رات کے پچھلے پہر آنکھ کھل جائے تو ذہن سب سے پہلے وہیں پہنچتا ہے جہاں سے ہم سارا دن بھاگتے رہے — ادھورا کام، کسی کی تلخ بات، آنے والے کل کا خدشہ۔ جسم لیٹا ہوتا ہے، مگر اندر ایک شور سا چلتا رہتا ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ اسی شور کے ساتھ جی رہے ہیں، اور اسی لیے “ذہنی سکون” آج کے دور کی سب سے زیادہ تلاش کی جانے والی چیز بن گیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ قرآن نے اس تلاش کا جواب چودہ سو سال پہلے ایک جملے میں دے دیا تھا — مگر اس جملے کو ہم اکثر پڑھ کر گزر جاتے ہیں، ٹھہر کر سوچتے نہیں۔
قرار کہاں ہے؟ قرآن کا سادہ سا جواب
“یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے اطمینان پاتے ہیں۔ سن رکھو! اللہ ہی کی یاد سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے۔” (سورۃ الرعد: 28)
غور کیجیے، آیت نے سکون کو کسی جگہ، کسی انسان یا کسی چیز سے نہیں جوڑا — ذکر سے جوڑا ہے۔ یعنی دل کا سکون اللہ کے ذکر میں ہے؛ یہ کوئی نعرہ نہیں، قرآن کا بیان کردہ اصول ہے — دل کا قرار دل کے مالک کی طرف لوٹنے میں ہے۔ باقی اس مضمون میں جو دعائیں اور طریقے آئیں گے، وہ سب اسی ایک اصول کی شاخیں ہیں۔
جب کوئی یاد، کوئی انسان ذہن سے نکلتا ہی نہ ہو
ذہنی بے چینی کی ایک بڑی وجہ وہ یادیں ہیں جو پیچھا نہیں چھوڑتیں — کوئی انسان، کوئی واقعہ، کوئی ناکامی۔ انسان چاہتا ہے کہ بس یہ بات ذہن سے نکل جائے، مگر جتنا بھلانے کی کوشش کرتا ہے، یاد اتنی ہی تازہ ہو جاتی ہے۔
اس کیفیت کا علاج بھی قرآن کے پاس ہے، مگر ایک مختلف صورت میں۔ بدر کے دن، جب مسلمان پہلی بار ایک بڑی جنگ کے سامنے کھڑے تھے اور دلوں میں قدرے گھبراہٹ تھی، اللہ نے نیند کی صورت میں سکون اتارا اور فرمایا:
“اور تاکہ تمہارے دلوں کو مضبوط بندھن باندھ دے اور اس سے قدم جما دے۔” (سورۃ الانفال: 11)
یہ “ربطِ قلب” ہے — دل کو اللہ کی طرف سے گرہ لگ جانا۔ کسی کو بھولنے کی اصل تدبیر یہی ہے: دل کو زبردستی خالی نہ کریں، اسے کسی بہتر چیز سے بھر دیں۔ جو دل اللہ کی یاد، نماز اور قرآن سے آباد ہو، اس میں پرانی یادوں کے لیے جگہ خود بخود تنگ ہوتی جاتی ہے۔ مفتیانِ کرام بھی سکونِ قلب کے لیے یہی راہ بتاتے ہیں: پنج وقتہ نماز، تلاوت، درود اور استغفار کا معمول — اور وقت، جو اللہ کے حکم سے ہر زخم پر مرہم رکھتا ہے۔
داؤد علیہ السلام کی دعا — جب دل کا رخ ہی بدل جائے
حضرت ابو درداءؓ فرماتے ہیں کہ حضرت داؤدؑ کی دعاؤں میں یہ دعا شامل تھی، اور نبی کریم ﷺ جب داؤدؑ کا ذکر کرتے تو فرماتے کہ وہ لوگوں میں سب سے بڑے عبادت گزار تھے:
ترجمہ: اے اللہ! میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں، اور ان کی محبت جو تجھ سے محبت کرتے ہیں، اور وہ عمل جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دے۔ اے اللہ! اپنی محبت کو میرے لیے میری جان، میرے گھر والوں اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب بنا دے۔
— جامع ترمذی: 3490 (حسن)
سوچنے کی بات ہے: پیاسے کے لیے ٹھنڈے پانی سے بڑھ کر کیا محبوب ہو سکتا ہے؟ داؤدؑ اس سے بھی آگے کی محبت مانگ رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس دل میں اللہ کی محبت گھر کر جائے، وہاں دوسری محبتوں اور یادوں کی بے جا گرفت خود کمزور پڑ جاتی ہے۔ ذہنی سکون کی یہ سب سے گہری جڑ ہے۔
نبی کریم ﷺ اپنے لیے کیا مانگا کرتے تھے؟
ہمارے نبی ﷺ کی اپنی مانگی ہوئی دعاؤں میں ایک چھوٹی سی دعا ہے، مگر اس کے چار لفظ پوری ذہنی زندگی کا نقشہ کھینچ دیتے ہیں۔ حضرت ابن مسعودؓ روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے:
ترجمہ: اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاک دامنی اور بے نیازی مانگتا ہوں۔
— صحیح مسلم: 2721
آخری لفظ پر ٹھہریے: “الْغِنَىٰ” — دل کی بے نیازی۔ ذہنی بے چینی کی آدھی سے زیادہ جڑ یہی احساس ہے کہ فلاں چیز میرے پاس نہیں، فلاں آگے نکل گیا۔ جسے دل کا غنیٰ مل جائے، اس کا شور اندر ہی اندر تھم جاتا ہے۔
اور پھر وہ وصیت ہے جو آپ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبلؓ کا ہاتھ تھام کر کی تھی: “معاذ! میں تم سے محبت کرتا ہوں، اس لیے یہ دعا ہر نماز کے بعد کبھی نہ چھوڑنا:
“اے اللہ! اپنے ذکر، اپنے شکر اور اپنی اچھی عبادت پر میری مدد فرما۔” (سنن ابو داؤد: 1522) — گویا سکون کا راستہ بھی اللہ ہی سے مانگ کر ملتا ہے؛ اپنی طاقت کا معاملہ ہی نہیں۔
سکینہ مہمان بن کر کیوں آتی ہے؟
قرآن میں ایک لفظ بار بار آتا ہے: سکینہ۔ یہ وہ ٹھہراؤ ہے جو اللہ مشکل گھڑیوں میں اپنے بندوں کے دلوں میں اتارتا ہے — “وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں سکینہ اتاری تاکہ ان کا ایمان اور بڑھ جائے” (سورۃ الفتح: 4)۔
مگر سکینہ اترتی کہاں ہے؟ اس کا پتہ نبی ﷺ نے دیا: جو لوگ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں بیٹھ کر اس کی کتاب پڑھتے اور آپس میں اس کا درس کرتے ہیں، “ان پر سکینہ نازل ہوتی ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں” (صحیح مسلم: 2699)۔
بات سادہ ہے: تنہائی میں بھٹکتا ذہن مزید بھٹکتا ہے۔ مسجد کی ایک مجلس، قرآن کی ایک نشست، کسی اچھے ساتھی کی صحبت — یہ وہ ماحول ہے جہاں سکینہ مہمان بن کر آتی ہے۔
ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے — دن کو تھوڑا سا بدل کر
دعاؤں کے ساتھ چند عادتیں ایسی ہیں جو سنت کی روشنی میں دن کا نقشہ بدل دیتی ہیں:
- نماز کی پابندی — سب سے پہلا قدم: اہلِ دل ٹھیک کہتے ہیں کہ نماز دل کا سکون ہے؛ خود نبی کریم ﷺ کو جب کوئی معاملہ پیش آتا تو نماز کی طرف لپکتے تھے۔ دن کے پانچ وقفے دراصل شور سے نکل کر قرار میں آنے کے پانچ مواقع ہیں۔
- دن کا آغاز ذکر سے، انجام بھی ذکر پر: صبح و شام کے اذکار دراصل ذہن کے لیے حفاظتی حصار ہیں — مکمل مجموعہ یہاں ہے: صبح و شام کے مسنون اذکار
- رات کی نیند کی حفاظت: تھکا ذہن ہر بات بڑی کر کے دکھاتا ہے۔ نیند پوری نہ ہوتی ہو تو یہ مضمون آپ کے لیے ہے: نیند نہ آنے کی دعا
- شکر کی چھوٹی سی فہرست: روز ایک لمحہ نکال کر تین نعمتیں گن لینا، موازنہ کرنے والے ذہن کی دوا ہے — اور یہ عین “الْغِنَىٰ” والی دعا کی عملی صورت ہے۔
- فکر کو اس کے خانے میں رکھنا: جو بات ہاتھ میں ہے، اس پر قدم اٹھائیں؛ جو ہاتھ میں نہیں، اسے دعا میں اللہ کے حوالے کر دیں۔ فکر اور غم کی اسی کیفیت پر تفصیلی مضمون: غم سے نجات کی دعا
- موبائل اور خبروں کی مقدار کم کرنا: شور باہر سے بھی آتا ہے۔ سونے سے پہلے کا آخری آدھا گھنٹہ اسکرین سے خالی رکھنا آج کے دور کی ایک آزمودہ تدبیر ہے۔
آخر میں وہ نام، جو سکون کی منزل ہے
قرآن اس جان کو جس نام سے پکارتا ہے جسے قرار مل چکا ہو، وہ ہے “نفسِ مطمئنہ”:
“اے اطمینان والی جان! اپنے رب کی طرف لوٹ آ — تو اس سے راضی، وہ تجھ سے راضی۔” (سورۃ الفجر: 27–28) سکون کوئی منزل نہیں جہاں پہنچ کر سب ختم ہو جائے؛ یہ اسی لوٹنے کا نام ہے — بار بار، ہر دن، ہر نماز کے ساتھ۔
دل کے سکون کے بارے میں چند سوالات
دل کے سکون کی دعا کون سی ہے؟
اگر ایک ہی دعا چننی ہو تو نبی ﷺ کی یہی دعا: “اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَىٰ وَالتُّقَىٰ وَالْعَفَافَ وَالْغِنَىٰ” (مسلم: 2721)۔ اس میں دل کی بے نیازی شامل ہے جو سکون کی جڑ ہے۔ ساتھ ہر نماز کے بعد معاذؓ والی دعا (اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَىٰ ذِكْرِكَ) معمول بنا لیں۔
کسی کو بھولنے کے لیے کیا کریں کہ دل کو سکون ملے؟
زبردستی بھولنا ممکن نہیں ہوتا؛ راستہ یہ ہے کہ دل کو اللہ کی یاد سے بھرا جائے — نماز کی پابندی، تلاوت، درود و استغفار، اور ان جگہوں و چیزوں سے دوری جو یاد تازہ کریں۔ جیسے جیسے دل کو “ربط” (الانفال: 11) نصیب ہوتا ہے، پرانی گرفت ڈھیلی پڑتی جاتی ہے۔ وقت بھی اللہ کی طرف سے ایک علاج ہے — صبر کے ساتھ۔
دل کی بے چینی اور ذہنی سکون میں تعلق کیا ہے؟
بے چینی سکون کی ضد اور اس کی سب سے عام صورت ہے — گھبراہٹ، دل کا دھڑکنا، بے وجہ کی بے قراری۔ اس کیفیت کی الگ مسنون دعائیں ہم نے یہاں جمع کی ہیں: دل کی بے چینی دور کرنے کی دعا۔ اور برے خیالات کی صورت میں: وسوسوں کا علاج
کیا ذہنی دباؤ میں ڈاکٹر سے بھی رجوع کرنا چاہیے؟
ضرور۔ دعا اسباب کو چھوڑنے کا نام نہیں۔ اگر بے چینی، اداسی یا نیند کا مسئلہ ہفتوں برقرار رہے اور زندگی کا نظام متاثر ہو تو ماہر معالج سے مشورہ کرنا عین دانشمندی ہے — دعا و ذکر اس کے ساتھ ساتھ جاری رکھیں۔ غصے کی زیادتی بھی اسی درجے کی کیفیت ہے، اس پر یہ مضمون دیکھیں: غصہ کنٹرول کرنے کی دعا
بات آخر میں وہیں آ کر ٹھہرتی ہے جہاں سے شروع ہوئی تھی: سکون باہر تلاش کرنے کی چیز نہیں — وہ اس دل میں پیدا ہوتا ہے جو اپنے رب کی طرف لوٹ آئے۔ آج کی رات اگر آنکھ پھر کھلے تو ذہن کو بھٹکنے کے بجائے بس یہی کہیے: أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ۔