واقعات

اصحاب الاخدود اور ایک بچے کا حیرت انگیز اور ایمان افروز واقعہ

اصحاب الاخدود اور ایک بچے کا حیرت انگیز اور ایمان افروز واقعہ | MasnoonDuayain

اسلامی تاریخ ایسی حیرت انگیز واقعات سے بھری پڑی ہے جو پختہ ایمان، توحید، اور اللہ کی راہ میں ہر قسم کی قربانی کا درس دیتی ہیں۔ انہی میں سے ایک اصحاب الاخدود کا واقعہ ہے، جس کا ذکر قرآن مجید کی سورۃ البروج میں بھی کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ ایک ظالم بادشاہ، ایک نیک راہب، اور ایک سچے مومن لڑکے کی ایمان افروز واقعات میں سے ہے، جس کی شہادت نے پوری قوم کو اللہﷻ پر ایمان لانے پر مجبور کر دیا۔

یہ عظیم اور ایمان افروز حکایت، جسے حضرت صہیب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، ہمیں توحید کے راستے میں آنے والی ہر آزمائش کا مقابلہ صبر اور پختہ یقین کے ساتھ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ مضمون اس واقعہ کی مکمل تفصیل، اس کے روحانی پہلوؤں، اور عصرِ حاضر میں اس کے پیغامات کو زیرِ بحث لائے گا۔


ظالم بادشاہ اور ساحر کا منصوبہ

حضرت امام احمد ؒ نے یہ ایمان افروز قصہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کیا ہے (جو طویل حدیث کا حصہ ہے)۔ یہ واقعہ دراصل صبر اور توحید کی ایک زندہ مثال ہے۔

کہا جاتا ہے کہ تمہارے زمانے سے قبل لوگوں کا ایک بادشاہ تھا جو خود کو معبود سمجھتا تھا اور اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرتا تھا۔ اس نے اپنے دربار میں ایک ساحر (جادوگر) پال رکھا تھا جو لوگوں کو سحر اور فریب سے گمراہ کرتا تھا۔

جب وہ ساحر بوڑھا ہوا تو اس نے بادشاہ سے عرض کیا: “بادشاہ سلامت! میں بوڑھا ہو گیا ہوں اور میرے مرنے کا وقت قریب آچکا ہے۔ آپ ایک بچہ میرے حوالے کیجئے تاکہ میں اپنا سارا علم السحر اُسے سکھا دوں، اور یوں یہ علم ہمارے دربار میں باقی رہے۔” چنانچہ بادشاہ نے ایک لڑکا جادو سیکھنے کے لیے مختص کیا اور ساحر کے حوالے کیا تاکہ اس کو یہ کالا علم سکھا دے۔

راہب کی سنگت اور توحید کا اثر

ساحر اور اس لڑکے کے گھر کے درمیان ایک راہب (عیسائی یا پچھلی شریعت کا نیک عالم) رہا کرتا تھا۔ وہ لڑکا ساحر کے پاس آتے جاتے وقت کچھ وقت راہب کے پاس بھی گزارتا تھا۔ وہ راہب کی باتوں کو سنتا اور وہ باتیں اسے بہت اچھی لگنے لگی۔ اس طرح، لڑکے کا رحجان سحر کی بجائے توحید اور نیکی کی طرف ہونے لگا۔

جب وہ گھر سے نکل کر ساحر کے پاس وقت گزارنے کی وجہ سے ساحر کے پاس پہنچنے میں تاخیر کرتا تو ساحر اسے سزا دیتا اور مارتا پیٹتا۔ اسی طرح راہب کے پاس واپس گھر کو آتے ہوئے پھر اس راہب کے پاس کچھ دیر کے لیے بیٹھا رہتا۔ جب گھر تاخیر سے پہنچتا تو گھر والے بھی ڈانٹ ڈپٹ کرتے اور بعض دفعہ مارتے پیٹتے۔

راہب کی تدبیر اور لڑکے کا نجات پانا

لڑکے نے راہب کے پاس اپنی حالت زار بیان کی، تو راہب نے اسے ایک تدبیر سکھائی، جو ایمان اور حکمت کا ایک خوبصورت امتزاج تھی: “اگر ساحر تاخیر کا سبب پوچھے تو کہہ دینا کہ گھر سے ہی تاخیر سے نکلا تھا، اور اگر گھر والے پوچھیں تو بتا دینا کہ ساحر کے ہاں سے چھٹی تاخیر سے ملی۔” اس طرح لڑکا دونوں کی مار سے بچ گیا اور اس کا راہب کی صحبت میں وقت گزرنا جاری رہا۔


یقین کا امتحان: عظیم الجثہ جانور کا قتل

راہب کی صحبت نے لڑکے کے دل میں توحید اور اللہ کی قدرت کا پختہ یقین پیدا کر دیا تھا۔ ایک دن راستے میں چلتے وقت وہ کیا دیکھتا ہے کہ ایک خوفناک عظیم الجثہ جانور (شیطانی یا طاقتور) سرِ راہ بیٹھا ہے، کسی کو گزرنے نہیں دیتا، اور کوئی اس کے قریب نہیں پہنچ سکتا۔

لڑکے نے سوچا:

“آج راہب اور ساحر کے معاملوں کو جانچنے اور پرکھنے کا دن ہے کہ ساحر کا عمل اللہ کو پسند ہے یا راہب کا؟”

چنانچہ اس نے ایک پتھر ہاتھ میں لیا اور سچے دل سے دعا کی:

“یَا اللّٰہ! اگر راہب کا عمل آپ کو زیادہ پسند اور محبوب ہے تو اس پتھر سے اس جانور کو مار دے، تاکہ لوگ یہاں سے گزر سکیں۔”

یہ کہہ کر اس کی طرف پتھر پھینک دیا، اور پتھر لگتے ہی جانور مر گیا۔ لوگ با آسانی وہاں سے گزر گئے، اور سحر کی طاقت اس یقین کے سامنے ماند پڑ گئی۔

وہ لڑکا وہاں سے گزر کر راہب کے پاس آیا اور سارے واقعے کی خبر دی۔ راہب نے جو بات کہی، وہ ایمان کی طاقت کا نچوڑ تھی:

“ارے میرے عزیز! آپ تو مجھ سے بھی دو قدم آگے نکل گئے، اور مجھ پر فضیلت حاصل کی۔ آپ آزمائش میں مبتلا ہوں گے، اگر میں کسی آزمائش کا شکار ہو گیا تو میرے متعلق کسی کو ہرگز نہ بتائیے گا۔”


لڑکے کا کمال اور بینائی کی واپسی کا معجزہ

اب لڑکے میں اللہ کے فضل سے کمال آچکا تھا۔ وہ اللہ کے حکم سے مادر زاد نا بینوں، برص کی مہلک بیماری میں مبتلا مریضوں کو ٹھیک کرتا۔ غرض تمام بیماریوں کا علاج کرتا اور وہ فوراً ٹھیک ہو جاتے (حالانکہ علاج کی قوت صرف اللہﷻ کے ہاتھ میں تھی، لڑکا صرف ایک ذریعہ تھا)۔

اسی اثناء میں بادشاہ کا ایک ہم نشین جو خاص اہمیت کا حامل تھا، نابینا ہو گیا۔ اس لڑکے کے متعلق سن کر وہ اس کے پاس بہت سارے ہدایا لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا: “مجھے بھی اس بیماری سے شفاء دیجئے، میں آپ کو یہ تمام ہدیے دوں گا۔”

لڑکے نے بصیرت سے جواب دیا، جو توحید کا درس تھا:

“میں شفاء نہیں دے سکتا۔ شفاء تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ ہاں البتہ اللہ تعالیٰ میرے ہاتھوں اس کو ظاہر کرتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آؤ گے تو میں اللہ تعالیٰ کے حضور دست دعا دراز کروں گا، اللہ تعالیٰ آپ کو شفا دیں گے۔”

اس نے ہاں میں جواب دیا، اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، اور لڑکے نے دعا کی تو اس کی بینائی لوٹ آئی۔ وہ بالکل صحت یاب ہو کر حسب معمول بادشاہ کی مجلس میں حاضر ہوا۔

بادشاہ کے سامنے توحید کا اعلان

بادشاہ نے اپنے ہم نشین کا نام لے کر کہا: “اے فلاں! تیری بینائی کیسے لوٹ آئی؟”

اس شخص نے پختہ ایمان کے ساتھ کہا: “میرے رب نے شفاء دی”۔

بادشاہ نے غصے سے کہا: “میں؟”

اس نے کہا: “تو نہیں! بلکہ میرا اور تمہارا رب اللہ ﷻ ہے۔”

بادشاہ نے کہا: “کیا میرے علاوہ بھی تیرا کوئی رب ہے؟”

اس نے کہا: “ہاں ہے۔”

اس پر بادشاہ نے اسے مسلسل تنگ کرنے لگا، طرح طرح کی سزائیں دینے لگا۔ آخر کار سزاؤں سے تنگ آکر اس نے اس بچے کے متعلق بتا دیا۔

صحابہ کرام کے توبہ کی ایمان افروز واقعات پڑھیں


توحید کے راستے پر پہلی قربانی: راہب اور بینا شخص

بادشاہ نے لڑکے کو بلایا اور اس سے کہا: “ارے لڑکے! تو اپنے جادو سے برص اور مادر زاد نا بینا اور دوسرے امراض کو ٹھیک کرتے ہو؟”

لڑکے نے وہی جواب دیا جو توحید کا خلاصہ تھا:

“میں کسی کو بھی ٹھیک نہیں کر سکتا۔ ٹھیک کرنے والا اور شفاء دینے والا صرف اور صرف ایک اللہ ہی ہے۔”

بادشاہ نے کہا: “میں؟” لڑکے نے جواب دیا: “نہیں!”

بادشاہ: “کیا میرے علاوہ بھی تیرا کوئی رب ہے؟”

لڑکا: “میرا اور تمہارا رب اللہ تعالیٰ ہے!”

بادشاہ لڑکے کو بھی سزا دینے لگا اور مسلسل تکلیف میں مبتلا کئے رکھا۔ آخر کار اس نے بھی سزاؤں سے تنگ آ کر راہب کے متعلق بتا دیا۔

  1. راہب کی شہادت: بادشاہ نے راہب کو اپنے سامنے حاضر کر کے کہا: “اپنے دین سے رجوع کرو۔” راہب نے اپنا مذہب چھوڑنے سے انکار کیا، تو بادشاہ نے اس کے سر پر آری چلا دی اور اس کو دو ٹکڑے کر ڈالا۔
  2. بینا شخص کی شہادت: پھر اپنے ہمنشیں (جو مسلمان ہو گیا تھا) سے کہا: “اپنے دین کو چھوڑ کر سابقہ دین اختیار کرو۔” اس نے بھی انکار کیا، تو بادشاہ نے اس کو بھی آرے سے چیر کر دو حصے کر کے زمین پر ڈال دیا۔

لڑکے کی شہادت کا بے مثال طریقہ اور عبرت ناک انجام

ان دو عظیم الشان قربانیوں کے بعد بادشاہ نے لڑکے سے کہا: “اپنے دین کو ترک کرو۔” اس نے انکار کیا تو بادشاہ نے اسے قتل کرنے کے لیے تین منصوبے بنائے، مگر ہر بار اللہ تعالیٰ نے اپنے سچے بندے کو بچا لیا:

پہلا منصوبہ: پہاڑ کی چوٹی

بادشاہ نے اپنے کارندوں کو بلا کر کہا: “اس لڑکے کو فلاں پہاڑ کی چوٹی پر لے جاؤ۔ اگر وہاں جا کر اپنے عقیدے سے توبہ کر لی اور باز آیا تو ٹھیک ہے، ورنہ پہاڑ کی چوٹی سے نیچے گرا دو۔”

لوگوں کی شر سے بچنے کی دعا

دشمن کے شر شر سے بچنے کی دعا

بادشاہ کے لوگ اسے لے کر پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ گئے۔ لڑکے نے دربار الٰہی میں دعا کی کہ:

اَللّٰهُمَّ اکْفِنِیْهم بِمَا شِئْتَ

“یا اللہ! آپ ہی ان لوگوں سے نمٹ لیجئے۔” یہ کہنا تھا کہ پہاڑ ہلنے لگا اور سارے لوگ لڑھک کر مر گئے۔ لڑکا صحیح سلامت واپس آیا اور بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا۔

بادشاہ نے کہا: “تمہارے ساتھی کہاں گئے؟”

لڑکے نے کہا: “اللہ تعالیٰ نے ان سے نمٹ لیا۔”

دوسرا منصوبہ: دریا میں غرقابی

پھر بادشاہ نے اس کو ایک صندوق یا کسی بڑے برتن میں ڈال کر اپنے کارندوں کو کہا: “اسے دریا کے پاس لے جاؤ اور اگر وہاں پہنچ کر اپنے دین سے توبہ کر لی تو ٹھیک ہے اسے چھوڑ دو، ورنہ اس کو دریا میں پینک دینا۔”

چنانچہ لڑکے کو لے کر دریا کے پاس آگئے، اور لڑکے نے پھر دعا کی: “الٰہی! آپ جیسے چاہیں ان کا کام تمام کر دیں۔” اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو غرق کر دیا، اور لڑکا پھر بچ گیا اور بادشاہ کے دربار میں پھر حاضری دی۔

بادشاہ نے پوچھا کہ “تیرے ساتھی کہاں ہیں؟” کہنے لگا: “اللہ تعالیٰ نے ان کا کام تمام کر دیا۔”

تیسرا اور آخری منصوبہ: توحید کا سب سے بڑا مظاہرہ

لڑکے نے بادشاہ کو سمجھا دیا کہ وہ اللہ کی مرضی کے بغیر اسے قتل نہیں کر سکتا۔

آخر اس نے بادشاہ سے کہا: “تم ہرگز مجھے قتل نہیں کر سکتے، ہاں البتہ ایک جو طریقہ میں بتا دوں اس کے مطابق اگر تم عمل کرو گے تو مجھے قتل کر سکو گے۔”

بادشاہ نے کہا: “بتاؤ وہ کیا طریقہ ہے؟”

لڑکے نے کہا: “تم سب لوگوں کو ایک میدان میں جمع کرو اور مجھے کھجور کے ایک تنے پر چڑھا دو، اور میرے ہی تیرکش سے ایک تیر اٹھا کر بِسْمِ اللّٰهِ وَرَبِّ الْغُلَام کہہ کر تیر چلاؤ، تو میں مر سکتا ہوں۔”

چنانچہ اس کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ایسی ہی کیا گیا۔ جب بِسْمِ اللّٰهِ وَرَبِّ الغُلَام کہہ کر تیر چلایا گیا تو تیر اس کی کنپٹی پر لگا، اور بچہ اس پر اپنا ہاتھ رکھ کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔ یہ منظر دیکھ کر وہاں موجود تمام لوگ، جنہوں نے اللہ کی قدرت اور لڑکے کے سچے ایمان کا مشاہدہ کیا تھا، پکار اٹھے:

” آمَنَّا بِرَبِّ الْغُلَام (ہم اس لڑکے کے پروردگار پر ایمان لائے )”

بادشاہ کے درباریوں نے اس سے کہا: “دیکھ لیا؟ جس چیز کا خطرہ تھا سو وہ ہو کر رہ گیا!” (بچے کو مارنے کا کوئی فائدہ نہ ہوا بلکہ الٹا نقصانِ عظیم ہوا۔ تمام کے تمام لوگ اس بادشاہ کی مصنوعی خدائی کا برملا انکار کر کے خالق حقیقی کی ذات اقدس پر ایمان لائے)۔ اس کے بعد بادشاہ نے اہل ایمان کو خندقیں کھود کر آگ میں ڈال کر سزا دی، جس کی تفصیل قرآن مجید میں سورۃ البروج میں موجود ہے۔ اس واقعہ کی مکمل روایت صحیح مسلم، حدیث نمبر 3005 میں دیکھی جا سکتی ہے۔


نتیجہ: توحید اور استقامت کا دائمی پیغام

اصحاب الاخدود کا یہ حیرت انگیز واقعہ آج بھی امتِ مسلمہ کے لیے ایک عظیم سبق ہے کہ سچے ایمان کے سامنے دنیا کی کوئی طاقت نہیں ٹھہر سکتی۔ لڑکے نے اپنی جان کی قربانی ایک ایسے انداز میں پیش کی کہ اس کی موت ہی ہزاروں لوگوں کی زندگی کا ذریعہ بن گئی۔ یہ ایمان افروز حکایت ہمیں سکھاتی ہے کہ آزمائش میں مبتلا ہونے کے باوجود کبھی حق کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔

یہ ایمان افروز واقعہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ سچی شفا تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، اور اللہ جسے چاہتا ہے اس کو اپنی قدرت کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔ بِسْمِ اللّٰهِ وَرَبِّ الْغُلَام وہ کلمہ تھا جس نے بچے کی شہادت کو مقصد بخشا اور توحید کو عالم آشکار کیا۔


کلیدی Takeaways (اہم نکات)

  • توحید کی طاقت: لڑکے نے ہمیشہ یہ پیغام دیا کہ شفا دینے والا صرف اور صرف ایک اللہ ہی ہے، نہ کہ کوئی ساحر یا بادشاہ۔
  • شہادت کا مقصد: لڑکے کی قربانی کا نتیجہ ایک فرد کی موت نہیں، بلکہ پوری قوم کا اللہ واحد پر ایمان لانا تھا۔
  • صبر اور حکمت: راہب نے لڑکے کو حکمت سے بچنے کا طریقہ سکھایا، جبکہ لڑکے نے آخری وقت میں قتل کے لیے جو طریقہ بتایا، وہ ایک دعوتی تدبیر تھی۔
  • آزمائش میں استقامت: راہب اور بینا شخص نے بادشاہ کی سخت ترین سزاؤں کے باوجود اپنے دین سے رجوع کرنے سے انکار کر دیا، جو استقامت کی اعلیٰ مثال ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ Section)

اصحاب الاخدود کا واقعہ کہاں بیان کیا گیا ہے؟

اصحاب الاخدود کا واقعہ صحیح مسلم میں حدیث نمبر 3005 میں تفصیل سے بیان ہوا ہے اور اس کا ذکر قرآن مجید میں سورۃ البروج میں بھی موجود ہے۔

اصحاب الاخدود” کا کیا مطلب ہے؟”

اصحاب الاخدود” کا مطلب ہے “خندقوں والے” لوگ۔ یہ ان مومنوں کی طرف اشارہ ہے جنہیں ظالم بادشاہ نے ایمان نہ چھوڑنے کی پاداش میں آگ کی خندقوں میں ڈال کر شہید کر دیا تھا۔

شر سے بچنے کی دعا؟

دعا:
اَللّٰهُمَّ اكْفِنِيْهِمْ بِمَا شِئْتَ
رومن اردو:
Allahumma-kfini-him bima shi’t
اردو ترجمہ:
“اے اللہ! تو جو چاہے اس کے ذریعے سے میرے لیے ان (دشمنوں/مصیبتوں) کو کافی کر دے۔”


Leave a Comment

Your email will not be published. Required fields are marked *