لے پالک کو سرکاری کاغذات میں اپنی طرف منسوب کرنا

Reviewed Updated September 29, 2025 22

Question

ہم نے ایک بچی گود لی ہے اب اس کا ب فارم بنوانا ہے۔ کیا اس میں بچی کے اصل والدین کی جگہ اپنا نام لكھوا سکتے ہیں ؟ہماری نیت صرف یہ ہے کہ بعد میں ہونے والی قانونی الجھنوں سے بچا جاۓ ۔

Answer

واضح رہے کہ کسی شخص کا دوسرے کے بچے/بچی  کو گود لینا اور اس کی تربیت اور پرورش کرنا شرعا جائز ہے لیکن ایسے بچے /بچی کو سرکاری  کاغذات جیسے برتھ سرٹیفکیٹ،یا ب فارم وغیرہ میں اصل باپ کی طرف منسوب کرنا  شرعاضروری ہے  ۔ صورت مسؤلہ میں لے پالک  بچی کے لئے ب فارم بناتے وقت اصل والدین کی جگہ پالنے والے مرد وعورت  کا  نام میں باپ کے طور پرلکھوانا شرعا جائز نہیں ۔ قرآن کریم میں اس بات سےوضاحت کے ساتھ منع کیا گیا  ہے کہ حقیقی والدین کے علاوہ کوئی لے پالک کو اپنی طرف منسوب کرکے پکارے، لہذا اس بچی کوتمام سرکاری کاغذات میں اپنے والدین کی طرف منسوب کیا جائے۔   قال الله تعالى: ﴿وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ (4) ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ ﴾(الأحزاب: 4-5) فتویٰ نمبر : 7266/297/324 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-08-27 ثبوتِ نسب

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy