چھینک آئے تو کیا کہیں؟ سننے والا کیا جواب دے؟ اور اگر چھینکنے والا غیر مسلم ہو تو اسے کیا دعا دیں؟ یہ چھوٹے سے عمل کے بڑے آداب ہیں جنہیں نبی کریم ﷺ نے باقاعدہ سکھایا۔ اس مضمون میں چھینک کی دعا اور اس کے تمام مسنون آداب مستند حوالوں کے ساتھ پیش ہیں — بشمول اس سوال کا واضح جواب کہ غیر مسلم کی چھینک پر “یرحمک اللہ” کیوں نہیں کہا جاتا۔
Roman Urdu summary: Chheenk ki dua aur uske tamam masnoon aadab — chheenkne wala kya kahe, sunne wala kya jawab de, ghair Muslim ke liye masnoon dua (Yahdikumullah), aur jamai ke aadab, sahih ahadith ki roshni mein.
چھینک آنے پر کیا کہیں؟ (Chheenk Ki Dua)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو وہ کہے: الْحَمْدُ لِلَّهِ (تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں)، اور اس کا بھائی یا ساتھی اسے کہے: يَرْحَمُكَ اللَّهُ (اللہ تم پر رحم کرے)، تو چھینکنے والا جواب میں کہے: يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ (اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے حالات درست فرمائے)۔” (صحیح بخاری:6224) یہ تین جملے چھینک کے پورے ادب کی بنیاد ہیں — ترتیب یاد رکھیں: الحمد للہ ← یرحمک اللہ ← یہدیکم اللہ و یصلح بالکم۔
غیر مسلم کی چھینک پر کیا کہیں؟
حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہودی نبی کریم ﷺ کے پاس چھینکتے تھے، اس امید پر کہ آپ انہیں “یرحمک اللہ” کہیں گے؛ مگر آپ ﷺ انہیں فرمایا کرتے: يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ — “اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے حالات درست کرے۔” (جامع ترمذی: 2739) اس کی وجہ یہ ہے کہ “یرحمک اللہ” ایمان والوں کے لیے رحمت کی مخصوص دعا ہے؛ غیر مسلم کے لیے سب سے بڑی خیرخواہی ہدایت کی دعا ہے — یہی نبی کریم ﷺ کا اسوہ ہے: نرمی بھی، اصول بھی۔ لہٰذا غیر مسلم ساتھی، ہمسایہ یا دوست چھینکے تو یہی مسنون جواب دیں۔
چھینک کے مزید آداب
آواز دھیمی رکھنا اور چہرہ ڈھانپنا: نبی کریم ﷺ کو چھینک آتی تو چہرہ ہاتھ یا کپڑے سے ڈھانپ لیتے اور آواز پست رکھتے (جامع ترمذی: 2749) — آج کے دور میں یہی ادب رومال/ٹشو اور کہنی کے استعمال کی صورت میں بھی ہے، جو دوسروں کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔ جواب دینا حق ہے: چھینکنے والے نے الحمد للہ کہا ہو تو سننے والے پر یرحمک اللہ کہنا مسلمان کے حقوق میں سے ہے (صحیح بخاری و مسلم)؛ اگر اس نے الحمد للہ نہ کہا ہو تو جواب دینا لازم نہیں۔ تین سے زیادہ چھینکیں: مسلسل چھینکوں پر ہر بار جواب دینا ضروری نہیں؛ تین کے بعد چھینکنے والا زکام کا مریض شمار ہوتا ہے، اس کے لیے شفا کی دعا بہتر ہے۔
جمائی کے آداب — ایک متعلقہ سنت
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جمائی شیطان کی طرف سے ہے؛ جب کسی کو جمائی آئے تو حتی الامکان اسے روکے، کیونکہ “ہا” کی آواز پر شیطان ہنستا ہے (صحیح بخاری)۔ منہ پر ہاتھ رکھنا مسنون ہے، اور جمائی پر کوئی دعا ثابت نہیں — “اعوذ باللہ” پڑھنا بعض اہلِ علم نے مناسب کہا ہے مگر اسے سنت نہ سمجھیں۔ مقابلتاً چھینک اللہ کو محبوب ہے اور جمائی ناپسندیدہ — اس فرق کی حکمت بندے کی تازگی و سستی میں پوشیدہ ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات — Chheenk FAQs
سوال: نماز میں چھینک آئے تو الحمد للہ کہیں؟
جواب: فقہاء کے مطابق نماز میں چھینک آنے پر دل میں الحمد للہ کہنا بہتر ہے؛ زبان سے کہنے سے نماز نہیں ٹوٹتی مگر سکونِ نماز کی خاطر خاموش رہنا افضل ہے۔ سننے والا نمازی جواب نہ دے۔
سوال: بچہ چھینکے تو کیا کریں؟
جواب: بچے کو بھی الحمد للہ سکھائیں اور یرحمک اللہ کہیں — آداب بچپن سے سکھانے کی چیز ہیں۔
سوال: چھینک روکنا کیسا ہے؟
جواب: چھینک کو زور سے روکنا طبی طور پر بھی مضر ہو سکتا ہے؛ مسنون طریقہ یہ ہے کہ اسے نکلنے دیں مگر چہرہ ڈھانپ کر آواز پست رکھیں۔
خلاصہ: چھینک پر الحمد للہ، جواب میں یرحمک اللہ، اور غیر مسلم کے لیے یہدیکم اللہ — یہ تین چھوٹے سے جملے ایک مسلمان کی شائستگی اور خیرخواہی کی پہچان ہیں۔