امام ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ (ابوداؤدؒ) اسلامی تاریخ کے ان عظیم محدثین میں سے ہیں جن کی علمی خدمات رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی۔ آپ کی شہرہ آفاق کتاب سنن ابی داؤد دین کے طلباء کے لیے ایک بنیادی ماخذ ہے اور مدارس میں داخلِ درس ہے۔ آپ کی زندگی علم و تقویٰ کا ایک روشن مینار تھی، لیکن آپ کی سیرت کے حیرت انگیز واقعات میں سے ایک واقعہ ایسا ہے جو نیکی کے حصول کی آپ کی بے مثال حرص کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی کس طرح قیمتی سمجھنا چاہیے۔ یہ امام ابو داؤد اور چھینک کا واقعہ ہے جس نے انہیں تین درہم میں جنت خریدنے کا واقعہ بنا دیا۔
1. چھینک کا ایک چھوٹا سا شرعی مسئلہ اور نیکی کی ایک بڑی حرص
یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب امام ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ سمندر کے کنارے کھڑے تھے۔ ان دنوں جہاز ساحل سے کچھ فاصلے پر لنگر انداز ہوتے تھے، کیونکہ کنارے پر پانی کی گہرائی کم ہوتی تھی۔ لوگ چھوٹی کشتیوں کے ذریعے جہاز تک جاتے تھے۔ ایک جہاز ایک آدھ فرلانگ کے فاصلے پر کھڑا تھا۔ اسی اثنا میں، جہاز پر سوار کسی شخص کو چھینک آئی اور اس نے بلند آواز سے ”الحمدللہ“ کہا۔
اسلام میں چھینک کا ایک خاص آداب ہے: جب کسی کو چھینک آئے تو وہ ”الحمدللہ“ کہے، اور جو شخص اس الحمدللہ کو سن لے، اس پر واجب ہے کہ وہ ”یرحمک اللہ“ (اللہ تم پر رحم فرمائے) کہہ کر جواب دے۔ یہ مسئلہ ایک ہی مجلس میں موجود افراد کے لیے ہے۔ یعنی اگر مجلس سے باہر کوئی شخص چھینک سنے تو اس پر جواب دینا واجب نہیں۔
امام ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ اس وقت جہاز سے کافی دور ساحل پر کھڑے تھے اور جہاز پر موجود شخص کی چھینک سننا ان پر کوئی شرعی ذمہ داری عائد نہیں کرتا تھا۔ لیکن ان کے دل میں نیکی کی ایسی حرص پیدا ہوئی کہ انہوں نے اس چھوٹے سے موقع کو بھی ضائع ہونے نہیں دیا۔
2. تین درہم کی کشتی اور جنت کا وعدہ
امام ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ کی آواز اتنی بلند نہ تھی کہ وہ ساحل سے ”یرحمک اللہ“ کہتے اور جہاز پر موجود شخص تک پہنچ جاتی۔ لیکن ان کی نیکی کی طلب اتنی بڑی تھی کہ انہوں نے فوراً ایک کشتی کرائے پر لینے کا فیصلہ کیا۔ اس زمانے میں کشتی کا کرایہ تین درہم تھا۔ انہوں نے تین درہم ادا کیے، کشتی میں سوار ہوئے اور سمندر کا ایک فرلانگ کا فاصلہ طے کر کے جہاز تک پہنچے۔
جہاز پر چڑھ کر انہوں نے اس شخص کے قریب جا کر کہا: ”یرحمک اللہ۔“
یہ ایک ایسا عمل تھا جو بظاہر بہت چھوٹا اور غیر ضروری لگتا ہے۔ ایک محدث، جس نے ہزاروں احادیث حفظ کیں، جن کی کتابیں آج بھی پڑھی جاتی ہیں، وہ اس معمولی نیکی کے لیے تین درہم خرچ کر کے اتنا لمبا سفر کیوں کر رہے تھے؟ اس کی وجہ صرف ایک تھی: نیکی کی حرص، اور سنت رسول ﷺ پر عمل کرنے کا بے مثال شوق۔
3. غیب سے آنے والی آواز: ”اے ابو داؤد! آج آپ نے تین درہم میں جنت خریدی“
مورخین بیان کرتے ہیں کہ جب امام ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ نے ”یرحمک اللہ“ کہا، تو انہیں غیب سے ایک آواز سنائی دی جس نے کہا: ”اے ابوداؤد! آج آپ نے تین درہم میں جنت خریدی۔“
یہ ایک ایمان افروز اور دل کو دہلا دینے والا لمحہ تھا۔ ایک شخص جس نے شاید اپنی پوری زندگی میں بے شمار نوافل، صدقات اور نیک اعمال کیے ہوں گے، اس کے لیے جنت کی خریداری کا اعلان ایک ایسے عمل پر کیا گیا جو بظاہر بہت معمولی تھا۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ:
- اللہ کے نزدیک اخلاص کی قدر: اللہ تعالیٰ کو عمل کی مقدار سے زیادہ عمل میں موجود اخلاص پسند ہے۔
- نیکی کی قدر: چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی حقیر نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ معلوم نہیں کون سی نیکی اللہ کے ہاں قبول ہو کر نجات کا ذریعہ بن جائے۔
- سنت پر عمل کا شوق: سنت پر عمل کرنے کا شوق انسان کو وہ بلند مقام عطا کر سکتا ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
یہ واقعہ نہ صرف امام ابو داؤد کی سیرت کا ایک نمایاں حصہ ہے بلکہ یہ ہر مسلمان کے لیے ایک پیغام بھی ہے کہ نیکی کی تلاش میں کبھی سستی نہیں کرنی چاہیے۔
امام ابو داؤد اور ان کی خدمات کا مختصر تعارف
امام ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ کا پورا نام سلیمان بن اشعث بن اسحاق السجستانی ہے۔ آپ 202 ہجری میں سیستان میں پیدا ہوئے اور 275 ہجری میں بصرہ میں وفات پائی۔ آپ نے اپنے دور کے جید علماء سے علم حاصل کیا اور ان کے اساتذہ میں امام احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین اور دوسرے بڑے محدثین شامل ہیں۔ آپ کے شاگردوں میں امام ترمذی اور امام نسائی بھی شامل تھے۔ آپ کی کتاب سنن ابی داؤد کا شمار صحاح ستہ میں ہوتا ہے اور یہ فقہی احادیث کے لیے خاص طور پر مشہور ہے۔ اس کتاب کا سنن ابی داؤد اردو ترجمہ اور سنن ابی داؤد PDF ڈاؤن لوڈ کی صورت میں بھی دستیاب ہے جو آج بھی ہم ہزاروں مسلمانوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ امام ابو داؤد نے علم حدیث کے ساتھ ساتھ علم فقہ میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا۔
یہ امام ابو داؤد کے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ علم کے ساتھ ساتھ عمل اور اخلاص بھی کتنا ضروری ہے۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ نیکی اور علم کی جستجو میں گزرا، اور یہ امام ابو داؤد سمندر کا واقعہ اس بات کا ایک روشن ثبوت ہے۔