عید الاضحیٰ قریب آتی ہے تو دو چیزیں ہر زبان پر ہوتی ہیں: ایک “عید مبارک” اور دوسری وہ تکبیریں جو مسجدوں، بازاروں اور گھروں میں گونجتی ہیں — اَللّٰہُ اَکْبَر، اَللّٰہُ اَکْبَر… مگر اکثر لوگ تین باتیں نہیں جانتے: یہ تکبیریں پڑھنا شرعاً کیا حکم رکھتی ہیں؟ یہ کب سے کب تک پڑھی جاتی ہیں؟ اور مکمل متن آخر ہے کیا؟ اس مضمون میں عید الاضحیٰ کی تکبیرات کا مکمل متن، تکبیراتِ تشریق کا حنفی حکم، اور عید کے دن کے مسنون اعمال — قرآن و حدیث اور مستند فتاویٰ کی روشنی میں — پیش کیے گئے ہیں۔
عید الاضحیٰ کیوں منائی جاتی ہے؟
عید الاضحیٰ 10 ذی الحجہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس عظیم قربانی کی یاد میں منائی جاتی ہے جب انہوں نے اللہ کے حکم پر اپنے بیٹے کو قربان کرنے کا عزم کیا اور اللہ نے اس کی جگہ ایک بڑا ذبیحہ عطا فرمایا۔ اسی لیے اس عید کا دل قربانی ہے — اس کے فضائل و مسائل کی تفصیل ہماری اس پوسٹ میں ہے: قربانی کے فضائل و مسائل۔ اور عید سے پہلے کے دس دن — عشرہ ذی الحجہ — نیکیوں کا سب سے افضل موسم ہیں؛ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “ان دس دنوں میں کیے گئے نیک اعمال اللہ کو دوسرے دنوں کے اعمال سے زیادہ محبوب ہیں۔” (صحیح بخاری:969) عشرے کے اعمال اور یومِ عرفہ کی تفصیل یہاں ہے: عشرہ ذی الحجہ کے مسنون اعمال
تکبیرات عید الاضحیٰ کا مکمل متن
اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ
ترجمہ: “اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔”
یہی وہ الفاظ ہیں جو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ثابت ہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم انہی کو کہا کرتے تھے۔ تکبیر کا یہ متن قیامت تک کے لیے اس امت کی عیدوں کی پہچان ہے۔
تکبیر کی دو قسمیں: مطلق اور مُقَیَّد (تشریق)
تکبیرِ مطلق: یہ وہ عام تکبیریں ہیں جو یکم ذی الحجہ سے ایامِ تشریق کے آخر تک گھر، بازار، راستے اور مسجد — ہر جگہ، انفرادی طور پر کہی جاتی ہیں۔ امام بخاری نے نقل کیا ہے کہ حضرت ابنِ عمر اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما ان دس دنوں میں بازار نکلتے اور بلند آواز سے تکبیریں کہتے، اور لوگ ان کے ساتھ تکبیریں کہنے لگتے۔ اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ منیٰ میں اپنے خیمے سے تکبیر کہتے اور پوری وادی گونج اٹھتی۔ قرآن مجید کا ارشاد ہے: “اور گنتی کے چند دنوں میں اللہ کو یاد کرو” (سورۃ البقرہ:2:203) — مفسرین نے “ایام معدودات” سے ایامِ تشریق مراد لیے ہیں۔
تکبیرِ مُقَیَّد — تکبیراتِ تشریق: یہ وہ تکبیریں ہیں جو 9 ذی الحجہ کی فجر سے 13 ذی الحجہ کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد کہی جاتی ہیں۔ انہی کا تفصیلی حکم اگلے حصے میں ہے۔
تکبیراتِ تشریق کا شرعی حکم (فقہِ حنفی)
فقہائے احناف کے نزدیک تکبیراتِ تشریق پڑھنا واجب ہے۔ دارالافتاء الاخلاص کراچی کے فتوے (نمبر 2572) کے مطابق: “اس امت کے لیے فرض نمازوں کے بعد 9 ذوالحجہ کی فجر سے 13 ذوالحجہ کی عصر تک ان کلمات کی ادائیگی کا حکم رسولِ کریم ﷺ کی صریح احادیث سے ثابت ہے، لہٰذا امت پر ان ایام میں فرض نمازوں کے بعد یہ تکبیرات پڑھنا واجب ہے۔” مکمل فتویٰ یہاں پڑھیں: دارالافتاء الاخلاص کراچی: تکبیراتِ تشریق کا پڑھنا
اس کی تفصیل یہ ہے:
مدت: 9 ذی الحجہ کی نمازِ فجر سے 13 ذی الحجہ کی نمازِ عصر تک — کُل 23 فرض نمازیں۔
طریقہ: ہر فرض نماز کے سلام کے فوراً بعد — دنیوی کلام یا نماز سے اٹھ جانے سے پہلے — تکبیر ایک بار کہنا واجب ہے؛ تین بار کہنا افضل بتایا گیا ہے۔ مرد بلند آواز سے کہیں، عورتیں آہستہ آواز سے۔
کس پر واجب ہے؟ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک یہ حکم بنیادی طور پر جماعت سے نماز پڑھنے والوں پر ہے، لیکن مفتیٰ بہ قول امام ابو یوسف و امام محمد رحمہما اللہ کا ہے کہ تکبیر ہر فرض نماز کے بعد واجب ہے — تنہا پڑھنے والا ہو یا جماعت سے، مقیم ہو یا مسافر، مرد ہو یا عورت (عورت آہستہ کہے)۔ دارالافتاء بنوریہ ٹاؤن کا فتویٰ بھی یہی ہے کہ ان مسنون ایام میں فرض نمازوں کے بعد تکبیرات پڑھنا واجب ہے، اور عامۃ الامصار میں فتویٰ و عمل اسی قول پر ہے: دارالافتاء بنوریہ: تکبیراتِ تشریق کا حکم
ایک تاریخی نکتہ — دیانت داری کے ساتھ: تکبیرات کے پس منظر میں یہ مشہور قصہ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام فدیہ لے کر آئے تو انہوں نے “اللہ اکبر” کہا، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے “لا الہ الا اللہ واللہ اکبر” کہا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے “اللہ اکبر وللہ الحمد” کہا۔ فقہ کی کتابوں میں یہ قصہ موجود ہے، مگر یہ بھی واضح رہے کہ خود فقہاء نے لکھا ہے کہ یہ قصہ محدثین کے نزدیک ثابت نہیں — البتہ تکبیر کے الفاظ اور اس کا حکم احادیث و آثارِ صحابہ سے ثابت ہے، اس لیے حکم پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
عید الاضحیٰ کے دن کے مسنون اعمال
غسل اور بہترین لباس: عید کے دن غسل کرنا، خوشبو لگانا اور اپنے پاس موجود بہترین صاف لباس پہننا مسنون ہے۔
نماز سے پہلے کچھ نہ کھانا: عید الاضحیٰ میں سنت یہ ہے کہ نمازِ عید سے پہلے کچھ نہ کھایا جائے اور پہلا کھانا اپنی قربانی کے گوشت سے ہو۔ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ عید الفطر کے دن کھا کر نکلتے تھے، اور عید الاضحیٰ کے دن نماز پڑھنے سے پہلے نہیں کھاتے تھے۔ (جامع ترمذی:542 — درجہ: حسن)
راستہ بدل کر واپس آنا: عید گاہ ایک راستے سے جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا نبی کریم ﷺ کا معمول تھا۔ (صحیح بخاری:986)
نمازِ عید: اس کا مکمل طریقہ، زائد تکبیروں کی تعداد اور شرائط ہماری الگ پوسٹ میں تفصیل سے موجود ہیں: عید کی نماز کا طریقہ، احکام اور شرائط
مبارکباد کے مسنون الفاظ: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عید پر ایک دوسرے سے ملتے تو یوں کہتے: تَقَبَّلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنْكُمْ — “اللہ ہم سے اور آپ سے (نیک اعمال) قبول فرمائے۔” “عید مبارک” کہنا بھی جائز اور رواجاً درست ہے، مگر صحابہ کے ان الفاظ کو بھی اپنی مبارکباد میں شامل کر لیں تو سنت کی پیروی کی برکت بھی حاصل ہو جائے گی۔ اس مضمون کی اصل روح بھی یہی مبارکباد ہے: ہماری جانب سے آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو عید الاضحیٰ مبارک — تقبل اللہ منا ومنکم صالح الاعمال۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
سوال: تکبیراتِ تشریق کب سے کب تک پڑھی جاتی ہیں؟
جواب: 9 ذی الحجہ کی فجر سے 13 ذی الحجہ کی عصر تک، ہر فرض نماز کے بعد — کُل 23 نمازیں۔
سوال: کیا عورتوں پر بھی تکبیراتِ تشریق واجب ہیں؟
جواب: مفتیٰ بہ قول کے مطابق ہاں — عورتیں بھی ہر فرض نماز کے بعد تکبیر کہیں، مگر آواز آہستہ رکھیں۔
سوال: سلام کے بعد تکبیر کہنا بھول جائے تو کیا کرے؟
جواب: تکبیر سلام کے فوراً بعد کا عمل ہے؛ اگر درمیان میں دنیوی کلام کر لیا یا مسجد سے نکل گیا تو تکبیر ساقط ہو جاتی ہے، اس کی قضا نہیں۔ نماز کی جگہ پر بیٹھے بیٹھے یاد آ جائے تو کہہ لے۔
سوال: تلبیہ اور تکبیر میں کیا فرق ہے؟
جواب: “لبیک اللہم لبیک…” حجاجِ کرام کا شعار ہے جو وہ احرام کی حالت میں پڑھتے ہیں۔ غیر حاجیوں کے لیے ان دنوں کا مسنون ذکر تکبیرات ہیں — یہی اس مضمون کا موضوع ہیں۔
سوال: عید کی نماز کی زائد تکبیریں کتنی ہوتی ہیں؟
جواب: حنفی مسلک میں نمازِ عید میں چھ زائد تکبیریں ہیں — پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے تین اور دوسری رکعت میں رکوع سے پہلے تین۔ تفصیل ہماری نمازِ عید والی پوسٹ میں موجود ہے۔
خلاصہ یہ کہ عید الاضحیٰ کی اصل رونق تین چیزوں میں ہے: زبان پر تکبیر، دل میں ابراہیمی تسلیم و رضا، اور عمل میں قربانی و مسنون آداب۔ تکبیرات کو ان پانچ دنوں کا معمول بنا لیں — فرض نمازوں کے بعد واجب تکبیر تو ضرور، اور دن بھر مطلق تکبیرات کی کثرت بھی، کہ یہی ان ایام کا سب سے بڑا ذکر ہے۔ نوٹ: یہ مضمون عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ کسی خاص صورتِ حال کے لیے مستند دارالافتاء سے رجوع کریں۔