حج قران کی تعریف: حج اور عمرہ دونوں کا اکھٹے احرام باندھ کر سب سے پہلے عمرہ ادا کرنا اور اسی احرام میں رہتے ہوئے پھر حج ادا کرنے کو “حج قران” کہتے ہیں اور یہ سب سے افضل حج ہے۔
حجِ قِران کا مکمل طریقہ: حج کے مہینوں میں میقات پہنچ کر یا میقات سے پہلے یا گھر ہی سے غسل وغیرہ سے فارغ ہوکر احرام کے کپڑے پہنے ، پھردو رکعت نماز پڑھے، میقات پہنچنے سے پہلے عمرہ اور حج دونوں کی نیت کریں اور پھر تلبیہ پڑھے، جب مکہ مکرمہ پہنچ جائے تو مسجدِ حرام میں مسجد کے آداب کے ساتھ داخل ہو جائے اور پھر سب سے پہلے عمرہ کا طواف کریں۔
طواف کی کیفیت ایسی ہو کہ “اضطباع” (یعنی احرام کے چادر کو داہنے بازو کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈالیں) اور “رمل” (یعنی مرد طواف کے پہلے تین چکروں میں اکڑ کر شانہ کو ہلاتے ہوئے چلے اور قدم قریب قریب رکھیں ،اگر بھیڑ نہ ہو تو تیزی سے چلے)،
اور جب طواف سے فارغ ہو جائے تو دو رکعت نفل مقامِ ابراہیم کے پاس پڑھے، اگر مقام ابراہیم کے پاس جگہ نہ ہو تو مسجدِ حرام میں جہاں کہیں بھی جگہ ملے تو وہی دو رکعت نفل پڑھیں، پھر زمزم کا پانی پیئے اور اب حجر اسود کا استلام کریں اور عمرہ کی سعی کریں ، سعی کرنے کے بعد عمرہ کے افعال پورے ہوجائیں گے ، عمرہ کی سعی کے بعد نہ حلق کرے اور نہ قصر، کیوں کہ حج کا احرام ابھی باقی ہے۔
یہ بھی پڑھیں حج کا آسان طریقہ
سعی کے فوراً بعد یا دوسرے وقت طوافِ قدوم کرلے ورنہ اپنے اپکو وقوف عرفہ سے پہلے پہلے طوافِ قدوم سے فارغ کریں اور اگر چاہے تو طوافِ قدوم کے بعد ہی حج کی سعی کرلے۔ عمرہ اور طوافِ قدوم سے فارغ ہونے کے بعد احرام ہی کی حالت میں احرام کی پابندی کریں اور مکہ مکرمہ میں قیام کریں۔
حج قران کی فضیلت
احناف کے نزدیک حج کی تینوں صورتوں میں حج قران سب سے افضل ہے، کیونکہ اس میں ایک ہی احرام میں عمرہ اور حج دونوں عبادتیں جمع ہو جاتی ہیں، اور بندہ دمِ شکر کی قربانی کے ذریعے اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع میں حج قران ہی ادا فرمایا تھا۔
حج قران اور حج تمتع میں بنیادی فرق
- احرام: حج قران میں حج اور عمرہ کا ایک ہی احرام باندھا جاتا ہے اور عمرہ کے بعد بھی احرام باقی رہتا ہے؛ جبکہ حج تمتع میں عمرہ ادا کر کے احرام کھول دیا جاتا ہے اور 8 ذی الحجہ کو حج کے لیے نیا احرام باندھا جاتا ہے۔
- حلق/قصر: حج قران میں عمرہ کے بعد حلق یا قصر نہیں کیا جاتا؛ حج تمتع میں عمرہ مکمل ہوتے ہی حلق یا قصر کر کے احرام کھول دیا جاتا ہے۔
- قربانی: دونوں صورتوں میں قربانی (دمِ شکر / ہدی) واجب ہوتی ہے؛ حج افراد میں قربانی واجب نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حج کا آسان طریقہ اور حج کا مکمل طریقہ
حج کے سفر کا فیصلہ کرنے سے پہلے استخارہ کرنا بھی مسنون ہے — استخارہ کرنے کا مکمل طریقہ اور دعا یہاں پڑھیں۔
آٹھ ذی الحجہ کو یا اس سے پہلے منی چلے جائے،
نویں ذی الحجہ کو وہاں سے عرفات تشریف لے جائے، منی ، عرفات اور مزدلفہ کے احکام کے اندر حج قران اور حج افراد میں کوئی فرق نہیں ہے۔
دسویں ذی الحجہ کو منی میں جمرہ عقبہ ( جو بالکل آخر میں بڑا شیطان ہے) اس پر رمی کریں اور اس کے بعد حج قران کے شکریہ میں منی یا حرم کے حدود میں ” دمِ شکر” کی قربانی ادا کرے اور اس کے بعد سر کے بال منڈوائے یا قصر کریں (یعنی ایک پورے کے برابر کترواکر) حلال ہوجائے اور ابھی جو بھی سلے ہوئے کپڑے ہو، پہن لے ،
اب آپ پر احرام کی تمام پابندیاں ختم ہوگئی مگر ایک پابندی باقی ہے، اور وہ یہ ہے کہ عورت سے بوس وکنار اور صحبت نہ کریں، ایسا کرنا منع ہے، البتہ طوافِ زیارت کے بعد یہ پابندی بھی ختم ہوجاتی ہے،
اب اگر کسی نے طوافِ قدوم کے بعد حج کی سعی نہ کی ہو تو طوافِ زیارت کے بعد ہی حج کی سعی کریں، اور واپس آنے کے وقت طوافِ وداع بھی کریں، اب اپکے حج کے تمام اعمال مکمل ہوگئے۔
اگر ہو سکے تو مجھ سیاہ کار کو اپنے دعاؤں میں نہ بھولے۔
حج قران کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال 1: حج قران کی تعریف کیا ہے؟
جواب: حج اور عمرہ دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھ کر پہلے عمرہ ادا کرنا اور اسی احرام میں رہتے ہوئے پھر حج ادا کرنا “حج قران” کہلاتا ہے۔
سوال 2: حج قران میں قربانی کیوں واجب ہے؟
جواب: حج قران میں “دمِ شکر” کی قربانی واجب ہے، جو اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر ہے کہ اس نے ایک ہی سفر اور ایک ہی احرام میں دو عبادتوں (حج و عمرہ) کی توفیق دی۔
سوال 3: کیا حج قران میں عمرہ کے بعد حلق کرا سکتے ہیں؟
جواب: نہیں۔ حج قران میں عمرہ کی سعی کے بعد نہ حلق کریں نہ قصر، کیونکہ حج کا احرام ابھی باقی ہے۔ حلق یا قصر 10 ذی الحجہ کو رمی اور قربانی کے بعد کیا جائے گا۔
سوال 4: حج افراد اور حج قران میں کیا فرق ہے؟
جواب: حج افراد میں صرف حج کا احرام باندھا جاتا ہے اور قربانی واجب نہیں ہوتی؛ جبکہ حج قران میں حج و عمرہ دونوں کا ایک ساتھ احرام ہوتا ہے اور دمِ شکر کی قربانی واجب ہوتی ہے۔