القرآن الکریم

نبی کریم ﷺ کا خواب

اللہﷻ نے تمام مسلمانوں کے ہدایت اور رہنمائی کے لیے دین متین نازل فرمایا ہیں۔ نبی کریم ﷺ کے خواب، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک الہامی پیغام ہوتے ہیں اور نبی کریم ﷺ کے خواب حکمتوں سے بھرے ہوتے ہیں۔

یہ ایک ایسا ہی مبارک خواب ہے جس میں نبی کریم ﷺ نے اللہ کو خواب میں دیکھا اور اس خواب میں امت مسلمہ کے لیے گناہوں سے نجات اور آخرت میں بلندی درجات کے نہایت اہم اسباق موجود ہیں۔ یہ خواب نہ صرف دین متین کی گہرائی کے سمجھنے میں ہمیں مدد دیتا ہے بلکہ روزمرہ کی زندگی میں بہترین اور اچھے اعمال کرنے اور اپنانے کی ترغیب بھی دیتا ہے۔


رسول اللہ ﷺ کا خواب میں اللہ تعالیٰ کا دیدار اور علم کا حصول

یہ ایک ایسا روحانی تجربہ ہے جس میں رسول اللہ ﷺ کا اللہ تعالیٰ کو خواب میں دیکھنا ثابت ہے۔ آپ ﷺ نے اپنا یہ خواب خود بیان کرتے ہوئے فرمایا:

“میں نے اپنے پروردگار بزرگ و برتر کو (خواب میں) بہت ہی اچھی صورت میں دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پوچھا کہ مقربین فرشتے کس معاملے میں بحث کر رہے ہیں؟ میں نے عرض کیا: پروردگار! تو ہی بہتر جانتا ہے۔”

رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ (یہ سن کر) اللہ تعالیٰ نے (اپنی شان کے مطابق) میرے کندھوں کے درمیان اپنا ہاتھ رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے اپنے سینہ پر محسوس ہوئی (اور اس کی وجہ سے) میں زمین و آسمان کی تمام چیزوں کو جان گیا، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی:

﴿وَكَذٰلِكَ نُرِيْٓ اِبْرٰہيْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلِيَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِيْنَ﴾ (الانعام :75)

ترجمہ : “اور اس طرح ہم نے ابراہیم کو زمین و آسمانوں کا تصرف دکھایا تاکہ وہ یقین کرنے والے لوگوں میں شامل ہو جائے۔”

یہ روایت جامع ترمذی کی مشہور حدیث ہے (حدیث نمبر: 3235) جو علم و معرفت کی گہرائیوں کو بیان کرنی والی ہے۔


گناہوں کے کفارات کیا ہیں؟

گناہوں کے کفارات وہ اعمال ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہمارے چھوٹے گناہوں کو مٹا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے (یعنی آپ کو زمین و آسمانوں کا علم دینے کے بعد) سوال فرمایا، کہ اے محمد! (ﷺ) آپ کو معلوم ہے کہ مقربین فرشتے کس معاملے میں بحث کر رہے ہیں؟ (آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ) میں نے عرض کیا، ہاں! میں جانتا ہوں کفارات (یعنی گناہوں کو ختم کرنے والی چیزوں) کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں اور وہ کفارات (یہ) ہیں کہ:

  • نمازوں کے بعد مسجدوں میں (دوسرے وقت کی نماز کے انتظار میں یا ذکر و تسبیح کے لیے) بیٹھا جائے: اس عمل سے مسجد سے لگاؤ پیدا ہوتا ہے اور آدمی نماز کی پابند ہو جاتا ہے۔ 
  • جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے پیدل چلا جائے: اس عمل سے ہر قدم پر نیکی کا ثواب ملتا ہے اور یہ عمل گناہوں کی مغفرت کا باعث بھی بنتا ہے۔
  • سختی کے وقت (مثلاً بیماری یا سردی میں اعضائے وضو پر) وضو کا پانی اچھی طرح پہنچایا جائے: یہ عمل مشکل حالات میں بھی سنت نبویﷺ پر عمل پیرا ہونے کی نشانی ہے جو صبر اور استقامت کو ظاہر کرتا ہے۔

لہٰذا یہ حدیث مسجد میں انتظار کے فضائل اور پیدل نماز کے لیے جانے کی برکات کو بھی واضح کرتا ہے۔


خاص دعا اور درجات کی بلندی کے اعمال

اس مبارک خواب میں اللہ ﷻ نے نبی کریم ﷺ کو ایک جامع دعا کی بھی تعلیم دی جو نیکیوں اور برائیوں کے لیے دعا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد! (ﷺ)جب آپ نماز سے فارغ ہو جائے تو یہ دعا پڑھ لیجئے گا

اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ المُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ المَسَاكِينِ، وَإِذَا أَرَدْتَ بِعِبَادِكَ فِتْنَةً فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مَفْتُونٍ

ترجمہ : “اے اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے اور برائیوں کے چھوڑنے اور مسکینوں کی دوستی کا سوال کرتا ہوں اور جب تو بندوں میں گمراہی ڈالنے (یا انہیں سزا دینے) کا ارادہ کرے تو مجھے بغیر گمراہی کے اٹھا لیجئے۔”

اس کے علاوہ، اللہ ﷻ (رسول اللہ ﷺ کی تعلیم میں زیادتی کے لیے) مزید فرماتا ہے (یا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں) کہ درجات (بارگاہِ حق میں بلند کرنے والے اعمال) یہ ہیں کہ:

  • (ہر مسلمان کو خواہ وہ آشنا ہو یا نا آشنا) سلام کیا جائے: یہ اسلامی بھائی چارے اور الفت و محبت کو فروغ دیتا ہے۔ سلام کے فضائل کے بارے میں مزید پڑھیں
  • (اللہ کی راہ میں مسکینوں کو) کھانا کھلایا جائے: یہ فقراء و غرباء اور مساکین کی مدد اور صدقہ و خیرات کی فضیلت کو ظاہر کرتا ہے۔
  • رات کو اس وقت جب کہ لوگ سو رہے ہوں نماز پڑھی جائے (یعنی تہجد ادا کی جائے): یہ عمل، جو کہ تہجد کے فضائل سے بھرا ہے، تہجد کی وجہ بندہ اللہ تعالیٰ کے قرب حاصل کرتا ہے اور اس عمل سے درجات بھی بلند ہوتے ہے۔ تہجد کی اہمیت اور دعائیں یہاں دیکھیں

خلاصہ

نبی کریم ﷺ کا عظیم الشان خواب ہمیں زندگی گزارنے کے زبردست اصول سکھاتا ہے۔ اس میں نہ صرف گناہوں کے کفارات کا ذکر ہے بلکہ درجات کی بلندی کے اعمال اور ایک جامع دعا بھی شامل ہے۔ یہ حدیث نبویﷺ اس بات پر زور دیتا ہے کہ نیک اعمال، اللہ کی اطاعت اور دوسروں کی بھلائی کے ذریعے ہی ہم دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ ان مبارک اعمال کو اپنی زندگی کا حصہ بنا کر ہم اللہﷻ کی رضا اور قرب حاصل کر سکتے ہیں۔ اس دعا کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں شامل کریں اور ان اعمال کو اپنائیں جو آپ کو ان شاء اللہ اللہﷻ کے قریب ہی لے جائیں۔


اللہﷻ ہم سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائیں۔ آمین۔۔

Leave a Comment

Your email will not be published. Required fields are marked *