شریعت مطہرہ میں قربانی واجب ہونے کی شرائط میں سے یہ ہے کہ قربانی کرنے والامسلمان ہو ، مقیم ہواور صاحب نصاب ہو یعنی اس کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا ان ميں سے ايک نصاب کے بقدر نقدی، یا اتنی ہی مالیت کا ایسا سامان موجود ہو، جو اس کی حاجاتِ اصلیہ اور قرض سے زائد ہو، تو اس پر قربانی واجب ہوتی ہے، نیز یہ کہ سابقہ سال کی زکوۃ اگر کسی نے ادا نہ کی ہو تو وہ بھی اس کے ذمہ قرض شمارہوتا ہے۔ صورتِ مسئولہ کے مطابق مذکورہ عورت کے ذمے زکوۃ کی جتنی رقم ادا کرنا باقی ہے اس کے منہا کرنے کے بعد چونکہ بقیہ مال ساڑھے سات تولہ کے برابر نہیں ہوگا اس لیے اس پر قربانی واجب نہ ہوگی، اسی طرح اگر وہ حقیقی طور اپنے بیٹوں کو دو دو تولہ سونا کا مالک بنا دے، تو اس پر قربانی واجب نہ ہوگی، اوراگر ان کے بیٹوں کے پاس دو تولہ سونے کے علاوہ ساڑھے اڑتیس تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے برابر نقدی یا ضرورت سے زائد سامان ہو تو ان پر قربانی واجب ہوگی ورنہ نہیں۔ ومنها كون المال نصابا فلا تجب في أقل منه.(الفتاوى الهندية، كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها، ج:1، ص:170) (وأما شرائط الوجوب) منها اليسار، وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكوة۔۔۔۔۔والموسر في ظاهر الرواية من له مائتا درهم أو عشرون ديناراأو شيئ يبلغ ذلك،سوى مسكنه ومتاع مسكنه، ومركوبه وخادمه في حاجته التي لايستغني عنها.(الفتاوى الهندية، كتاب الأضحية، ج:5، ص:292) ولوكان عليه دين بحيث لوصرف فيه نقص نصابه لا تجب.(الفتاوى الهندية، كتاب الأضحية، الباب الأول، ج:5، ص:292) فتویٰ نمبر : 10965/297/321 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2026-05-24 کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) قربانی کے متفرق احکام
نصاب سے کم مال پر قربانی
سوال
ایک عورت کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا تھا، جس پر زکوٰۃ فرض ہوچکی تھی اور حولانِ حول بھی مکمل ہوچکا تھا۔ اس پر تقریباً 90 ہزار روپے زکوٰۃ واجب تھی، لیکن مالی تنگی کی وجہ سے وہ مکمل زکوٰۃ ایک ساتھ ادا نہ کرسکی، بلکہ اس نے قسط وار ادائیگی شروع کر دی ہے۔اب قربانی کے ایام آگئے ہیں، جبکہ اس کے پاس اس وقت زکوٰۃ کی مکمل رقم بھی موجود نہیں ہے تو اس پر قربانی واجب ہوگی یا نہیں ؟نیز اس عورت کے تین غیر شادی شدہ بیٹے ہیں جو مدرسے میں زیرِ تعلیم ہیں۔ عورت کا ارادہ ہے کہ وہ اپنا سونا آئندہ ان کی شادیوں کے لیے دے گی۔موجودہ حالات کے پیشِ نظر اس نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ساڑھے سات تولہ سونا میں سے ہر بیٹے کو دو، دو تولہ سونا دے کر انہیں اس کا مالک بنادے۔ تو اگر یہ عورت اپنے بیٹوں کو دو، دو تولہ سونا حقیقی ملکیت کے طور پر دے دیتی ہے، تو کیا ان بیٹوں پر زکوٰۃ واجب ہوگی؟ اور کیا ان پر قربانی واجب ہوگی؟اگر ان بیٹوں کے پاس تقریباً 50 ہزار نقدی یا ضرورت سے زائد سامان ہو ، تو کیا ان پر قربانی لازم ہوگی یا نہیں؟
جواب
Related Fatwas
موبائل کمپنی سے ایڈوانس بیلنس حاصل کرنا
موبائل فون کمپنیوں نے صارفین کو یہ سہولت فراہم کی ہے کہ وہ بیلنس (Balance) ختم ہو جانے کے بعد صارف کو…
ادهارپر خریدے ہوئے مال تجارت میں زکوۃ
ایک شخص پینٹ(رنگ) کا کاروبار کرتا ہے اور کمپنی سے مال تجارت یعنی پینٹ خریدتا ہے جس کے پیسے کچھ نقد دیتا…
جہاں اذن عام نہ ہو وہاں نمازِ جمعہ
جی حضرت! ہمارے یہاں ڈینس سٹی میں امتیاز مارٹ کے نیچے بیسمنٹ میں ایک مسجد ہے، جہاں پانچ وقت کی نماز باجماعت…
مخلوط اداروں میں تعلیم حاصل کرنا
آج کل اکثر سکول ،کالجوں اور یونیورسٹیوں لڑکے اورلڑکیاں ایک ہی کلاس میں اکھٹے پڑھتے ہیں جس کو "co-education"سے موسوم کیاجاتا ہے،ان…
مدرسہ کے لیے وقف شدہ زمین پر مسجد بنانا
ایک شخص نے بنات کے مدرسہ کے لئے زمین وقف کی، اس کے لیے لوگوں سے چندہ بھی جمع کیا اور بھٹہ…
مووی تصاویر سے روکنے کی غرض سےنکاح خواں کا عام معمول سے زیادہ اجرت مقرر کرنا
نکاح خواں کا غیر شرعی خرافات جیسے وڈیو اور فوٹوز سے اجتناب کروانے کے لئے نکاح پڑھانے کی اجرت ۵۰۰۰ روپے طےکرنا…