نکاح خواں کےتلقین کردہ الفاظ کے جواب میں “جی” کہنا

Reviewed Updated May 3, 2026 42

Question

اگر نکاح خواں نے لڑکی کو کہا کہ فلاں بنت فلاں آپ نے اپنے آپ کو اتنے مہر کے عوض فلاں بن فلاں کو دیا ہے اور لڑکی نے پہلی دفعہ جواب میں کہا "قبول ہے" دیا ہے "نہیں کہا اور دوسری دفعہ جواب میں کہا"جی" اور تیسری دفعہ جواب میں بھی کہا"جی" لڑکے نے تینوں دفعہ جواب میں کہا :"جی میں نے قبول کیا، تو کیا یہ نکاح ہو ا ہے یا  نہیں؟

Answer

واضح رہے کہ عقدِنکاح ایجاب و قبول کے ساتھ منعقد ہوتا ہے ، اورمتعاقدین میں سے پہلے کے قول کو ایجاب اور دوسرے کے قول کو قبول کہتے ہیں ، نیز یہ کہ ایجاب و  قبول ان تمام الفاظ سے درست ہے جو اس پر دلالت کرتے ہوں ۔ صورتِ مسئولہ میں جب لڑکی نے نکاح خواں کو جواب میں پہلی دفعہ"قبول ہے"اور دو مرتبہ "جی" کہا  تو یہ اس کی طرف سے ایجاب ہوگیا، لہذا اس کے بعد لڑکے کے  قبول کرنے سے نکاح منعقد ہو گیا ہے ۔   (وإنما يصح بلفظ تزويج ونكاح) لأنهما صريح (وما) عداهما كناية هو كل لفظ (وضع لتمليك عين) كاملة. (رد المحتار علی الدرالمختار،کتاب النکاح، ج:4، ص:16) قيل لامرأة: (خويشتن را بفلان بزني دادي) فقالت: (داد) وقيل للزوج:(پذيرفتي) فقال:(پذيرفت) ينعقد النكاح. (الفتاوی الهندية،کتاب النکاح، ج:1، ص:336) فتویٰ نمبر : 7377/297/324 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2026-05-03 کتاب النکاح شرائط وارکانِ

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy