تاریخ اسلام میں چند شخصیات ایسی ہیں جن کی زندگیاں صرف قصے نہیں، بلکہ ایمان، عزم اور سچائی کی تلاش کی لازوال داستانیں ہیں۔ انہی میں سے ایک عظیم شخصیت حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ کا واقعہ کوئی عام واقعہ نہیں، بلکہ یہ دین حق کی تلاش کا ایک ایسا سفر ہے جو برسوں پر محیط رہا اور بے شمار مشکلات و آزمائشوں سے عبارت تھا۔ آپ نے گھر، خاندان اور دنیاوی آسائشوں کو خیرباد کہہ کر صرف اور صرف ایک سچے دین کی تلاش میں اپنی زندگی گزار دی۔ اس مضمون میں، ہم آپ کو یہ پورا ایمان افروز واقعہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی زبانی سنائیں گے۔
1. ابتدائی زندگی اور دین مجوسیت سے بیزاری
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں فارس کے صوبہ اصفہان میں ایک جگہ کا رہنے والا تھا جس کا نام “جے” تھا۔ میرا باپ اس جگہ کا سردار اور چوہدری تھا اور مجھ سے بے پناہ محبت کرتا تھا۔ وہ مجھ سے اتنا زیادہ پیار کرتے تھے کہ مجھے بچیوں کی طرح گھر میں ہی بٹھا دیا کرتے تھے۔ میں نے اپنے قدیم مذہب مجوسیت (آگ کی پرستش) میں اتنی زیادہ محنت اور لگن سے کام کیا کہ میں آتش کدہ (آگ کی عبادت گاہ) کا محافظ بن گیا، جس کی آگ کو کبھی بجھنے نہیں دیا جاتا تھا۔
ایک دن میرے والد اپنے کسی کام میں مصروف ہو گئے تو مجھ سے کہنے لگے: ”بیٹا! آج میں اس تعمیراتی کام میں مصروف ہونے کی وجہ سے زمینوں پر نہیں جا سکا، اس لیے تم وہاں جا کر ان کی دیکھ بھال کرو اور مجھے چند ضروری باتیں بتاؤ۔“ میں زمینوں پر جانے کے ارادے سے روانہ ہو گیا۔ راستے میں میرا گزر نصاریٰ (عیسائیوں) کے ایک گرجے (عبادت گاہ) پر ہوا۔ چونکہ والد صاحب نے مجھے گھر میں ہی بٹھا رکھا تھا، اس لیے مجھے لوگوں کے معاملات کا کچھ علم نہ تھا۔ جب میں ان کے پاس سے گزرا اور ان کی آوازیں سنیں تو میں سیر کے لیے اس میں چلا گیا۔ میں نے ان کو نماز پڑھتے دیکھا تو مجھے وہ عمل پسند آ گیا، اور میں اس دین کو پسند کرنے لگا۔ میرے دل میں خیال آیا کہ واللہ یہ دین ہمارے دین سے زیادہ بہتر ہے۔
شام تک میں وہیں رہا اور والد صاحب کی زمینوں پر نہیں گیا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اس دین کا مرکز کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: ”ملک شام میں ہے۔“ جب میں رات کو گھر واپس آیا تو گھر والوں نے پوچھا کہ تم سارا دن کہاں رہے؟ میں نے تمام قصہ سنا دیا۔ باپ نے کہا کہ ”بیٹا، وہ دین اچھا نہیں ہے، تیرا اور تیرے بڑوں کا جو دین ہے وہی بہتر ہے۔“ میں نے جواب دیا کہ ہرگز نہیں، وہی دین بہتر ہے۔ باپ کو میری طرف سے یہ خدشہ ہو گیا کہ کہیں میں بھاگ نہ جاؤں، اس لیے میرے پاؤں میں ایک بیڑی ڈال دی اور مجھے گھر میں قید کر دیا۔
2. حق کی تلاش میں مسلسل سفر اور نیک راہبوں کی صحبت
اپنے مقصد کی خاطر میں نے عیسائیوں کے پاس پیغام بھیجا کہ جب شام سے سوداگر لوگ جو اکثر آتے رہتے تھے آئیں تو مجھے اطلاع کرا دیں۔ چنانچہ کچھ سوداگر آئے اور ان عیسائیوں نے مجھے اطلاع کرا دی۔ جب وہ واپس جانے لگے تو میں نے اپنی پاؤں کی بیڑی کاٹ دی اور بھاگ کر ان کے ساتھ شام چلا گیا۔
وہاں پہنچ کر میں نے تحقیق کی کہ اس مذہب کا سب سے زیادہ ماہر کون ہے, لوگوں نے بتایا کہ گرجا میں فلاں پادری ہے میں اس کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ مجھے آپ کے دین میں داخل ہونے کی رغبت ہے اور میں آپ کی خدمت میں رہنا چاہتا ہوں ، اس نے منظور کرلیا ، میں اس کے پاس رہنے لگا لیکن وہ کچھ اچھا نہ نکلا، لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دیتا اور جو کچھ جمع ہوتا اس کو اپنے خزانہ میں رکھ لیتا ، غریبوں کو کچھ نہ دیتا، یہاں تک کہ اس نے سونے چاندی کے سات مٹکے جمع کر لئے تھے ، مجھے اس کی ان حرکتوں پر اس سے شدید نفرت ہوگئی جب وہ مرگیا اور عیسائی اسے دفن کرنے کے لئے جمع ہوئے تو میں نے ان سے کہا کہ یہ بہت برا آدمی تھا تمہیں صدقہ کرنے کا حکم اور اس کی ترغیب دیتا تھا اور جب تم اس کے پاس صدقات لے کر آتے تو وہ انہیں اپنے پاس ذخیرہ کرلیتا تھا اور مسکینوں کو اس میں سے کچھ نہیں دیتا تھا، لوگوں نے پوچھا تمہیں اس بات کا علم کیسے ہوا؟ میں نے کہا کہ میں تمہیں اس خزانے کا پتہ بتا دیتا ہوں، انہوں نے کہا ضرور بتاؤ، چناچہ میں نے انہیں وہ جگہ دکھا دی اور لوگوں نے وہاں سے سونے چاندی سے بھرے ہوئے سات مٹکے برآمد کر لئے اور یہ دیکھ کر کہنے لگے واللہ ہم اسے کبھی دفن نہیں کرے گے چناچہ انہوں نے اس پادری کو سولی پر لٹکا دیا اور پھر اسے پتھروں سے سنگسار کرنے لگے۔
اس کی جگہ دوسرے شخص کو بٹھایا گیا، وہ اس سے بہت بہتر تھا اور دنیا سے بالکل بے رغبت تھا۔ میں نے پنجگانہ نماز پڑھنے والے کو اس سے زیادہ افضل اور دنیا سے زیادہ بے رغبت اور رات دن عبادت کرنے والا نہیں دیکھا۔ میں اس کی خدمت میں رہنے لگا اور اس سے مجھے ایسی محبت ہو گئی کہ اس سے پہلے کسی سے نہ ہوئی تھی۔ بالآخر وہ بھی مرنے لگا تو میں نے اس سے پوچھا کہ مجھے کسی کے پاس رہنے کی وصیت کر دو۔ اس نے کہا کہ میرے طریقہ پر صرف ایک ہی شخص دنیا میں ہے، اس کے سوا کوئی نہیں، وہ موصل میں رہتا ہے۔ تم اس کے پاس چلے جانا۔
میں اس کے مرنے کے بعد موصل چلا گیا اور اس سے جا کر اپنا قصہ سنایا۔ اس نے مجھے اپنی خدمت میں رکھ لیا۔ وہ بھی بہترین آدمی تھا۔ آخر اس کی بھی وفات ہونے لگی تو میں نے اس سے پوچھا کہ اب میں کہاں جاؤں؟ اس نے کہا: ”فلاں شخص کے پاس نصیبین میں چلے جانا۔“ میں اس کے پاس چلا گیا اور اس سے اپنا قصہ سنایا، اس نے مجھے اپنے پاس رکھ لیا۔ وہ بھی ایک اچھا آدمی تھا۔ جب اس کے مرنے کا وقت آیا تو میں نے اس سے پوچھا کہ اب میں کہاں جاؤں؟ اس نے کہا: ”عموریا (Amorium) میں فلاں شخص کے پاس چلے جانا۔“ میں وہاں چلا گیا اور اس کے پاس رہنے لگا۔
صحابہ کرام کے توبہ کے ایمان افروز واقعات پڑھیں
3. عموریہ کے راہب کی پیشگوئی: نبی آخر الزماں ﷺ کی آمد
عموریہ میں، میں نے کچھ کمائی کا دھندا بھی کیا جس سے میرے پاس چند گائیں اور کچھ بکریاں جمع ہو گئیں۔ جب اس کی وفات کا وقت قریب ہوا تو میں نے اس سے پوچھا کہ اب میں کہاں جاؤں؟ اس نے کہا: ”اب اللہ کی قسم! کوئی شخص اس طریقے کا، جس پر ہم لوگ ہیں، عالم نہیں رہا۔ البتہ نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے پیدا ہونے کا زمانہ قریب آ گیا ہے۔ وہ دین ابراہیمی پر ہوں گے، عرب میں پیدا ہوں گے اور ان کی ہجرت کی جگہ ایسی زمین ہے جہاں کھجوروں کی پیداوار بکثرت ہے اور اس کے دونوں جانب کنکریلی زمین ہے۔ وہ ہدیہ نوش فرمائیں گے اور صدقہ نہیں کھائیں گے۔ ان کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت ہو گی۔ اگر تم سے ہو سکے تو اس سرزمین پر پہنچ جانا۔“
4. سرزمین عرب کی طرف ہجرت اور غلامی کا دکھ
اس کے انتقال کے کچھ عرصے بعد قبیلہ بنو کلب کے چند تاجروں کا وہاں سے گزر ہوا۔ میں نے ان سے کہا کہ اگر تم مجھے اپنے ساتھ عرب لے چلو تو اس کے بدلے میں یہ گائیں اور بکریاں تمہاری ہیں۔ انہوں نے قبول کر لیا اور مجھے وادی القریٰ (یعنی مکہ مکرمہ) لے آئے۔ میں نے وہ گائیں اور بکریاں ان کو دے دیں، لیکن انہوں نے مجھ پر یہ ظلم کیا کہ مجھے مکہ مکرمہ میں اپنا غلام ظاہر کر کے آگے بیچ دیا۔ بنو قریظہ کے ایک یہودی نے مجھے خرید لیا اور اپنے ساتھ اپنے وطن مدینہ طیبہ لے آیا۔ مدینہ طیبہ کو دیکھتے ہی میں نے ان علامات سے جو مجھے عموریہ کے ساتھی (پادری) نے بتائی تھیں، پہچان لیا کہ یہی وہ جگہ ہے۔
میں وہاں رہتا رہا کہ اتنے میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے مکے سے ہجرت فرما کر مدینہ طیبہ تشریف لائے۔ ایک دن میں اپنے آقا کے باغ میں کام کر رہا تھا کہ میرے آقا کا چچا زاد بھائی آ گیا اور کہنے لگا: ”بنو قیلہ (انصار کے دو بڑے قبیلے) پر اللہ کی مار ہو، وہ قبا میں ایک ایسے آدمی کے پاس جمع ہو رہے ہیں جو ان کے پاس آج ہی آیا ہے اور اپنے آپ کو نبی سمجھتا ہے۔“ یہ سنتے ہی مجھ پر ایسی بے خودی طاری ہوئی کہ مجھے لگتا تھا میں اپنے آقا کے اوپر گر پڑوں گا۔ پھر میں درخت سے نیچے اترا اور اس کے چچا زاد بھائی سے کہنے لگا کہ آپ کیا کہہ رہے تھے؟ اس پر میرے آقا کو غصہ آ گیا اور اس نے مجھے زور سے مکا مار کر کہا کہ تمہیں اس سے کیا مقصد ہے؟ جاؤ جا کر اپنا کام کرو۔ میں نے دل میں سوچا کوئی بات نہیں، اور یہ ارادہ کر لیا کہ اس کے متعلق معلومات حاصل کر کے رہوں گا۔
5. نبی آخر الزماں کی تین نشانیاں
میرے پاس کچھ پونجی جمع تھی، شام ہوئی تو وہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک قبا ہی میں تشریف فرما تھے۔ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ:
- پہلی نشانی: صدقہ کا قبول نہ کرنا ”مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نیک آدمی ہیں اور آپ کے ساتھ غریب اور حاجت مند لوگ ہیں یہ صدقے کا مال ہے، میں دوسرے سے زیادہ آپ لوگوں کو اس کا حق دار سمجھتا ہوں۔“حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تناول نہیں فرمایا اور (فقراء) صحابہ کرام سے فرمایا: ”تم کھا لو۔“ میں نے اپنے دل میں کہا کہ ایک علامت تو پوری نکلی۔
- دوسری نشانی: ہدیہ کا قبول کرنا– پھر میں مدینہ واپس آ گیا اور کچھ جمع کیا کہ اس دوران میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ میں نے کچھ کھجوریں اور کھانا وغیرہ پیش کیا اور عرض کیا کہ ”یہ ہدیہ ہے۔“ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے تناول فرمایا۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ یہ دوسری علامت بھی پوری ہو گئی۔
- تیسری نشانی: مہر نبوت کا مشاہدہ– اس کے بعد میں ایک مرتبہ پھر حاضر خدمت ہوا۔ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک صحابی کے جنازے میں شرکت کی وجہ سے بقیع میں تشریف فرما تھے۔ میں نے سلام کیا اور آپ کی پشت کی طرف گھومنے لگا تاکہ مہر نبوت کا مشاہدہ کر سکوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری منشا سمجھ گئے اور اپنی چادر مبارک کمر سے ہٹا دی۔ میں نے مہر نبوت کو دیکھا اور جوش میں اس پر جھک گیا، اس کو چومتا رہا اور روتا رہا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سامنے آؤ۔“ میں سامنے حاضر ہوا اور سارا قصہ سنایا۔
6. آزادی کا معجزہ: مکاتبت کا معاملہ
اس کے بعد میں اپنی غلامی کے مشاغل میں پھنسا رہا اور اسی بنا پر بدر اور احد میں بھی شریک نہ ہو سکا۔ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے آقا سے مکاتبت کا معاملہ کر لو (مکاتبت کا مطلب یہ ہے کہ غلام اپنے مالک سے ایک معین رقم طے کر کے خود کو آزاد کرا لے۔)۔ میں نے اس سے معاملہ کر لیا۔ اس نے دو چیزیں بدل مکاتبت (آزادی کے بدلے) قرار دیں:
- چالیس اوقیہ نقد سونا (ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے)۔
- تین سو درخت کھجور کے لگاؤں اور ان کی پرورش کروں، یہاں تک کہ وہ پھل دینے لگیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ: ”اپنے بھائی کی مدد کرو۔“ چنانچہ صحابہ کرام نے اس طرح میری مدد کی کہ کسی نے مجھے تیس پودے دیے، کسی نے بیس، کسی نے پندرہ اور کسی نے دس۔ ہر آدمی اپنی گنجائش کے مطابق میری مدد کر رہا تھا، یہاں تک کہ میرے پاس تین سو پودے جمع ہو گئے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”سلمان! جا کر ان کے لیے کھدائی کرو اور فارغ ہو کر مجھے بتاؤ۔ میں خود اپنے ہاتھ سے یہ پودے لگاؤں گا۔“ چنانچہ میں نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے زمین کی کھدائی کی اور فارغ ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں مطلع کر دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ باغ کی جانب روانہ ہو گئے۔ ہم ایک ایک پودا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے جاتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنے دست مبارک سے لگاتے جاتے تھے۔ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں سلمان کی جان ہے، ان میں سے ایک پودا بھی نہیں مرجھایا تھا۔ یوں میں نے باغ کی شرط پوری کر دی۔
(ایک دوسری روایت میں ہے کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے کھجوریں لگائیں جو کہ اسی سال پھل لے آئیں )
اب مجھ پر سونے کا مال باقی رہ گیا تھا۔ اتفاق سے کسی غزوے سے مرغی کے انڈے کے برابر سونا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو عطا فرما دیا کہ اس کو جا کر اپنے بدل مکاتبت میں دے دو۔ میں نے عرض کیا کہ ”یا رسول اللہ! یہ کیا کافی ہو گا؟ وہ بہت زیادہ مقدار ہے۔“ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حق تعالیٰ شانہ اسی سے پورا فرما دیں گے۔“ چنانچہ میں لے گیا اور اس میں سے وزن کر کے چالیس اوقیہ سونا اس کو تول دیا، اور میں آزاد ہو گیا۔ پھر میں غزوہ خندق میں شریک ہوا اور اس کے بعد کسی غزوے کو نہیں چھوڑا۔
(حوالہ: مسند احمد بن حنبلؒ : 23737)
7. واقعے سے ملنے والے اسباق اور پیغامات
سیرت نبوی کے واقعات اور صحابہ کے واقعات ہمیں زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ اس عظیم اور ایمان افروز داستان سے ہمیں کئی قیمتی اسباق حاصل ہوتے ہیں:
- عزم اور استقامت: حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے دین حق کی تلاش میں اپنے وطن، خاندان، مال اور یہاں تک کہ اپنی آزادی کی بھی پرواہ نہیں کی۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ سچے مقصد کے لیے استقامت ہی منزل تک پہنچاتی ہے۔
- نبی ﷺ کی شفقت اور معجزہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت اور معجزاتی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کے لگائے ہوئے کھجور کے درخت ایک بھی نہیں مرجھائے اور مرغی کے انڈے کے برابر سونا چالیس اوقیہ کے برابر ہو گیا۔
- صحابہ کرام کی آپس میں مدد: صحابہ کرام نے اس طرح میری مدد کی (سلمان فارسی رضی اللہ عنہ) کا جملہ ہمیں اسلامی بھائی چارے اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کی اہمیت سے آگاہ کرتا ہے۔
- توکل علی اللہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ”حق تعالیٰ شانہ اسی سے پورا فرما دیں گے“ اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ پر مکمل بھروسہ انسان کو ہر مشکل سے نکالتا ہے۔
مزید پڑھیں
اگر آپ سیرت نبوی اور صحابہ کرام کے دیگر ایمان افروز واقعات کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو آپ ہماری ویب سائٹ پر درج ذیل مضامین پڑھ سکتے ہیں:
- حضرت ابو الدرداءؓ کا ایمان افروز واقعہ
- اصحاب الاخدود اور ایک بچے کا حیرت انگیز اور ایمان افروز واقعہ
- ایمان کے حیرت انگیز واقعات
- اسلام کی حقانیت کا یادگار واقعہ
- حضرت مقداد بن عمرو کا حیرت انگیز واقعہ
- حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور صحابی رسول کا ایمان افروز واقعہ
- نبی اکرم کی حیات طیبہ
- دعا کی برکت
Please send me new and old
What’s you want dear??