قرض کا بوجھ انسان کو ذہنی، مالی اور روحانی طور پر پریشان کر دیتا ہے۔ قرض کی ادائیگی کا وظیفہ یا قرض سے نجات کا وظیفہ ہر مقروض کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو نہ صرف مالی دباؤ کا باعث بنتا ہے بلکہ کبھی کبھار قرض واپس نہ کرنا جیسے رویوں کی وجہ سے تعلقات میں کشیدگی بھی پیدا ہوتی ہے۔
خوش قسمتی سے، اسلامی وظائف اور قرآنی دعائیں ہمیں اس پریشانی سے نکلنے کی راہ دکھاتی ہیں۔ یہ مضمون تین عظیم دعاؤں (جو احادیث مبارکہ سے ثابت ہے) اور ان کے پس منظر کو بیان کرتا ہے جو قرض سے چھٹکارا، پھنسی ہوئی رقم نکلوانے کا وظیفہ اور مالی تنگی دور کرنے کا وظیفہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
حضرت علیؓ سے مروی دعا، حلال رزق اور بے نیازی کا حصول
1. مکاتَب غلام کا مسئلہ اور حضرت علیؓ کی رہنمائی
حضرت ابو وائلؒ فرماتے ہیں کہ ایک مُکاتَب غلام (مُکاتَب اس غلام کو کہتے ہیں جسے اس کے آقا نے کہا ہو کہ اگر تم اتنا مال اتنے عرصہ میں ادا کر دو گے تو تم آزاد ہو جاؤ گے) نے حضرت علیؓ کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ میں کتابت میں مقرر شدہ مال ادا کرنے سے عاجز ہو گیا ہوں۔ آپ اس بارے میں میری مدد فرمائیں۔
2. صِیر پہاڑ جتنا قرض بھی ادا ہو جائے گا!
حضرت علیؓ نے فرمایا: “کیا میں تمہیں وہ کلمات نہ سکھاؤں جو حضورﷺ نے مجھے سکھائے تھے؟ اگر تم پر (یمن کے) صِیر پہاڑ کے برابر بھی قرض ہو تو بھی اللہﷻ تمہارا وہ قرض ادا کرادے گا۔” آپؓ نے فرمایا: “تم یہ دعا پڑھا کرو:”
دعا
اَللّٰھُمَّ اکْفِنِيْ بِحَلاَلِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَأَغْنِنِيْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ
ترجمہ: “اے اللہ! مجھے اپنا حلال رزق دے کر حرام سے بچا دے اور اپنے فضل و کرم سے مجھے اپنے ماسوا سے بے نیاز کر دے۔”
ماخذ: (سنن ترمذی، کتاب الدعوات، حدیث نمبر 3563)
یہ دعا قرض سے نجات کے لیے وظیفہ ہے جو حلال رزق میں برکت اور مالی آسانی لاتی ہے۔ یہ قرض کی ادائیگی کا وظیفہ اور ایک طاقتور وظیفہ برائے قرض ہے۔
ابو اُمامہؓ کی مشکل اور نبی کریم ﷺ کی عطا کردہ دعا
1. غموں اور قرضوں کا بوجھ
حضرت ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ ایک دن مسجد میں تشریف لائے تو اچانک آپ کی نظر ایک انصاری شخص پر پڑی جنھیں ابو اُمامہ کہا جاتا تھا۔ حضورﷺ نے فرمایا: “اے ابو اُمامہ! کیا بات ہے تم آج مسجد میں نماز کے وقت کے علاوہ دوسرے وقت میں بیٹھے ہوئے ہو؟” انھوں نے عرض کیا: “یا رسول اللہ! غموں اور قرضوں نے مجھے گھیر لیا ہے۔”
(مطلب یہ قرض کی پریشانی اور غموں سے نجات کی دعا کا پس منظر ہے۔)
2. غموں اور قرضوں سے چھٹکارا دلانے والی دعا
حضورﷺ نے فرمایا: “کیا میں تمہیں ایسا کلمات نہ سکھاؤں کہ جب تم اسے پڑھوں گے تو اللہﷻ تمہارا غم دور کریں گے اور قرض اتروا دیں گے۔” انھوں نے عرض کیا: “یا رسول اللہ! ضرور سکھا دیں۔” حضورﷺ نے فرمایا: “صبح اور شام یہ دعا پڑھا کرو:”
دعا
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْھَمِّ وَالْحُزْنِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْکَسْلِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ غَلَبَۃِ الدَّیْنِ وَقَھْرِ الرِّجَالِ
ترجمہ: “اے اللہ! میں ہر فکر و غم سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور عاجز ہو جانے اور سستی سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور بزدلی اور کنجوسی سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور قرضہ کے غلبے اور لوگوں کے میرے اوپر دباؤ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔”
ماخذ: (سنن ابی داؤد، کتاب الصلاۃ، حدیث نمبر 1541؛ صحیح بخاری، کتاب الدعوات، حدیث نمبر 6369)
3. دعا کی فوری تاثیر: ابو اُمامہؓ کا تجربہ
حضرت ابو اُمامہؓ فرماتے ہیں: “میں نے ایسا کیا تو اللہﷻ نے میرے غم بھی دور کر دیے اور میرا قرضہ بھی سارا ادا کرا دیا۔”
(یہ قرض سے نجات کی حیرت انگیز دعا اور مالی مشکلات کا حل ہے۔ یہ پیسوں کا وظیفہ اور اپنا حق لینے کا وظیفہ بھی ہے۔)
حضرت معاذ بن جبلؓ کو عطا کردہ خصوصی دعا: ہر مشکل سے آسانی
1. جمعہ کے دن کی تاخیر اور قرض کا معاملہ
ایک دفعہ جمعہ کے دن حضورﷺ نے حضرت معاذ بن جبلؓ کو نہ دیکھا۔ حضورﷺ جب نماز سے فارغ ہوگئے تو حضرت معاذ کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: “اے معاذ! کیا بات ہے آج تم (جمعہ کی نماز میں) نظر نہیں آئے؟” انھوں نے عرض کیا: “یا رسول اللہ! ایک یہودی کا مجھ پر ایک اُوقیہ سونا قرضہ ہے، میں گھر سے آپ کی خدمت میں حاضری کے لیے چل پڑا لیکن راستہ میں وہ یہودی مل گیا جس کی وجہ سے دیر ہو گئی تھی۔”
(یہ قرض کی واپسی کے حوالے سے ایک اہم واقعہ ہے۔)
2. حضور ﷺ کی حضرت معاذؓ کو قرض کی جامع دعا
حضورﷺ نے فرمایا: “اے معاذ! کیا میں تمہیں ایسی دعا نہ سکھا دوں کہ اگر (یمن کے) صِیر پہاڑ جتنا بھی تم پر قرض ہو اور تم یہ دعا پڑھو تو اللہ تعالیٰ تمہارا وہ قرضہ ضرور ادا کرا دیں گے۔ اے معاذ! تم یہ دعا کیا کرو:”
دعا
اَللّٰھُمَّ مَالِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِي الْمُلْکَ مَنْ تَشَائُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَائُ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشَائُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَائُ، بِیَدِکَ الْخَیْرُ إِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِیْرٌ۔ تُوْلِجُ اللَّیْلَ فِي النَّھَارِ وَتُوْلِجُ النَّھَارَ فِي اللَّیْلِ، وَتُخْرِجُ الْحِيَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَتُخُرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَيِّ، وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَائُ بِغَیْرِ حِسَابٍ۔ رَحْمٰنَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَرَحِیْمَھُمَا! تُعْطِيْ مِنْھُمَا مَنْ تَشَائُ وَتَمْنَعُ مَنْ تَشَائُ، اِرْحَمْنِيْ رَحْمَۃً تُغْنِیْنِيْ بِھَا عَنْ رَّحْمَۃِ مَنْ سِوَاکَ
ترجمہ: “اے اللہ! اے تمام ملک کے مالک! تو جس کو چاہے ملک دے دیتا ہے اور جس سے چاہے ملک چھین لیتا ہے، اور تو جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلت دیتا ہے، ہر بھلائی تیرے ہی اختیار میں ہے، بلاشبہ تو ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ تو رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے (کبھی دن بڑا ہوتا ہے اور کبھی رات)، اور تو زندہ کو مردہ سے نکال لیتا ہے اور مُردے کو زندہ سے نکال لیتا ہے (پرندہ سے انڈا نکال لیتا ہے اور انڈے سے پرندہ)، اور تُو جسے چاہتا ہے اسے بے حساب روزی دیتا ہے۔ اے دنیا وآخرت کے رحمن! اے دنیا وآخرت کے رحیم! تو دنیا اور آخرت جسے چاہے دے دیتا ہے اور جس سے چاہے روک لیتا ہے، تو مجھ پر ایسی خاص رحمت نازل فرما جس کے بعد مجھے تیرے سوا کسی کی ضرورت نہ رہے۔”
ماخذ: (المعجم الصغیر للطبرانی، حدیث نمبر 949؛ اس کی سند کو صحیح قرار دیا گیا ہے۔)
حیرت انگیز وظیفہ بھی پڑھیں
اُحُد پہاڑ جتنا قرض ادا کرنے کی دعا
1. حضرت انسؓ کی روایت اور معاذؓ کو نصیحت
حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے حضرت معاذؓ کو فرمایا: “کیا میں تمہیں ایسی دعا نہ سکھا دوں کہ اگر اُحُد پہاڑ جتنا بھی تم پر قرضہ ہو تو بھی اللہ تعالیٰ ضرور اتروا دے گا؟”
(یہ قرض کی واپسی کا وظیفہ اور اُحُد پہاڑ جتنا قرض ادا کرنے کا وظیفہ ہے۔)
2. مختصر مگر مؤثر “اللہُمَّ مَالِکَ الْمُلْکِ” دعا
اے معاذ! تم یہ دعا پڑھو: اَللّٰھُمَّ مَالِکَ الْمُلْکِ (پچھلی دعا جیسی دعا ذکر فرمائی) البتہ اس میں تُوْلِجُ اللَّیْلَ سے آخر تک کا ذکر نہیں ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں: رَحْمٰنَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ تُعْطِیْہِمَا مِنْھُمَا مَنْ تَشَائُ وَتَمْنَعُ مَنْ تَشَائُ۔ آگے پچھلی حدیث جیسی دعا ذکر کی۔
ماخذ: یہ روایت بھی طبرانی کے حوالے سے بعض کتب میں ذکر کی گئی ہے اور امام ہیثمی نے مجمع الزوائد میں اس کے رجال کو ثقہ قرار دیا ہے۔ یہ بنیادی طور پر اوپر والی معاذؓ کی روایت ہی کا ایک مختلف طریق یا مختصر شکل ہے۔
(یہ دعا ناممکن کو ممکن بنانے کا وظیفہ ہے، جو ہر قسم کی مالی پریشانی اور رقم کی وصولی کے لیے پڑھی جاتی ہے۔ یہ نہ صرف قرض وصول کرنے کا وظیفہ ہے بلکہ پیسے واپس لینے کا عمل بھی ہے۔ رب انی مغلوب فانتصر کا وظیفہ بھی اسی طرح اللہ کی مدد پر توکل کا اظہار ہے۔ قرض واپس کرتے وقت کی دعا بھی سنت ہے۔)
اسلامی وظائف اور دیگر مالی مشکلات کی دعائیں کے بارے میں مزید جاننے کے لیے ہمارا مسنون دعائیں کا صفحہ دیکھیں۔
اللہﷻ ہم سب جائز و شرعی ضروریات اپنے غیب کے خزانوں سے پورا فرمادے اور جتنے بھی قرض دار ہے ان کی قرضوں کا بندوبست فرمائیں۔ آمین