بیوی کو سابقہ شوہر کی طلاق یاد دلاکر طلاقنی کہنا

Reviewed Updated November 4, 2025 23

Question

ایک عورت کو سات سال پہلے شوہر نے طلاق دی تھی ،اس کے بعد اس نے دوسرے شخص کے ساتھ شادی کرلی،اب اس دوسرے شوہر کے ساتھ کسی بات پر تنازع ہوا ،تو اس نے کہا ،کہ آپ تو پہلے سے طلاق شدہ ہو،اب دوبارہ کیوں ایسے حرکتیں کرتی ہو؟اس کے بعد شوہر اسے ڈانٹ کے طور پر کہا"طلاقنی،طلاقنی،طلاقنی" تین مرتبہ یہ الفاظ بول دیے ،اس کے بعد شوہر نے اس مجلس میں اس کی وضاحت کرلی ،کہ وہ پرانی طلاق اسے یاد دلا رہا تھا جو پہلے شوہر سے ملی تھی ۔ اب  شوہر کے ان الفاظ کا حکم کیا ہے؟ کیا ان الفاظ کی وجہ سے طلاق تو واقع نہیں ہوئی؟

Answer

واضح رہے کہ بیوی کو مطلقہ یا اس کے  ہم معنی الفاظ سے مخاطب کرنے اور پکارنے سے  بھی بیوی پر طلاق واقع ہوجاتی ہے،البتہ اگر وہ  عورت پہلے کسی اور کے نکاح میں تھی اور اس نے طلاق دی تھی ،اور موجودہ شوہر کا  مطلقہ کے لفظ سے  مخاطب کرنے سے  مقصد اس پہلے شوہر سے ملی طلاق ہو، تو اس صورت میں شوہر کی نیت کا اعتبار ہوگا ،اور طلاق واقع نہیں ہوگی۔ صورت مسئولہ میں اگر واقعی شوہر کے ان الفاظ "طلاقنی،طلاقنی،طلاقنی" کا مقصد اس پہلے شوہر سے ملی طلاق ہو ،تو اس صورت میں اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہے۔   [فروع]لو قال لها: يا مطلقة بالتشديد أو يا طالق وقع، ولو قال: أردت الشتم لم يصدق لأن النداء استحضار بالوصف الذي تضمنه اللفظ إذا كان يمكنه إثباته بذلك اللفظ، بخلاف قوله يا ابني لعبده. ‌ولو ‌كان ‌لها ‌زوج ‌طلقها ‌قبل ‌فقال: ‌أردت ‌ذلك ‌الطلاق ‌صدق ‌ديانة ‌باتفاق ‌الروايات وقضاء في رواية أبي سليمان وهو حسن.(فتح القدير،كتاب الطلاق،باب إيقاع الطلاق،ج:4،ص:7) ومنه يا طالق أو يا مطلقة بالتشديد ولو قال أردت الشتم لا يصدق قضاء ويدين كذا في الخلاصة ‌ولو ‌كان ‌لها ‌زوج ‌طلقها ‌قبل ‌فقال ‌أردت ‌ذلك ‌الطلاق ‌صدق ‌ديانة ‌باتفاق ‌الروايات وقضاء في رواية أبي سليمان وهو حسن كما في فتح القدير وهو الصحيح كما في الخانية.(البحر الرائق شرح كنز الدقائق،كتاب الطلاق،باب ألفاظ الطلاق،ج:3،ص:270) فتویٰ نمبر : 7293/297/324 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-11-04 کتاب الطلاق متفرق احکامِ طلاق

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy