واضح رہے کہ جب مالک زمین اپنی زمین کرایہ دار کو اجرت پر دے اور دونوں کے درمیان یہ معاہدہ ہو کہ کرایہ داراس زمین میں اپنا سرمایہ لگا کر تعمیرکرے اور جتنا خرچہ آئے، وہ مقررہ ماہانہ کرایہ سے اس وقت تک کاٹتا رہے، جب تک کرایہ دار کی خرچ کی ہوئی رقم مکمل نہ ہو تو اس کی دوصورتیں ہیں: 1۔ مالک زمین اپنی زمین کرایہ دار کو اجرت پر دے اور دونوں کے درمیان یہ معاہدہ ہو کہ کرایہ دار اس زمین میں اپنا سرمایہ لگا کر مالک زمین کے لیے تعمیر کرے گا، جتنا خرچہ آئےگا، وہ مالک زمین پر قرض ہوگا اور وصولی کی صورت یہ ہوگی کہ مقررہ ماہانہ کرایہ سےکرایہ دار عمارت پراپنی لگائی ہوئی رقم اس وقت تک کاٹتا رہے گا، جب تک اس کی لگائی ہوئی رقم مکمل نہ ہو ،تو یہ صورت شرعاًجائز ہے۔ 2۔ مالک زمین کرایہ دار کو زمین اجرت پر دے اور اس زمین میں کرایہ دار اپنے سرمایہ سے اپنے لیے عمارت تعمیر کرے اور زمین کے مالک کو صرف زمین کا کرایہ دیتا رہے ایسی صورت میں عمارت کا مالک کرایہ دار ہوگا اس لیے مالک زمین پر اس کا کوئی قرض نہیں ہوگا، چنانچہ کرایہ سے کچھ نہیں کاٹ سکتا ،تاہم مدت اجارہ کے اختتام پر کرایہ دار اور مالک ِزمین باہم رضامندی سے عمارت کی قیمت طے کریں اور مالک زمین وہ رقم کرایہ دار کو) یکمشت یا قسط وار)حوالہ کر کے عمارت کا بھی مالک بن جائےیا اگر قیمت پر اتفاق نہ ہوسکے تو کرایہ دار اپنی عمارت ہٹا کر مالکِ زمین کو زمین خالی کر کے دے دے۔ صورت مسؤلہ کے مطابق اگر سائل مالک زمین کے کہنے پراس کے لیے دکان تعمیر کرے اوراس پر خرچ ہونے والی رقم مالک پر قرض ہواور پھرطے شدہ کرایے سےوہ قرض منہا ہو،تو ایسی صورت میں دکان کی عمارت شروع سے ہی پلاٹ کے مالک کی ملکیت شمار ہوگی اوراس کی قیمت اس کے ذمےقرض ہوگی، جس کی ادائیگی باہم مفاہمت سے نقد یا قسط وارطے کی جا سکتی ہے۔ إذا استأجر الرجل من آخر دارا بدين كان للمستأجر على الآجر يجوز. (الفتاوى الهندية، كتاب الإجارة، الباب الثاني فى بيان متي تجب الأجرة، ج:4، ص:446) تصح إجارة أرض (للبناء والغرس) وسائر الانتفاعات كطبخ آجر وخزف ومقيلا ومراحا حتى تلزم الأجرة بالتسليم أمكن زراعتها أم لا بحر. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الإجارة، ج:6، ص:31) ''قوله: و من بنى) ... (بغير إذنه) فلو بإذنه فالبناء لرب الدار، ويرجع عليه بما انفق''. (رد المحتار على الدر المختار،كتاب الغصب، ج:9، ص:283) فتویٰ نمبر : 3925/297/322 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-08-27 کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام)
کرایہ دار کا مالک کی زمین پردکان بنا کرخرچ شدہ رقم کرایہ سے کاٹنا
سوال
میں ایک شخص کے ایک مرلہ پلاٹ میں دکان تعمیر کروانا چاہتا ہوں، جس كا تمام تر خرچ میرے ذمہ ہوگا ،پلاٹ کے مالک اور میرے مابین یہ طے ہوا ہے کہ ہم ایک مقدار کرایہ کی طے کرلیں گے ، اس میں سے 25 یا30فی صد کرایہ اداکیا جائے گا ، بقیہ 70یا65 فی صد دکان کی تعمیراتی قیمت کی ادائیگی کے طور پر کٹوتی ہوتی رہے گی ، اس طرح بالآخر دکان بھی پلاٹ کے مالک کی ہو جائے گی اور کرایہ کی مقدار بھی بڑھا دی جائےگی، کیا اس طرح معاہدہ کرناجائز ہے؟
جواب
Related Fatwas
وارث کا اپنے مورث سے اس کی زندگی میں حصے کا مطالبہ کرنا
اگر کسی شخص کی ذاتی ملکیت میں کوئی مال وجائیداد ہوتو کیا اس کے بھائی اور بہن اس سے حصے کا مطالبہ…
ایک سال تک ہفتے کے مخصوص دنوں کے روزوں کی منت ماننا
ایک خاتون نے منت مانی کہ اگر اسکے ہاں صحت مند وتندرست اولاد ہوئی تو وہ ایک سال تک سوموار اور جمعرات…
قرض کے بدلے اضافی رقم کا مطالبہ
ایک شخص ACخریدرہا تھا، جس کی قیمت نقد ایک لاکھ روپےتھی، جبکہ قسطوں کی صورت میں قیمت ایک لاکھ بیس ہزار روپےتھی(یعنی قسطوں…
شوہر کی رضامندی کے بغیر قاضی کا نکاح نامہ میں بیوی کو طلاق کا اختیار دینا
میری شادی کے وقت میں نے قاضی صاحب سے درخواست کی کہ نکاح نامے کے ۱۸ نمبر کالم میں "نہیں" درج کیا…
ایک روٹی کے بدلے دو روٹیوں کا تبادلہ
اگر گھر کی ایک روٹی کے بدلے تندور کی ایک یا دو روٹیوں کا تبادلہ کیا جائے، یا اس کے برعکس لین…
شوہر کا اپنی بیوی سے جسمانی تعلق ترک کرنے اور جنسی کھلونے استعمال کرنے کا حکم
میری عمر 32 سال ہے، میری شادی کو 8 سال ہوگئے ہیں، اور میری ایک بیٹی ہے۔ میرے شوہر ملک سے باہر…