دُرود شریف پڑھنا ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ، ایک عظیم عبادت، اور نبی کریم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ یہ آپ ﷺ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور سلامتی بھیجنے کا ایک ذریعہ ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ دُرود پاک (جسے فارسی میں “درود” بھی کہتے ہیں) کو پڑھنے کے مختلف احکام اور مواقع ہیں؟ یہ مضمون دُرود شریف کا شرعی حکم، اس کی اہمیت، اور کن مواقع پر اس کا پڑھنا فرض، واجب، سنّت، مکروہ یا مستحب ہے، پر جامع روشنی ڈالتا ہے۔ یہ نہ صرف دُرود شریف کے احکام کو واضح کرے گا بلکہ درود شریف پڑھنے کے فائدے، دُرود شریف کی فضیلت، اور روحانی سکون کا وظیفہ بھی بتائے گا۔ ہم دُرود شریف کے متعلق احادیث کی روشنی میں اس کی برکات اور انواع کو بھی سمجھیں گے۔
دُرود شریف کے بنیادی احکام اور فضیلتیں
دُرود شریف کی حیثیت کو فقہاء کرام نے مختلف پہلوؤں سے بیان کیا ہے۔ اس کے پڑھنے کے بارے میں چند بنیادی شرعی احکام درج ذیل ہیں
1. دُرود فرض: زندگی میں ایک بار کی ادائیگی
دُرود شریف زندگی میں ایک مرتبہ پڑھنا فرض ہے۔ اس کی بنیاد اللہ تبارک و تعالیٰ کا قرآن مجید کے اندر اپنے نبی علیہ الصلوۃ و السلام پر رحمت اور سلامتی بھیجنے کا حکم ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے
﴿إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِيِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ صَلُّواْ عَلَيْهِ وَسَلِّمُواْ تَسۡلِيمٗا﴾
(الاحزاب: 56)
ترجمہ : “بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھیجو۔”
(الدر المختار: 1/518)
اس آیت کی روشنی میں، کم از کم زندگی میں ایک مرتبہ نبی کریم پر درود بھیجنا ضروری ہو جاتا ہے۔ یہ قرآن میں درود کا حکم ہے۔
2. دُرود واجب: مجلس میں ذکرِ رسول ﷺ پر
جب کسی مجلس میں آپ ﷺ کا تذکرہ ہو تو کم از کم ایک مرتبہ دُرود شریف پڑھنا واجب ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے موقع پر دُرود شریف نہ پڑھنے پر سخت وعید آئی ہے۔
چنانچہ حدیث میں ہے
“رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ”
ترجمہ: “اُس شخص کی ناک خاک آلودہ ہو جس کے سامنے میرا تذکرہ کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔”
ماخذ: سنن ترمذی، حدیث نمبر 3545
یہ حدیث میں درود کی تاکید اور واجب درود کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
بار بار ذکرِ رسول ﷺ پر دُرود کا حکم
اگر کسی مجلس میں ایک سے زائد مرتبہ آپ ﷺ کا تذکرہ ہو تو کیا ہر مرتبہ دُرود شریف پڑھنا ضروری ہے؟ اس بارے میں فقہاء کے دو قول ہیں
- امام طحاوی رحمہ اللہ ہر مرتبہ پڑھنے کو واجب قرار دیتے ہیں، اور فتاویٰ ولوالجیہ میں اسی قول کو مختار اور پسندیدہ کہا گیا ہے۔
- جبکہ دوسرا قول یہ ہے کہ کم از کم ایک مرتبہ دُرود شریف پڑھنا واجب ہے، اور اس سے زیادہ واجب تو نہیں، البتہ بہتر ہے۔ لہٰذا، کوشش یہی ہونی چاہیے کہ ہر مرتبہ دُرود شریف پڑھ لیا جائے۔ (فتاویٰ عالمگیری: 5/315) یہ فضائل درود شریف اور درود پڑھنے کا ثواب میں اضافے کا باعث ہے۔
3. دُرود سنّت: نماز اور جنازہ میں خاص اہمیت
دُرود شریف پڑھنا بعض مخصوص مواقع پر سنّت ہے۔ ان میں شامل ہیں
- نماز کے اندر قعدہ اخیرہ میں (نماز میں درود شریف کا اہم حصہ)۔
- نماز جنازہ میں دوسری تکبیر کے بعد۔
- نوافل اور سننِ غیر مؤکّدہ کے پہلے قعدہ میں۔ (الدر المختار: 1/518)
4. دُرود مستحب: ہر وقت کی فضیلت اور خاص مواقع
ہر وقت دُرود شریف پڑھنا مستحب ہے جبکہ اس کے پڑھنے سے کوئی مانع یعنی رکاوٹ نہ ہو، مثلاً بیت الخلاء میں نہ پڑھا جائے۔ البتہ بعض مواقع پر خصوصیت کے ساتھ دُرود شریف پڑھنے کو مستحب اور پسندیدہ کہا گیا ہے، ایسے مواقع کو “دُرود شریف کے مستحب مواقع” کہا جاتا ہے۔ جمعہ کے دن درود شریف کی کثرت اس کی خاص فضیلت کی وجہ سے ہے۔ شب جمعہ درود شریف کا ورد بھی باعث فضیلت ہے۔ روحانی ترقی کا راستہ اور روحانی سکون کا وظیفہ درود شریف کے کثرت میں پوشیدہ ہے۔
دُرود شریف کے مکروہ مواقع: آداب کی پاسداری
دُرود شریف ایک عظیم عبادت ہے، لہٰذا اسے دنیاوی اغراض کے لیے استعمال کرنا یا غیر مناسب جگہوں پر پڑھنا ناپسندیدہ ہے۔ بعض صورتوں میں دُرود شریف پڑھنا مکروہ تحریمی قرار دیا گیا ہے
1. دنیاوی مفاد کیلئے دُرود پڑھنا
کسی دنیاوی مفاد کے حصول کے لیے دُرود شریف پڑھنا مکروہ ہے، جیسے کسی چیز کو بیچتے یا خریدتے ہوئے سودے کو نافذ کرنے کے لیے درود شریف پڑھنا۔ چنانچہ فقہاء کرام نے لکھا ہے: کوئی شخص کسی دکان پر کپڑا خریدنے کی غرض سے آیا ہو اور دکاندار اس کے سامنے کپڑا کھولتے ہوئے سودے کی تکمیل کی غرض سے اللہ تعالیٰ کی تسبیح یا دُرود شریف پڑھے تو یہ مکروہ ہے۔ یہ سودا کرتے وقت درود پڑھنے کی ممانعت ہے۔
2. لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کیلئے دُرود
اسی طرح کوئی شخص مجلس میں آئے اور لوگوں کو اپنی آمد کی اطلاع دینے کے لیے اس غرض سے تسبیح یا دُرود شریف پڑھے کہ لوگ اس کے لیے کھڑے ہو جائیں یا اس کے بیٹھنے کے لیے جگہ کشادہ کر دیں تو یہ مکروہ ہے، اور ایسا کرنے والا شخص گناہ گار ہوگا۔
(ہندیہ: 5/315) (الدر المختار: 1/518)
یہ مکروہ درود کی ایک قسم ہے۔ تسبیح اور درود کی اہمیت کو خالص عبادت کی نیت سے سمجھنا چاہیے۔
3. نماز میں غیر محل پر درود
نماز میں قعدہ اخیرہ اور دعائے قنوت کے بعد پڑھنے کے علاوہ کسی اور رکن یا کسی اور جگہ دُرود شریف پڑھنا مکروہ ہے، جیسے کوئی شخص نماز میں رکوع میں یا سجدہ کے اندر درود شریف پڑھے تو یہ مکروہ ہے۔
(الدر المختار: 1/518)
دُرود شریف کی اقسام اور اس کی عظیم برکات
درود شریف کی کئی اقسام ہیں، جن میں درود ابراہیمی، درود تنجینا، اور درود شفاء خاص طور پر مشہور ہیں۔ ہر درود شریف کی اپنی فضیلت اور برکات ہیں۔ دُرود شریف کی برکات بے شمار ہیں، جن میں گناہوں کی معافی، درجات کی بلندی، مشکلات سے نجات، اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا حصول شامل ہے۔ دُرود شریف کی فضیلت پر واقعات کے بارے میں ہم دوسرے پوسٹس میں لکھیں گے۔
درود شریف لکھنے کی فضیلت بھی احادیث سے ثابت ہے۔ درود شریف کا معنی اور درود شریف کا ترجمہ سمجھ کر پڑھنے سے اس کے روحانی اثرات بڑھ جاتے ہیں۔ درود شریف کا اردو ترجمہ آج کل آسانی سے دستیاب ہے۔ آپ درود شریف عربی متن کے ساتھ تصاویر درود شریف اور کلیپ درود شریف بھی دیکھ سکتے ہیں۔ درود شریف text کو کاپی کرکے بھی آسانی سے پڑھا جا سکتا ہے۔
درود شریف سے متعلق دیگر اہم پہلو
درود شریف اہل سنت والجماعت کے ہاں ایک متفقہ طور پر محبوب اور فضیلت والا عمل ہے۔
- درود شریف کا مطلب واضح ہے: نبی اکرم ﷺ پر اللہ کی رحمت اور سلامتی بھیجنا۔
- درود شریف کا ایصال ثواب بھی ایک نیک عمل ہے۔
- مجموعہ درود شریف ایسی کتابیں ہوتی ہیں جن میں مختلف درود جمع کیے جاتے ہیں۔
- درود شریف کی کتاب اور نماز میں درود شریف کے بعد کی دعا سے متعلق بھی مستند معلومات موجود ہیں۔
دُرود شریف پر اشعار بھی کثرت سے ملتے ہیں جو اس کی عظمت کو بیان کرتے ہیں۔ یہ نہ صرف ایک عبادت ہے بلکہ ایمان کی تازگی کا ذریعہ بھی ہے۔
مزید اسلامی وظائف اور دعاؤں کے بارے میں جاننے کے لیے ہمارا مسنون دعائیں کا صفحہ دیکھیں۔