قربانی کے جانور میں عقیقہ کے لئے ایک حصہ مقرر کرنا

Reviewed Updated October 7, 2025 22

Question

میرے سسرال والوں نے قربانی کا جانور خریدا اور میری بھی خواہش تھی کہ  اپنی بیٹی کا عقیقہ کرو ں لیکن میرے پاس اتنی رقم نہیں تھی کہ جس سے میں عقیقہ کے لیے جانور خرید سکوں،تو میں نے اپنے سسر سے بات چیت کی اور ان کے جانور میں اپنا ایک حصہ(عقیقہ  کے لیے) اس شرط کے ساتھ شامل کروایا کہ جب میرے پاس (عید کے کچھ دن بعد) پیسے آئینگے تو میں آپ کو حصے کی رقم دے دوں گا۔اور پھر میرے سسرال والوں نے بھی کہا کہ چلو ٹھیک ہے ،ہم آپ کا حصہ بھی شامل کرلیتے ہیں تو کیا ایسی صورت میں میں نے جو اپنی بیٹی کا عقیقہ کیا ہے وہ عقیقہ ادا ہو جاۓ گا ؟

Answer

واضح رہے کہ بچے يا بچی كی پيدائش پرعقيقہ كرنا مستحب ہے اور قربانی کے بڑے جانور میں عقیقہ کا حصہ رکھنے میں شرعا کوئی حرج نہیں  اس سے بھی عقیقہ ادا ہو جائیگا۔ صورت مسؤلہ کے مطابق قربانی کے جانور میں بچی کے عقیقہ کے لئے حصہ مقرر کرنے سے عقیقہ ہوگیاہے ۔   وشمل ما لو كانت القربة واجبة على الكل أو البعض اتفقت جهاتها أو لا: كأضحية وإحصار وجزاء صيد وحلق ومتعة وقران خلافا لزفر، لأن المقصود من الكل القربة، وكذا لو أراد بعضهم العقيقة عن ولد قد ولد له من قبل لأن ذلك جهة التقرب بالشكر على نعمة الولد ذكره محمد.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الاضحية،ج:6،ص:326) «ولو أرادوا القربة الأضحية ‌أو ‌غيرها ‌من ‌القرب ‌أجزأهم سواء كانت القربة واجبة أو تطوعا أو وجبت على البعض دون البعض، وسواء اتفقت جهات القربة أو اختلفت بأن أراد بعضهم الأضحية وبعضهم جزاء الصيد وبعضهم هدي الإحصار وبعضهم كفارة شيء أصابه في إحرامه وبعضهم هدي التطوع وبعضهم دم المتعة والقران»(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،صل في شرائط جواز إقامة الواجب في الأضحية،ج:5،ص:71) فتویٰ نمبر : 10746/297/321 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-10-07 کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) عقیقہ کا حکم

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy