واضح رہے کہ شریعت مطہرہ نے ہمیں بڑوں ، بزرگوں اور علما،صلحا کے ادب و احترام کا درس دیا ہے ،اس لیے اگر کوئی شخص کسی عالم دین یا کسی بزرگ کے علم وعمل یا ادب و احترام کی وجہ سے اس کا ہاتھ چومے ،تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ،بشرطیکہ اس میں مقصد کوئی دنیوی غرض نہ ہو ،اور نہ اس کو عبادت سمجھ کرکر رہا ہو،اور اگرخوشامد حاصل کرنے کی نیت سے کسی کے ہاتھ پاؤں چومنا چاہے تو یہ عمل انتہائی ناپسندیدہ اور مکروہ ہے،اور اس سے احتراز لازم ہے،نیز بڑوں اور بزرگوں کا ادب و احترام شریعت کے حدود کے اندر ہونا چاہیے ،اس لیے کسی بڑے یا بزرگ کے سامنے جھکنا جائز نہیں ہے ،کیونکہ کسی کے سامنے جھکنے سے یہ رکوع کی حالت بن جاتی ہے ،اور جس طرح اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے سجدہ جائز نہیں ہے اسی طرح کسی کے سامنے رکوع کی طرح جھکنا بھی جائز نہیں ہے۔ عن أنس بن مالك، قال: قال رجل: يا رسول الله الرجل منا يلقى أخاه أو صديقه أينحني له؟ قال: «لا»، قال: أفيلتزمه ويقبله؟ قال: «لا»، قال: أفيأخذ بيده ويصافحه؟ قال: «نعم».(سنن الترمذى،أبواب الاستئذان والآداب،باب ما جاء في المصافحة،رقم الحديث :2728) وعن أنس رضي الله عنه قال: قال رجل: يا رسول الله! الرجل منا) أي: من المسلمين، أو من العرب (يلقى أخاه) أي: المسلم أو أحدا من قومه، فإنه يقال له أخو العرب (أو صديقه) أي: حبيبه وهو أخص مما قبله (أينحني له؟) : من الانحناء، وهو إمالة الرأس والظهر تواضعا وخدمة (قال: لا) أي: فإنه في معنى الركوع، وهو كالسجود من عبادة الله سبحانه (قال: أفيلتزمه) أي: يعتنقه ويقبله (قال: لا) : استدل بهذا الحديث من كره المعانقة والتقبيل، وقيل: لا يكره التقبيل لزهد، وعلم، وكبر سن، قال النووي: تقبيل يد الغير إن كان لعلمه وصيانته وزهده وديانته، ونحو ذلك من الأمور الدينية لم يكره، بل يستحب، وإن كان لغناه أو جاهه في دنياه كره وقيل حرام. اهـ.(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح،كتاب الآداب،باب المصافحة،ج:7،ص:2965) (وأما الكلام في تقبيل اليد) فإن قبل يد نفسه لغيره فهو مكروه وإن قبل يد غيره إن قبل يد عالم أو سلطان عادل لعلمه وعدله لا بأس به هكذا ذكره في فتاوى أهل سمرقند وإن قبل يد غير العالم وغير السلطان العادل إن أراد به تعظيم المسلم وإكرامه فلا بأس به وإن أراد به عبادة له أو لينال منه شيئا من عرض الدنيا فهو مكروه وكان الصدر الشهيد يفتي بالكراهة في هذا الفصل من غير تفصيل كذا في الذخيرة...تقبيل يد العالم والسلطان العادل جائز ولا رخصة في تقبيل يد غيرهما هو المختار كذا في الغياثية.(الفتاوى الهندية،كتاب الكراهية،الباب الثامن والعشرون في ملاقاة الملوك والتواضع لهم وتقبيل أيديهم،ج:5،ص:368) فتویٰ نمبر : 6504/297/328 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-10-07 کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) سلام اورمصافحہ کے مسائل
بزرگوں کا ہاتھ چومنا اور ان کے لیے سر جھکانا
Reviewed
Updated October 11, 2025
170
Question
بڑوں اور بزرگوں کے ہاتھ چومنا اور ان کےلیے سر جھکانا شریعت میں کیسا ہے؟
Answer
Related Fatwas
تبلیغی جماعت کےمروجہ اعمال
تبلیغی جماعت میں جو"اجتماعیت" (اجتماعی طور پر نکلنا، اکٹھا ہو کر دین کی دعوت دینا، اور اجتماعات منعقد کرنا) رائج ہے، اس…
May 10, 2026
4 min
20
شادی کے موقع پر دیے جانے والے زیورات کا حکم
میرا ایک بیٹا ہے جو بے روزگار ہے ،تین سال پہلے میں نے اس کی شادی اپنے خرچ پر کی،مہر ساڑھے تین…
November 5, 2025
4 min
23
طلاق کنائی کے بعد خلع کیا جائے تو عدت کے شروع کا حکم
میری 11 اپریل 2025 کو رخصتی ہوئی ،چونکہ میرےسسرال والے کراچی میں تھے اور میں پشاور میں رہتی تھی اس وجہ سے…
October 11, 2025
5 min
18
پیشاب، خون ٹیسٹ کی بوتل پر مقدس ناموں والے نام لکھنا
باہر ممالک میں مسلمان جب میڈیکل ٹیسٹ کرواتے ہیں تو ٹیسٹ کی بوتل پر ان کا نام کسی پرچی پر لکھ کر…
September 27, 2025
3 min
14
ڈیڑھ تولہ سونا، تین تولہ چاندی اورایک لاکھ نقد روپے پرزکوۃ
اگر کسی عورت کے پاس ڈیڑھ تولہ سونا، تین تولہ چاندی اورایک لاکھ نقد روپے ہوں تواس عورت پرزکوۃ کا کیا حکم…
May 24, 2026
2 min
40