القرآن الکریم

چیونٹیوں کو گھر سے بھگانے کا عمل

چیونٹیوں کو گھر سے بھگانے کا عمل | MasnoonDuayain

عملیات اور وظائف کا علم اسلامی تاریخ میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے، اللہﷻ قرآنی آیات اور دعاؤں کی برکات سے مختلف مشکلات حل فرماتے ہے۔ یہ مضمون قرآنی عملیات کی ابتدا، ان کی حکمت، اور تجربات کی روشنی میں ان کے اثرات پر روشنی ڈالتا ہے۔ خصوصاً، چیونٹیوں کو گھر سے بھگانے کا عمل اور دیگر مسائل کے حل کے لیے قرآنی آیات کا استعمال دلچسپ ہے۔


چیونٹیوں کو گھر سے بھگانے کا عمل

فرمایا کہ مولانا شیخ محمد صاحبؒ فرماتے تھے کہ ایک دفعہ میرے گھر میں چیونٹے بہت کثرت سے پھیل گئے۔ میں نے ادھر اُدھر دیکھا تو ایک سوراخ میں سے آرہے ہیں۔ میں نے اس سوراخ پر یہ آیت لکھ کر رکھ دی

{یٰٓاَیُّھَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰکِنَکُمْج لَا یَحْطِمَنَّکُمْ سُلَیْمٰنُ وَجُنُوْدُہٗ لا وَھُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ} (سورۃ النمل، آیت 18)

بس وہیں سوراخ میں (سارے چیونٹے) سمٹ کر رہ گئے۔

فائدہ: اگر کوئی شخص چیونٹی بھگانے کا عمل کرنا چاہتا ہے مطلب کسی کے گھر میں چیونٹیاں زیادہ ہو اور وہ چیونٹیوں سے نجات چاہتا ہو تو وہ چیونٹی بھگانے کا طریقہ کو اس طور پر اپنائے کہ اس آیت شریفہ کو ایک کاغذ پر لکھ کر چیونٹیوں کے مسکن (یعنی سوراخ جہاں سے وہ نکل رہے ہو) میں رکھ دے۔ بشرط یہ کہ وہ جگہ پاک ہو نجس نہ ہو۔ اس ایت شریفہ کی برکت اور تاثیر سے اللہﷻ چیونٹی سے نجات دینگے۔

اس ایت شریفہ کو بعض لوگ چیونٹی کی دعا بھی کہتے ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ چیونٹیوں کا مارنا یا پانی میں پھنکنا اور اس کے مسکن کو جلانا جائز نہیں۔ البتہ اگر کوئی ایک چیونٹی کسی کو ڈسے تو صرف اس کو مار سکتے ہیں۔ واللہ اعلم


عملیات کی ابتداء اور ان کے اصول

ہمارے حضرت نے فرمایا کہ بس عملیات اسی طرح شروع ہوئے ہیں کہ جو آیت جس موقع کے مناسب ہوئی وہی لکھ کر دے دی، بس اس سے اثر ہونا شروع ہوگیا۔ اور عاملین کے یہاں جو خاص ترکیبیں عمل کرنے کی ہیں اس کے متعلق فرمایا کہ یہ سب الہامی نہیں ہیں۔ زیادہ تر کچھ قیاسات ہیں، کچھ مناسبات ہیں، کچھ تجربے ہیں، مثلاً بچہ صحیح سالم پیدا ہونے کے لیے ایک مشہور عمل “سورة الشمس” کا ہے جو حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے ’’القول الجمیل ‘‘ میں نقل فرمایا ہے۔

یہ بہت مفید عمل ہے جیسا کہ بارہا تجربہ کیا جا چکا ہے۔ لیکن یہ سمجھ میں نہ آتا تھا کہ سورة الشمس کو بچہ کے صحیح سالم ہونے سے کیا مناسبت ہے؟ ایک مدت کے بعد سمجھ میں آیا کہ اس سورت میں جو یہ آیت ہے

{وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰہَا} (سورۃ الشمس، آیت 7)

ترجمہ: “قسم ہے نفس کی اور اس کی جس نے اس کو ٹھیک بنایا۔”


قرآنی آیات کی مناسبت اور ذاتی تجربات

چناں چہ میں خود بہت سی چیزیں اس قسم کی مناسبتوں کی بنا پر تجویز کرلیتا ہوں اور اکثر اثر بھی ہوتا ہے۔ مثلاً ایک بی بی صاحبہ (جن کا مجھ سے پردہ نہیں تھا) وہ مانگ نکال رہی تھی اور کوشش کے باوجود وہ سیدھی نہ نکلتی تھی۔ میں نے محض مناسبت سے انہیں یہ بتلایا کہ: {اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ} (سورۃ الفاتحہ، آیت 6) پڑھ کر مانگ نکال لو، چناں چہ پہلی ہی مرتبہ میں سیدھی مانگ نکل آئی۔ (یہ قرآنی آیات کی تاثیر کا ایک منفرد تجربہ تھا۔)


ولادت کی آسانی کے لیے قرآنی تعویذ

(شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ ) میں نے اور عملیات میں بھی اپنی طرف سے ایسی ہی مناسبتوں کی بناء پر کچھ نہ کچھ تصرف کر رکھا ہے۔ مثلاً ولادت کی آسانی کے لیے ان آیتوں کا تعویذ مشہور ہے: {اِذَا السَّمَآئُ انْشَقَّتْ، لا وَاَذِنَتْ لِرَبِّہَا وَحُقَّتْ} (سورۃ الانشقاق، آیات 1-2 )

میں نے اس میں اتنا اور بڑھا دیا: {خَلَقَہٗ فَقَدَّرَہٗ، ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَہٗ} (سورۃ عبس، آیات 19-20) کیوں کہ یہ آیت تو خاص اسی باب میں ہے اور وہ پہلی آیتیں اس باب میں نہیں۔ ان میں تو زمین وآسمان کا ذکر ہے، صرف {وَاَلْقَتْ مَا فِیْہَا وَتَخَلَّتْ} (سورۃ الانشقاق، آیت 4) کی مناسبت سے یہ تعویذ لکھا جاتا ہے جو زمین کے متعلق ہے.

جنین (ماں کے پیٹ کے بچہ) کے نہیں اور {ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَہٗ} (سورۃ عبس، آیت 20) خاص جنین ہی کے متعلق ہے۔( یہ قرآنی آیات سے علاج اور آیات کی مناسبت کی عمدہ مثال ہے۔)


عملیات میں نجومی قیدوں سے اجتناب

اور فرمایا کہ میں نے عملیات میں اس قسم کے سب قیدوں کو حذف کردیا ہے کہ پیر کا دن ہو، دوپہر کا وقت ہو۔ کیوں کہ میرا یہ خیال ہے کہ یہ نجوم کا شعبہ ہے اس لیے ناجائز سمجھ کر چھوڑ دیا۔ اسلام میں نجوم کی بجائے توکل اور اللہ کی مدد پر بھروسہ کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔

(ماخذ: اشرف العملیات)

اسلامی وظائف اور قرآنی دعاؤں کی برکات کے بارے میں مزید معلومات کے لیے ہمارا صفحہ مسنون دعائیں ملاحظہ کریں۔


Leave a Comment

Your email will not be published. Required fields are marked *