ایک قطرہ منی کےنکلنےسےغسل کاحکم

Reviewed Updated December 25, 2025 78

سوال

اگرخواب دیکھتےہوئےکسی کواحتلام ہونےوالاہولیکن وہ اپنےآپ کو کنٹرول کردےتاکہ منی باہرنہ نکلےاوربیدارہوجائےلیکن بیداری میں ایک قطرہ منی نکلےتوکیاغسل واجب ہوگايانہيں؟

جواب

شریعت مطہرہ کی روسےغسل کےواجب ہونے کےاسباب میں سےایک خواب میں احتلام کاہوجانابھی ہےنیزمادہ منویہ کےعضو تناسل سےشہوت کےساتھ نکلنےسےغسل واجب ہوجاتا ہے،چاہےکم مقدارمیں ہویازیادہ مقدارمیں ہوچنانچہ اگرکوئی شخص خواب سے بیدارہوجائےاوراپنے کپڑوں پرتری محسوس کرے اوراس کویقین ہوکہ یہ منی ہےچاہےاحتلام یادہویانہ ہوچاہےکم مقدارمیں ہویازیادہ مقدارمیں،دونوں صورتوں میں غسل واجب ہوجاتاہے۔ صورت مسئولہ کےمطابق اگرکسی کواحتلام ہونےوالاہولیکن وہ اپنےآپ کوکنٹرول کردےتاکہ منی باہرنہ نکلےلیکن بیدارہوتے ہی معلوم ہوجائےکہ ایک قطرہ منی شہوت کے ساتھ نکلی ہےتوغسل واجب ہوگا۔   (قوله: منيا أو مذيا) اعلم أن هذه المسألة على أربعة عشر وجها؛ لأنه إما أن يعلم أنه مني أو مذي أو ودي أو شك في الأولين أو في الطرفين أو في الأخيرين أو في الثلاثة، وعلى كل إما أن يتذكر احتلاما أو لا فيجب الغسل اتفاقا في سبع صور منها وهي ما إذا علم أنه مذي، أو شك في الأولين أو في الطرفين أو في الأخيرين أو في الثلاثة مع تذكر الاحتلام فيها، أو علم أنه مني مطلقا،...الخ (ردالمحتارمع الدرالمختار، مطلب سنن الغسل، ج:1، ص:163) المني ‌هو ‌الماء ‌الأبيض ‌الغليظ ‌الذي ‌ينكسر ‌به ‌الذكر ‌وتنقطع ‌به ‌الشهوة.(تحفة الفقهاء، ‌‌كتاب الطهارة، ‌‌باب الحدث،ج:1، ص:27)  [تنبيه] إذا لم يتدارك مسك ذكره حتى نزل المني صار جنبا بالاتفاق.(ردالمحتارمع الدرالمختار، مطلب سنن الغسل، ج:1، ص:163) فتویٰ نمبر : 10858/297/321 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-12-25 کتاب الطّہارۃ غسل اورجنابت کے احکام

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy