مسنون دعائیں

پھنسی ہوئی رقم نکلوانے کا وظیفہ (Qarz Wasooli ki Masnoon Duain)

پھنسی ہوئی رقم نکلوانے کا وظیفہ اور قرض وصولی کی مسنون دعائیں | Phansi Hui Raqam Qarz Wasooli Wazifa

Paise phanse hon to sab se pehle masnoon duain — Mu’adh (RA) ko sikhai gayi dua, Ali (RA) wali dua-e-kafaya, aur Nuh (AS) ki faryad. Saath mein Quran ki woh rehnumai jo qarz ke muamle ko ladai ki bajaye insaniat se suljhaye, aur buzurgon ka mujarrab amal — wazeh taur par ye bta kar ke us ki makhsoos tadaad Sunnat se saabit nahi.

قرض دے کر رقم پھنس جانا آج کے دور کی عام پریشانی ہے: لینے والا ٹالتا ہے، کبھی بدکلامی کرتا ہے، اور دینے والا اپنا حق مانگتے ہوئے تھک جاتا ہے۔ ایسے میں سب سے پہلا سہارا وہی ہے جو قرآن و سنت نے دیا — مسنون دعائیں، قرآنی اخلاقی رہنمائی، اور پھر جائز اسباب۔ اس مضمون میں یہ تینوں ترتیب سے دیے گئے ہیں۔

پہلا درجہ: مسنون دعائیں

ایک — حضرت معاذؓ کو سکھائی گئی دعا: جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ قرض میں ڈوب گئے تو نبی کریم ﷺ نے انہیں یہ دعا سکھائی (معجم طبرانی میں مروی):

اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، رَحْمَنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَرَحِيمَهُمَا، تُعْطِيهِمَا مَنْ تَشَاءُ وَتَمْنَعُ مِنْهُمَا مَنْ تَشَاءُ، ارْحَمْنِي رَحْمَةً تُغْنِينِي بِهَا عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ

ترجمہ: “اے اللہ! بادشاہت کے مالک! تو جسے چاہتا ہے بادشاہت دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے؛ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کرتا ہے؛ تیرے ہی ہاتھ میں بھلائی ہے، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ اے دنیا و آخرت کے رحمن و رحیم! تو جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے روک لیتا ہے؛ مجھ پر ایسی رحمت فرما جو مجھے تیرے سوا ہر ایک کی رحمت سے بے نیاز کر دے۔” نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم پر احد پہاڑ کے برابر بھی قرض ہو تو اللہ اسے ادا فرما دے گا۔ یہ دعا قرض دار کے لیے بھی ہے اور قرض خواہ کے لیے بھی — دونوں کی حاجت ایک ہی رب کے سامنے ہے۔

دو — کفایت کی دعا: اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ — “اے اللہ! مجھے اپنے حلال سے حرام کی طرف سے کفایت فرما اور اپنے فضل سے اپنے سوا ہر ایک سے بے نیاز کر دے۔” (جامع ترمذی: 3563 — یہ دعا نبی ﷺ نے حضرت علیؓ کو قرض کی ادائیگی کے لیے سکھائی تھی۔)

تین — حضرت نوحؑ کی فریاد: رَبِّ إِنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ — “اے میرے رب! میں مغلوب ہوں، تو میری مدد فرما۔” (سورۃ القمر: 10) جب معاملہ بالکل ہاتھ سے نکل جائے تو یہ مختصر قرآنی دعا دل کا بوجھ ہلکا کرتی ہے۔

دوسرا درجہ: قرآن کی اخلاقی رہنمائی

قرض کے معاملے میں قرآن دونوں فریقوں کو انسانیت سکھاتا ہے: “وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍ ۚ وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ” — “اور اگر (قرض دار) تنگدست ہو تو آسانی تک مہلت دو؛ اور اگر معاف کر دو تو تمہارے لیے بہتر ہے” (سورۃ البقرہ: 280)۔ قرض خواہ کے لیے اس میں دو راستے ہیں: مہلت (واجب اخلاق) اور معافی (بہترین نیکی)۔ اور آئندہ کے لیے قرآن کا اصول یہ ہے کہ قرض کا معاملہ لکھ لیا جائے اور گواہ بنا لیے جائیں (سورۃ البقرہ: 282) — آج کے دور میں زیادہ تر رقم اسی لیے پھنستی ہے کہ یہ اصول چھوڑا گیا ہوتا ہے۔

تیسرا درجہ: بزرگوں کا مجرب عمل (واضح نوٹ کے ساتھ)

نبی ﷺ نے اللہ کے نام يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ کے بارے میں فرمایا: “أَلِظُّوا بِيَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ” — “یا ذا الجلال والاکرام کو لازم پکڑو (کثرت سے پڑھو)” (جامع ترمذی: 3525)۔ اسی بنیاد پر بزرگوں کا مجرب عمل یہ بیان کیا جاتا ہے: روزانہ 121 مرتبہ یہ نام، قرض دار کا تصور کر کے، 21 دن تک پڑھیں اور اللہ سے حق کی واپسی مانگیں۔ شفاف نوٹ: یہ مخصوص تعداد (121) اور مدت (21 دن) سنت سے ثابت نہیں — یہ بعض بزرگوں کا تجربہ ہے؛ اصل قوت اس نام اور دعا میں ہے جس کی ترغیب حدیث میں آئی ہے۔ ہم سنت اور مجرب عمل کو ہمیشہ الگ الگ درج کر کے پیش کرتے ہیں تاکہ قاری دھوکے میں نہ رہے۔

Qarz Wasooli Ka Sharai Tareeqa

Amli tartib ye rakhain: (1) pehle narmi se, izzat ke saath mutalba karen — aksar muamlat yahin sulajh jate hain; (2) koi mushtarka bara aadmi beech mein daal kar sulah ki koshish; (3) phir bhi na mile to apna haq qanuni tareeqe se lena bilkul jaiz hai. Aur jab qarz wapas mil jaye to dene wale ko ye dua dena Sunnat hai: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ — “اللہ تمہارے اہل و مال میں برکت دے” (سنن نسائی: 4683)۔ قرض کے عمومی موضوع پر ہماری مکمل رہنمائی یہاں ہے: قرض سے نجات اور مالی پریشانی کا شرعی حل، اور رزق و برکت کی دعاؤں کے لیے: مال و اولاد کی کثرت کی دعا۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا قرض معاف کر دینا بہتر ہے؟
اگر مقروض واقعی تنگدست ہو تو مہلت دینا یا معاف کرنا بہت بڑی نیکی ہے — قرآن (2:280) میں اس کی فضیلت آئی ہے۔ البتہ استطاعت رکھنے والے ٹالنے والے سے حق مانگنا بھی بالکل درست ہے۔

قرض واپس نہ کرنے والے کے لیے بددعا کریں؟
بہتر ہے اس کی ہدایت اور اپنے حق کی واپسی کی دعا کریں؛ بددعا سے معاملہ بگڑتا ہے، دعا سے دل اور دروازے دونوں کھلتے ہیں۔

کیا عدالت جا سکتے ہیں؟
جی ہاں — نرمی اور ثالثی کے بعد قانونی راستہ اختیار کرنا شرعاً جائز ہے؛ یہی وجہ ہے کہ قرض لیتے دیتے وقت لکھت اور گواہ رکھنا قرآن کی ہدایت ہے۔

4 Comments

  1. فضل آمین July 12, 2025

    ہماری رقم کاروبار میں دو اشخاص کے ساتھ بند ہے۔ دینے کا نام نہیں ہے رہے کوئی ایسا آسان سا وظيفہ بتادیں

  2. MasnoonDuayain July 13, 2025

    السلام علیکم ورحمۃاللہ۔۔
    آپ یا لطیف کا وظیفہ کثرت سے کریں ۔ ان شاءاللہ سارے مشکلات اللہ پاک ختم فرئنگے۔ یہ سب سے آسان وظیفہ ہے۔ والسلام ۔۔

  3. مرزا شہباز بیگ January 9, 2026

    میری رقم دو تین اشخاص کے پاس پھنسی ہوئی ہے دو سال ہو گئے دینے کا نام نہیں لے رہے۔اسان اور کامل وظیفہ بتادیں ۔اور مقروض بھی ہوں میں

Leave a Comment

Your email will not be published. Required fields are marked *