے مسائل و فضائل کے لیے یہ مضمون پڑھیں: قربانی کے مسائل و فضائل — مکمل رہنمائی۔ نوٹ: یہ عمومی رہنمائی ہے؛ اپنے گروپ کے معلم یا مفتی صاحب سے اپنی صورتِ حال کی تصدیق ضرور کر لیں، کیونکہ تمتع، قران اور مقیم و مسافر کے مسائل میں تفصیلی فرق ہوتا ہے۔
مناسک کے ساتھ پڑھی جانے والی مسنون دعائیں
صفا پر دعا: سعی کی ابتدا میں صفا پر چڑھ کر قبلہ رخ ہو کر یہ پڑھیں — نبی ﷺ نے فرمایا تھا: “إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ — میں اسی سے شروع کرتا ہوں جس سے اللہ نے شروع کیا”، پھر تین مرتبہ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ، أَنْجَزَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ اور درمیان میں اپنے لیے دعائیں (طویل حدیثِ جابرؓ، صحیح مسلم: 1218)۔
رمی کے وقت: ہر کنکری مارتے ہوئے “اللَّهُ أَكْبَرُ” کہنا سنت ہے — حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ کے عمل کی یہی کیفیت بیان کرتے ہیں (صحیح بخاری، کتاب الحج)۔
قربانی کی دعا: جانور ذبح کرتے وقت: بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُمَّ هَذَا مِنْكَ وَلَكَ — “اللہ کے نام سے، اللہ سب سے بڑا ہے؛ اے اللہ! یہ تیری ہی عطا ہے اور تیرے ہی لیے ہے” (سنن ابی داؤد: 2795)۔ پاکستان سے حج بدل یا قربانی بھیجنے والے بھی یہی دعا و نیت رکھیں۔