صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کی زندگیاں ایمان، توکل اور اللہ پر کامل یقین کی درخشاں مثالیں ہیں۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ ایک ایسا اسلامی سبق ہے، جو ہمیں اللہ کی قدرت اور اس کے ذکر کی فضیلت سکھاتا ہے۔ یہ ایک ایسا ہی حیرت انگیز واقعہ ہے جو حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے مضبوط ایمان اور ایک خاص دعا کی برکت کو نمایاں کرتا ہے۔ یہ واقعہ صحابہ کرام کے توکل کی عظیم مثال پیش کرتا ہے اور مسلمانوں کے لیے سبق ہے۔
آگ کا شعلہ اور صحابی کا اطمینان
حضرت ابو الدرداءؓ مسجد میں تشریف فرما تھے، اچانک آپؓ کے محلہ میں آگ لگ گئی، مکانات جلنے لگے۔ کسی نے آکر حضرت کو اطلاع دی کہ: “آپ کا گھر بھی نذرِ آتش ہوچکا ہے اور شعلے بلند ہو رہے ہیں!” آپؓ نے بہت اطمینان سے جواب دیا: “میرا گھر محفوظ ہے۔” پھر لگاتار کئی لوگوں نے آکر یہی اطلاع دی، لیکن آپ نے یہی جواب دیا: “میرا گھر نہیں جلا۔”
چنانچہ آگ کے بجھنے کے بعد معلوم ہوا کے واقعی حضرت ابو الدرداءؓ کا مکان محفوظ رہا۔ یہ ایک معجزاتی واقعہ تھا جو ان کے توکل علی اللہ اور ایمانی قوت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس مشکل وقت میں صبر اور استقامت ان کے ایمان کا پختہ ثبوت تھی۔
حفاظتی کلمات اور ان کی برکت
کسی نے وجہ دریافت کی تو آپ رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ کا ارشاد سنایا کہ: “جو شخص صبح ان کلمات کو پڑھ لے، شام تک اس کو کوئی مصیبت لاحق نہیں ہوگی، اور میں نے صبح یہ کلمات پڑھ لیے تھے،” وہ یہ ہیں
اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ عَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، مَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ ، أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَمِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاط مُسْتَقِيم .
ترجمہ: “اے اللہ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے تجھ پر بھروسا کیا، اور تو ہی عرشِ عظیم کا رب ہے۔ جو اللہ چاہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہ چاہے وہ نہیں ہوتا۔ اللہ کی مدد کے بغیر نہ کوئی طاقت ہے نہ کوئی قوت، وہ جو بلند اور عظیم ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور اللہ نے ہر چیز کو اپنے علم میں گھیر رکھا ہے۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے نفس کے شر سے اور ہر اس جاندار کے شر سے جس کی پیشانی تو نے پکڑ رکھی ہے، بے شک میرا رب سیدھے راستے پر ہے۔”
(السنن الكبرى للنسائي، كتاب الجنائز، باب ما يقول إذا أمسي، ح 10459)
( عمل اليوم والليلة لابن السني، باب ما يقول إذا خاف أمراً، ح 53 )
(اس کے علاوہ یہ روایت امام احمد بن حنبل اور دیگر نے بھی نقل کی ہے)
خلاصہ
یہ خاص دعا یا حفاظتی کلمات ہمیں ہر قسم کی آفات و مصائب سے بچاؤ کا ذریعہ فراہم کرتی ہیں۔ حضرت ابو الدرداءؓ کا یہ واقعہ ہمیں اذکار کی اہمیت اور اللہ پر کامل توکل کا درس دیتا ہے۔ یہ مشکلات سے نجات کی دعا اور آزمائش میں ثابت قدمی کی مثال ہے نیز ان کلمات کو ابو درداء کی دعا یا دعا ابو درداء بھی کہتے ہیں۔
مزید حضرت مقدادؓ بن عمرو کا حیرت انگیز واقعہ اور مسنون دعائیں اور صبح و شام کے اذکار جاننے کے لیے ہمارا مسنون دعائیں کا صفحہ دیکھ سکتے ہیں۔