واقعات

حضرت مقداد بن عمرو کا حیرت انگیز واقعہ: جب رسول اللہ ﷺ نے بددعا کے بجائے یہ دعا دی

زندگی کے نشیب و فراز میں انسان کو کئی ایسی مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو اسے بے بس کر دیتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں، ہم اپنے روحانی پیشوا، نبی اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ آپ ﷺ کی حیات مبارکہ ہر پہلو میں ہمارے لیے ایک مکمل نمونہ ہے۔ آج ہم ہجرت مدینہ کے ابتدائی ایام کا ایک ایسا ایمان افروز واقعہ بیان کریں گے جو نبی اکرم ﷺ کی بے مثال شفقت، دعا کی برکت اور اللہ کی رحمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ حضرت مقداد بن عمرو کا واقعہ ہے، جس میں انہوں نے دودھ پینے کا ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا، اور اس کے نتیجے میں رسول اللہ ﷺ کی رحمت کا مشاہدہ کیا۔


ہجرت کے بعد صحابہ کرام کی مشکلات

مکہ سے ہجرت کرنے والے مہاجرین نے مدینہ منورہ میں بے پناہ عسرت اور غربت کا سامنا کیا۔ وہ اپنا سب کچھ مکہ میں چھوڑ کر آئے تھے اور مدینہ میں ان کے پاس نہ کوئی گھر تھا اور نہ ہی کوئی ذریعہ معاش۔ انصار نے ان کی بے مثال مدد کی، لیکن مہاجرین کی تعداد زیادہ تھی اور ان کے مسائل بھی بہت زیادہ تھے۔

یہی حال حضرت مقداد بن عمر و رضی اللہ عنہ کا بھی تھا۔ ہجرت کے ابتدائی ایام میں انہیں شدید فاقوں اور تنگدستی سے گزرنا پڑا۔ آپ خود اس وقت کا حال بیان کرتے ہیں کہ ان پر اور ان کے دو ساتھیوں پر بڑا سخت وقت آیا۔ وہ اس قدر مفلوک الحال ہو گئے تھے کہ ایک وقت کی روٹی کے لیے بھی ترستے تھے۔

حضرت مقداد بن عمرو کا رسول اللہ ﷺ سے سفارش طلب کرنا

جب مسلسل فاقوں نے انہیں بے حال کر دیا تو حضرت مقداد رضی اللہ عنہ اور ان کے دونوں ساتھیوں نے صحابہ کرام رضہ اللہ عنھم اجمعین سے درخواست کی کہ وہ ان کی کفالت کر لیں۔ لیکن اس وقت سب صحابہ خود اپنے اپنے حال میں مبتلا تھے، اس لیے کوئی مستقل طور پر ان کی مدد کی ہامی نہ بھر سکا۔ بالآخر ان تینوں نے امید کی آخری کرن کے طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر اپنی حالت بیان کی۔

رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب ان کی تکلیف کا علم ہوا تو آپ نے ان کی مدد کا ذمہ خود اٹھا لیا۔ صحیح مسلم میں حضرت مقدادؓ کی زبانی منقول ہے کہ حضور ﷺ انہیں اپنے گھر لے گئے (مسند احمد بن حنبلؒ کی روایت کے مطابق حضورﷺ نے انھیں اپنے میزبان حضرت کلثوم بن ہرمؓ کے گھر میں جگہ دی)۔ اس وقت حضور کے پاس صرف تین (یا بروایت دیگر چار) بکریاں تھیں۔ حضور ﷺ نے ان سے فرمایا کہ ان بکریوں کا دودھ پیا کرو۔ چنانچہ یہ تینوں صحابہؓ ان بکریوں کا دودھ دوہ کر پی لیتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ رکھ چھوڑتے۔

دودھ پینے کا واقعہ: شیطان کے وسوسے اور پچھتاوا

رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ آپ رات کو دیر سے تشریف لاتے، پہلے ہمیں آہستگی سے سلام کرتے تاکہ جو سوتا ہو وہ جاگ نہ پڑے اور جو جاگتا ہو وہ سن لے۔ پھر آپﷺ مسجد میں جا کر نماز پڑھتے۔ نماز سے فارغ ہو کر پھر تشریف لاتے اور اپنے حصے کا دودھ نوش فرماتے۔

ایک رات میں اپنے حصے کا دودھ پی چکا تھا، لیکن شدید بھوک کے باعث شیطان نے میرے دل میں وسوسہ ڈالا کہ حضور ﷺ اپنا بہت سا وقت انصار کے ہاں گزارتے ہیں، وہ آپﷺ کی خدمت میں اشیائے خوردو نوش ہدیتًا پیش کرتے ہوں گے۔ آپ ان کو تناول فرماتے ہوں گے اور آپ کو اس دودھ کی ضرورت نہیں ہو گی۔ چنانچہ یہی تصور کر کے میں سارا دودھ پی گیا اور حضور ﷺ کے لیے کچھ بھی باقی نہ رکھا۔

لیکن دودھ پینے کے بعد خیال آیا کہ ممکن ہے حضور ﷺ بھوکے ہوں اور آپﷺ جب اپنے حصے کا دودھ نہ پائیں تو مجھے بددعا دیں، اور اس طرح میرا دین اور دنیا دونوں برباد ہو جائیں گے۔ یہ خیال آتے ہی میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور میں سخت بے چین ہو گیا۔ کسی پہلو قرار نہ آتا تھا۔

صحابہ کرام کے توبہ کے ایمان افروز واقعات پڑھیں


رحمت عالم ﷺ کی معجزاتی دعا: “اللهم أطعم من أطعمني”

اتنے میں حضور ﷺ تشریف لائے۔ معمول کے مطابق نرم آواز میں سلام کیا، پھر نماز پڑھی۔ اس کے بعد جب آپ نے دودھ کا برتن دیکھا تو وہ خالی تھا۔ حضور ﷺ نے آسمان کی طرف دیکھا، میں سمجھا کہ بس اب آپ میرے لیے بددعا کریں گے اور میں برباد ہو جاؤں گا، لیکن یہ دیکھ کر میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی کہ بددُعا کے بجائے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی:

اللهم أطعم من أطعمني، واسق من أسقاني

ترجمہ: الٰہی! جس نے مجھے کھلایا اُسے کھلا، اور جس نے مجھے سیراب کیا اُسے سیراب کر۔

اب میں چادر لپیٹ کر اس ارادے سے اُٹھا کہ ان بکریوں میں جو سب سے زیادہ فربہ ہو اس کو ذبح کروں اور اس کا گوشت بھون کر حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کروں لیکن تینوں بکریوں کو ٹٹولا تو معلوم ہوا کہ ان کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے ہیں! یہ دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ یہ دعا کی برکت ہے۔

میں نے ایک برتن کو ہاتھ میں لیا اور اللہ کا نام لے کر اس میں دودھ دوہنا شروع کیا جب وہ بھر گیا اور اس پر جھاگ نظر آنے لگی تو میں نے یہ دودھ رسول اکرمﷺ کی خدمت میں پیش کیا۔ آپﷺ نے فرمایا “کیا تم اپنا حصہ پی چکے؟” میں نے عرض کیا “آپ پی لیجئے۔” حضورﷺ نے کچھ دودھ پی کر باقی کا مجھے عنایت فرمایا۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ آپ پی لیجئے، حضورﷺ نے دوبارہ دودھ پیا لیکن برتن میں کچھ دودھ پھر بھی موجود رہا۔ آپﷺ نے یہ مجھے عنایت فرمایا۔ مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ خوب سیر ہو چکے ہیں اور یہ آپ کی دعا کی برکت ہے کہ دودھ ختم نہیں ہوا اور آپ نے اپنی دعا کی برکت میں مجھے بھی شامل کر لیا ہے۔ میں فرطِ مسرت سے بیخود ہو گیا اور اس قدر ہنسا کہ زمین پر گر پڑا۔

حضور ﷺ نے پوچھا: ”ابوالاسود! یہ کیا ہے؟“ میں نے واقعہ عرض کیا تو حضورﷺ نے فرمایا: “یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت تھی، تم نے اپنے دونوں ساتھیوں کو کیوں نہ جگایا کہ وہ بھی اس دودھ سے سیراب ہوتے۔”

(حوالہ: صحیح مسلم، کتاب الأشربة، حدیث 2055)


واقعے سے ملنے والے سبق اور پیغام

یہ سیرت نبوی کے واقعات ہمیں زندگی کے ہر پہلو کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ اس ایمان افروز واقعے سے ہمیں کئی قیمتی اسباق حاصل ہوتے ہیں:

  • نبی ﷺ کی شفقت اور حلم: آپ ﷺ نے بددعا کے بجائے بھوک کے باوجود اپنے صحابی کے لیے رحمت اور مغفرت کی دعا فرمائی۔ یہ جب نبی ﷺ نے بددعا نہیں دی کا ایک بہترین نمونہ ہے۔
  • دعا کی برکت: اللہ کے نبی کی دعا میں ایسی برکت تھی کہ تینوں بکریوں کے تھن دودھ سے بھر گئے۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دعا میں بے پناہ طاقت ہے اور اللہ کا فضل ہر چیز پر غالب ہے۔
  • وسوسے سے کیسے بچا جائے: شیطان نے حضرت مقدادؓ کے دل میں وسوسہ ڈالا، لیکن انہوں نے فوراً توبہ کی اور ندامت کا اظہار کیا، جو نجات کا باعث بنا۔
  • غرباء اور محتاجوں کی مدد: رسول اللہ ﷺ کا ان صحابہ کرام کے فاقے کے واقعات میں ان کی مدد کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں غریبوں اور بے سہاروں کی امداد کرنا کتنا اہم ہے۔
  • رزق کا راز: رزق صرف ظاہری اسباب سے نہیں آتا بلکہ اللہ کی رحمت اور اس کی برکت سے بھی بڑھتا ہے۔

جدید دور میں اس واقعے کی Relevance

آج کے دور میں بھی جب ہم پریشانیوں، مالی تنگی یا غربت کا شکار ہوتے ہیں تو ہمیں اسی واقعے سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ اللهم أطعم من أطعمني یہ دعا آج بھی ہمارے لیے ایک امید ہے۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ:

  1. توکل علی اللہ: اپنے تمام معاملات میں اللہ پر بھروسہ رکھیں۔
  2. صبر: مشکل حالات میں صبر سے کام لیں۔
  3. دعا: اپنے ہر دکھ اور تکلیف میں دعا کو اپنا ہتھیار بنائیں۔

یہ واقعہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ ہر مشکل کا آسان حل اللہ کی رحمت اور اس کے نبیﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے میں ہے۔

مزید پڑھیں

اگر آپ سیرت نبوی اور صحابہ کرام کے دیگر ایمان افروز واقعات کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو آپ ہماری ویب سائٹ پر درج ذیل مضامین پڑھ سکتے ہیں۔

یہ مضمون صحیح مسلم اور مسند احمد بن حنبل کی مستند روایات پر مبنی ہے اور اس کی تمام معلومات انتہائی محنت اور تحقیق کے ساتھ جمع کی گئی ہیں۔

Leave a Comment

Your email will not be published. Required fields are marked *