شادی کے موقع پر دیے جانے والے زیورات کا حکم

Reviewed Updated November 5, 2025 24

Question

 میرا ایک بیٹا ہے جو بے روزگار ہے ،تین سال پہلے میں نے اس کی شادی اپنے خرچ پر کی،مہر ساڑھے تین تولے سونا مقر ہوا تھا ،رخصتی کے وقت میری بیٹی (دلہن کی نند) نے اپنی جانب سے بہو کو زیب و زینت کے لیے  زیور پہنایا ،جس میں وہ رخصت ہو کر ہمارے گھر آگئی ،اب بہو اور اس کے گھر والے دعوی کررہیں  کہ  یہ زیور  ہمارا مہر ہے ،یا بہو کی ملکیت ہے ،1۔کیا زیور جس میں دلہن رخصت ہوئی ،مہر شمار ہوگا؟ 2۔ اور یہ زیور بہو کی ملکیت ہوگی؟3۔ کیا سسر یا دیور پر  مہر کی ذمہ داری آسکتی ہے؟4۔کیا شرعا یہ ضروری ہے کہ دلہن کو پہلے آگاہ کیا جائے کہ زیور زیب و زینت کے لیے ہے یا بطور مہر  دیا جا رہا ہے؟

Answer

واضح رہے کہ بیوی کو مہر دینا شوہر کی ذمہ داری ہے، شوہر کے علاوہ کسی پر مہر دینا لازم نہیں ،البتہ اگر باپ دادا   یا کوئی اور اپنی طرف سے مہر دینا چاہے تو یہ اس کی طرف سے ہدیہ اور تبرع شمار ہوگا ،نیزلڑکی کو  شادی  کے موقع پر جو زیورات سسرال والوں کی طرف سے ملتے ہیں، اگراس میں سسرال والوں نے اس بات  کی صراحت کی ہو  کہ یہ  بطورِ عاریت یعنی صرف استعمال کرنے کے لیے ہیں  تو  پھر یہ  زیورات  لوٹانا ضروری ہوگا، لیکن  اگرسسرال والوں نے مہر کے طور پر یا ہبہ کے طور پر دی ہوں، تو پھر یہ اس لڑکی کی ملکیت شمارہوگی،اور اگر زیورات دیتے وقت کسی قسم کی صراحت نہیں  کی تھی تو پھر اس میں علاقے اور خاندان کے  عرف کا اعتبار ہوگا،اگرعرف و رواج میں اس طرح زیورات دینا عاریت شمار کیا جاتا ہو، تو پھر اس لڑکی پر ان زیورات کا واپس کرنا لازم ہے، اوراگر عرف میں یہ مہر یا ہبہ شمار ہو کر پہنائے جاتے ہو ں، تو پھر یہ لڑکی کی ملکیت شمار ہوگی ۔ صورت مسئولہ کے مطابق اگرسائل کی بیٹی نے اپنی بھابھی کو یہ زیورات دیتے ہوئے عاریت کی صراحت کی تھی ،یا عرف و رواج میں یہ عاریت شمار ہوتی ہو،تو پھر یہ عاریت ہوگی اور اس لڑکی پر اس کا واپس کرنا لازم ہے،اور اگر عاریت  کی صراحت نہ ہو ،اور نہ عرف میں اسے عاریت سمجھا جاتا ہو،تو پھر یہ اس لڑکی کی ملکیت ہوگی۔   ‌وإذا ‌بعث ‌الزوج ‌إلى ‌أهل ‌زوجته ‌أشياء ‌عند ‌زفافها منها ديباج فلما زفت إليه أراد أن يسترد من المرأة الديباج ليس له ذلك إذا بعث إليها على جهة التمليك، كذا في الفصول العمادية جهز بنته وزوجها ثم زعم أن الذي دفعه إليها ماله وكان على وجه العارية عندها وقالت: هو ملكي جهزتني به أو قال الزوج ذلك بعد موتها فالقول قولهما دون الأب وحكى عن علي السغدي أن القول قول الأب وذكر مثله السرخسي وأخذ به بعض المشايخ وقال في الواقعات إن كان العرف ظاهرا بمثله في الجهاز كما في ديارنا فالقول قول الزوج، وإن كان مشتركا فالقول قول الأب، كذا في التبيين. قال الصدر الشهيد - رحمه الله تعالى - وهذا التفصيل هو المختار للفتوى.)الفتاوى الهندية، كتاب النكاح، باب المهر، الفصل السادس عشر في جهاز البنت،ج:1،ص:327) والمعتمد ‌البناء ‌على ‌العرف ‌كما ‌علمت.(رد المحتار على الدر المختار ،كتاب النكاح ،باب المهر،مطلب أنفق على معتدة الغير،ج:3،ص:157) فتویٰ نمبر : 7288/297/324 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-11-04 کتاب النکاح مہرکے احکام

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy