ادهارپر خریدے ہوئے مال تجارت میں زکوۃ

Reviewed Updated December 30, 2025 43

Question

ایک شخص پینٹ(رنگ) کا کاروبار کرتا ہے اور  کمپنی سے مال تجارت یعنی پینٹ خریدتا ہے جس کے پیسے کچھ نقد دیتا ہے اور کچھ ادھار ہوتے ہیں ،تو اس صورت میں جب سال پورا ہو جائے تو جس مال کے پیسے ادا کیے ہے صرف اس  کی  زکوۃ ادا کرےگایا اس مال کی بھی زکوۃادا کرے گا جس کے پیسےابھی تک ادا نہ کیے ہو ؟

Answer

واضح رہے کہ جو شخص کسی مال تجارت  کا مالک ہواوروہ  مقدار نصاب کو پہنچے تو سال گزرنے کے بعد اس پر زکوۃ واجب ہوتی  ہےنیز کسی چیز کے خریدنے سے خریدار  اس چیز کا مالک بنتا ہے ،چاہے اس  کو نقد خریدا ہو یا ادھار خریدا ہو،البتہ مال تجارت کے حساب لگاتے وقت جتنے دیون زکوۃ ادا کرنے والے کے ذمہ ہوں ان کو منہا کیا جائے گا،اور باقی مال اگر بقدر نصاب رہتا ہو تو اس کی  زکوۃ ادا کرے گا۔ لہذا صورت مسئولہ کے مطابق مذکورہ آدمی پورے مال تجارت کی  زکوۃ ادا کرے گا جس کاثمن ادا کیا ہےاس کی بھی  اور جس کا ثمن ابھی تک ادھار ہے  اس کی بھی، البتہ دیگر دیون کی طرح جو ثمن اس کے ذمہ قرض ہے اس کو بھی پورے مال تجارت سےمنفی کیا جائے گا ۔   وأما الشرائط التي ترجع إلى المال فمنها: الملك فلا تجب الزكاة في سوائم الوقف والخيل المسبلة لعدم الملك وهذا؛ لأن في الزكاة تمليكا والتمليك في غير الملك لا يتصور. (بدائع الصنائع، كتاب الزكوة، ج:2، ص:389)   (ومنها الفراغ عن الدين) قال أصحابنا - رحمهم الله تعالى -: كل دين له مطالب من جهة العباد يمنع وجوب الزكاة سواء كان الدين للعباد كالقرض وثمن البيع وضمان المتلفات وأرش الجراحة. ( الفتاوى الهندية، كتاب الزكوة، ج:1، ص:234) فتویٰ نمبر : 10862/297/321 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-12-30 کتاب الزکوٰۃ مالِ تجارت میں زکوٰۃ

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy