ایک روٹی کے بدلے دو روٹیوں کا تبادلہ

Reviewed Updated October 7, 2025 69

سوال

اگر گھر کی ایک روٹی کے بدلے تندور کی ایک یا دو روٹیوں کا تبادلہ کیا جائے، یا اس کے برعکس لین دین کیا جائے، تو کیا یہ شرعاً رِبا کے زُمرے میں آتا ہے یا نہیں؟نیز مذکورہ بالا معاملہ خواہ ہاتھ در ہاتھ ہو یا ادھار  شرعی حکم سے مطلع فرمائیں ؟

جواب

واضح رہے کہ مکیلی اور موزونی اشیاء کے علاوہ عددی اشیاء (یعنی وہ اشیاء جن کی عدد کے حساب سے خرید و فروخت ہوتی ہے )کے آپس میں تبادلہ کی صورت میں کمی بیشی جائزہے،لیکن ہم جنس سے تبادلہ ہو تو ادھار جائز نہیں ۔ صورت مسؤلہ میں چونکہ روٹی عددی اشیاء میں سے ہےاس لیے روٹی کا روٹی تبادلہ کی صورت میں کمی بیشی سے سود لازم نہیں آتا بشرطیکہ دونوں طرف سے مجلس میں قبضہ دیا جائے اور کسی طرف بھی ادھار نہ ہو۔    ‌وهو ‌في ‌الشرع ‌عبارة ‌عن ‌فضل ‌مال لا يقابله عوض في معاوضة مال بمال وهو محرم في كل مكيل وموزون بيع مع جنسه وعلته القدر والجنس....... وإن وجد القدر والجنس حرم الفضل والنساء وإن وجد أحدهما وعدم الآخر حل الفضل وحرم النساء.(الفتاوى الهندية،كتاب البيوع،الفصل السادس في تفسير الربا واحكامه،ج:3،ص:117) فتویٰ نمبر : 3935/297/322 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-10-07 کتاب الربا(سودکے احکام)

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy