مسنون دعائیں

دُرود شریف: فضائل، معجزات اور حضور اکرم ﷺ سے لازوال تعلق کا ذریعہ

دُرود شریف: فضائل، معجزات اور حضور اکرم ﷺ سے لازوال تعلق کا ذریعہ | MasnoonDuayain

دُرود شریف پڑھنا ایک عظیم عبادت، نبی اکرم ﷺ سے گہری محبت کا اظہار، اور بے پناہ فضائل و برکات کا حامل عمل ہے۔ یہ صرف زبان سے ادا کیے جانے والے الفاظ نہیں، بلکہ ایک ایسا ذکر ہے جو انسان کے دل کو روحانی سکون بخشتا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی قربت عطا کرتا ہے۔

اس مضمون میں ہم دُرود شریف کی عظمت، اس سے متعلق اہم احادیث مبارکہ، صحابہ کرام کے اقوال و آثار، اور درود شریف کے ایمان افروز واقعات کو تفصیل سے بیان کریں گے۔

یہ مضمون آپ کو درود شریف پڑھنے کے فائدے، روحانی فوائد درود شریف اور دنیا و آخرت کی کامیابیاں حاصل کرنے کے طریقوں سے روشناس کرائے گا۔


احادیث مبارکہ کی روشنی میں درود شریف کی اہمیت

نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجنا دین اسلام میں ایک انتہائی تاکید شدہ عمل ہے۔ کئی احادیث مبارکہ میں اس کی فضیلت اور اجر و ثواب کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔

1. جمعہ کا دن اور کثرتِ درود

نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: “تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے، اس دن کثرت سے درود پڑھا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھے پہنچایا جاتا ہے۔”

ماخذ:( سنن ابی داؤد، کتاب الصلاۃ، حدیث نمبر 1047؛ سنن ابن ماجہ، کتاب الجنائز، حدیث نمبر 1636)

ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: “جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات کثرت سے درود پڑھا کرو، جو ایسا کرے گا تو میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا۔”

ماخذ: (سنن بیہقی فی شعب الایمان، حدیث نمبر 2771) (مشابہ الفاظ کے ساتھ)

یہ احادیث مبارکہ جمعہ کے دن درود شریف اور جمعہ کی رات درود شریف کی خاص اہمیت کو نمایاں کرتی ہیں۔

2. قیامت کے دن قربتِ رسول ﷺ کا ذریعہ

سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: “قیامت کے دن سب سے زیادہ مجھ سے قریب وہ لوگ ہوں گے جو سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجتے ہیں۔”

ماخذ: (سنن ترمذی، کتاب الوتر، حدیث نمبر 484)

یہ شفاعت رسول ﷺ کا ذریعہ اور درود کا اجر و ثواب واضح کرتا ہے۔

3. قبر کو عبادت گاہ نہ بنانے کی ہدایت اور درود کا پہنچنا

سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: “میری قبر کو عبادت گاہ نہ بناؤ، مجھ پر درود بھیجو، بلا شبہ تمہارا درود مجھ تک پہنچتا ہے، چاہے تم جہاں رہو۔”

ماخذ: سنن ابی داؤد، کتاب المناسک، حدیث نمبر 2042

4. بخیل شخص کی نشانی

سیدنا علی بن ابی طالبؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: “حقیقی معنوں میں بخیل وہ شخص ہے، جس کے پاس میرے نام کا تذکرہ ہوا، لیکن اس نے مجھ پر درود نہیں بھیجا۔”

ماخذ: (سنن ترمذی، کتاب الدعوات، حدیث نمبر 3546)

یہ حدیث نبی پاک پر درود بھیجنے کے فائدے سے محرومی کو ظاہر کرتی ہے۔

5. بکثرت درود پڑھنے والے کی فضیلت

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جو شخص مجھ پر بکثرت درود شریف پڑھتا ہے، قیامت کے روز وہ سب سے زیادہ میرے قریب ہوگا۔”

ماخخذ:(سنن ترمذی، کتاب الوتر، حدیث نمبر 484)

یہ بہترین اعمال میں سے ایک عمل ہے۔


صحابہ کرام کے اقوال و آثار: درود شریف کی اہمیت و تاثیر

صحابہ کرامؓ نے بھی دُرود شریف کی اہمیت کو عملی طور پر اجاگر کیا اور اس کی فضیلت بیان کی۔ ان کے اقوال ہماری رہنمائی کرتے ہیں کہ درود پاک کی کیا عظمت ہے۔

1. حضرت ابوبکر صدیقؓ کا قول

حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا: “نبی اکرم ﷺ پر درود پاک پڑھنا، گناہوں کو یوں مٹا دیتا ہے، جیسے کہ پانی آگ کو بجھا دیتا ہے اور حضور ﷺ پر سلام بھیجنا اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے غلام آزاد کرنے سے افضل ہے اور رسول اکرم ﷺ سے محبت کرنا، اللہ تعالیٰ کی راہ میں تلوار چلانے اور جانیں قربان کرنے سے افضل ہے۔”

ماخذ: (دیکھیں: شعب الایمان، بیہقی: 2/206، حدیث نمبر 1583) یہ حدیث اگرچہ صراحتاً درود کے فضائل سے متعلق ہے، تاہم ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا قول ایک صحابی کا اثر ہے جو درود کی عظمت کو بیان کرتا ہے۔ یہ گناہوں کی معافی کا وظیفہ بھی ہے۔

2. ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کا فرمان

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا قول ہے کہ: “مجلسوں کی زینت نبی کریم ﷺ پر درود پاک پڑھنا ہے، لہذا مجالس کو درود پاک سے مزین کرو۔”

ماخذ: (معجم الاوسط، طبرانی، حدیث نمبر 1500)

3. سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ کا معمول

سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ نے حضرت زید بن وہب سے فرمایا کہ: “جب جمعہ کا دن آئے تو رسول اللہ ﷺ پر ہزار مرتبہ درود پاک پڑھنا ترک نہ کرو۔”

ماخذ: (اس روایت کو امام ابن ابی شیبہ نے اپنی المصنف میں ذکر کیا ہے، حدیث نمبر 6046)

4. حضرت حذیفہؓ کا فرمان

حضرت حذیفہؓ کا فرمان ہے کہ: “درود پاک پڑھنا، درود پاک پڑھنے والے کو اور اس کی اولاد کو، اور اولاد کی اولاد کو رنگ دیتا ہے (یعنی ان پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں)۔”

ماخذ: (اس کی روایت کا ذکر امام قرطبی نے تفسیر الجامع لاحکام القرآن میں اور امام سخاوی نے القول البدیع میں کیا ہے)

5. حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا فرمان

حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے فرمان جاری کیا کہ: “جمعہ کے دن علم کی اشاعت کرو اور نبی اکرم ﷺ پر درود پاک کی کثرت کرو۔”

ماخذ: (مسند زید بن علی، حدیث نمبر 972)


دُرود شریف کے چند ایمان افروز واقعات اور کرامات

دُرود شریف کی برکات اور درود شریف کے معجزات صرف احادیث اور اقوال تک محدود نہیں، بلکہ تاریخ اسلام میں کئی ایسے ایمان افروز واقعات ملتے ہیں جو اس کی عظمت کی دلیل ہیں۔

1. میزان پر درود کا پرچہ

مواہب اللدنیہ میں امام قسطلانیؒ نے روایت کیا ہے کہ: “قیامت کے دن کسی مومن کی نیکیاں کم ہو جائیں گی اور گناہوں کا پلڑا بھاری ہو جائے گا تو وہ مومن پریشان کھڑا ہو گا۔ اچانک رسول اللہ ﷺ میزان پر تشریف لائیں گے اور چپکے سے اپنے پاس سے بند پرچہ مبارک نکال کر اس کے پلڑے میں رکھ دیں گے۔ جسے رکھتے ہی اس کی نیکیوں کا پلڑا وزنی ہو جائے گا۔

اس شخص کو پتہ ہی نہیں چلے گا کہ یہ کون تھے جو اس کا بیڑا پار کر گئے ۔ وہ پوچھے گا آپ کون ہیں؟ اتنے سخی، اتنے حسین و جمیل آپ نے مجھ پر کرم فرما کر مجھے جہنم کا ایندھن بننے سے بچا لیا اور وہ کیا پرچہ تھا جو آپ نے میرے اعمال میں رکھا؟ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہو گا: میں تمہارا نبی ہوں اور یہ پرچہ درود ہے جو تم مجھ پر بھیجا کرتے تھے۔”

ماخذ:المواہب اللدنیہ بالمنح المحمدیہ، امام قسطلانیؒ (اس واقعہ کو علامہ قسطلانی نے بیان کیا ہے۔)

یہ درود کا اجر و ثواب کا عملی مظاہرہ ہے۔

2. درود کی برکت سے جنت کا حصول

امام ابن حجر مکیؒ بیان کرتے ہیں کہ: “ایک صالح شخص نے کسی کو خواب میں دیکھا اور اس سے پوچھا کہ مرنے کے بعد تیرا کیا حال ہوا؟ اس نے بتایا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے میری بخشش فرما کر جنت میں بھیج دیا۔ صالح شخص نے اس سلوک کا سبب پوچھا تو اس نے بتایا کہ جب فرشتوں نے میرے اعمال تولے، میرے گناہوں کو شمار کیا اور میرے پڑھے ہوئے درود پاک بھی شمار کیے تو سو درود گناہوں سے بڑھ گئے جبکہ باقی سب نیک اعمال سے میرے گناہ زیادہ تھے۔ جونہی درود پاک کا شمار بڑھ گیا تو اللہ پاک نے فرشتوں کو حکم دیا کہ اس کا حساب کتاب ختم کر دو چونکہ اس کے درود بڑھ گئے ہیں اس لیے اس کو سیدھا جنت میں لے جاؤ۔”

ماخذ: (اس کا ذکر امام سخاویؒ نے “القول البدیع” میں اور امام ابن حجر مکیؒ نے “الدر المنضود” میں کیا ہے۔) یہ درود شریف پڑھنے کے فائدے اور گناہوں کی معافی کا وظیفہ ہے۔

3. حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ کا مہر درود

امام قسطلانیؒ اپنی کتاب ’’المواہب اللدنیہ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ: “جب آدمؑ کی تخلیق کے بعد حضرت حواؑ کی پیدائش ہو گئی تو حضرت آدمؑ نے ان کا قرب چاہا۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ پہلے ان کا نکاح ہو گا اور مہر کے طور پر دونوں کو حکم ہوا کہ مل کر بیس بیس مرتبہ میرے محبوب ختم المرسلین ﷺ پر درود پڑھیں۔ (ایک روایت میں تین تین مرتبہ بیان ہوا ہے) چنانچہ انہوں نے بیس مرتبہ یا تین مرتبہ درود پڑھا اور حضرت حواؑ ان پر حلال ہو گئیں۔”

ماخذ:المواہب اللدنیہ بالمنح المحمدیہ، امام قسطلانیؒ (حاشیہ علی تفسیر الجلالین میں بھی اس کا ذکر ہے۔)

4. قصیدہ بردہ شریف اور فالج سے شفا

امام شرف الدین بوصیریؒ ایک بہت بڑے تاجر اور عالم تھے، وہ عربی ادب کے بہت بڑے فاضل اور شاعر بھی تھے۔ انہیں اچانک فالج ہو گیا۔ بستر پر پڑے پڑے انہیں خیال آیا کہ بارگاہ سرور کونین ﷺ میں کوئی ایسا درد بھرا قصیدہ لکھوں جو درود و سلام سے معمور ہو۔

چنانچہ محبت و عشقِ رسالت مآب ﷺ میں ڈوب کر 166 اشعار پر مشتمل قصیدہ بردہ شریف جیسی شہرت دوام حاصل کرنے والی تصنیف تخلیق کر ڈالی۔ رات کو آقا ﷺ خواب میں تشریف لائے اور امام بوصیریؒ کو فرمایا: “بوصیری یہ قصیدہ سناؤ۔” عرض کیا: “یا رسول اللہ! میں بول نہیں سکتا فالج زدہ ہوں۔” آقا ﷺ نے اپنا دستِ مبارک امام بوصیریؒ کے بدن پر پھیرا جس سے انہیں شفا حاصل ہو گئی۔

پس امام بوصیریؒ نے قصیدہ سنایا۔ قصیدہ سن کر آپ ﷺ کمال مسرت و خوشی سے دائیں بائیں جھوم رہے تھے ۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ حالتِ خواب میں امام بوصیریؒ کو آپ ﷺ نے چادر (بردہ) عطا فرمائی۔ اسی وجہ سے اس کا نام قصیدہ بردہ پڑگیا۔ امام بوصیریؒ صبح اٹھے تو فالج ختم ہو چکا تھا۔

گھر سے باہر نکلے، گلی میں انہیں ایک مجذوب شیخ ابو الرجاءؒ ملے اور امام بوصیریؒ کو فرمایا کہ رات والا وہ قصیدہ مجھے بھی سناؤ۔ امام بوصیریؒ یہ سن کر حیرت زدہ ہو گئے اور پوچھا آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ انہوں نے کہا: “جب اسے حضور نبی اکرم ﷺ سن کر خوشی سے جھوم رہے تھے میں بھی دور کھڑا سن رہا تھا۔”

ماخذ:شرح قصیدہ البردۃ (امام بوصیریؒ کے قصیدے اور ان کے ساتھ پیش آنے والا یہ واقعہ معروف ہے۔)

یہ درود شریف کے معجزات اور خواب میں نبی کریم کی زیارت کی ایک عظیم مثال ہے۔

یہ بھی پڑھیں؛ درودشریف کے احکام


قارئین کرام! میرے مضمون کا مقصد واضح ہے! آج کل کے یہ حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، ان حالات کی درستگی ہمارے اعمال کی دنیا درست کرنے میں موقوف ہے، چلو آج ہی سے عہد کر لیں کہ چلتے پھرتے، دن رات دُرود شریف کا ورد کرتے رہیں گے۔ یہ روحانی ترقی کا راستہ اور دل کی پاکیزگی کا نسخہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی دُرود شریف پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)۔

Leave a Comment

Your email will not be published. Required fields are marked *