مدرس کے لیے مدرسے سے وضو کے لیے گرم پانی گھر لے جانا

Reviewed Updated December 25, 2025 36

Question

 میں ایک مدرسے میں مدرس ہوں ،میرا گھر مدرسے کے بالکل قریب ہے،چونکہ مجھے سردی کے موسم  میں الرجی  کا مسئلہ ہوتا ہے ،اس  وجہ سے میں مدرسے سے گرم پانی گھر لے کر وہاں اس سے وضو بناتا ہوں،تو کیا ایسا کرنا میرے لیے درست ہے  ؟اگر جائز نہیں ہے ،تو اگر میں بل جمع کرادوں ،تو پھر میرے لیے ایسا کرنا جائز ہوگا یا نہیں؟

Answer

واضح رہے کہ مہتمم اور شوری  مدرسے کےمتعلق تمام  انتظامی امور کا  امین ہوتا ہے،اس لیے مہتمم اور شوری اگر طلبا  اور مدرسین کے مفاد میں  کوئی فیصلہ کرے ،تو وہ نافذ ہوگا،نیز مدرسہ کے اشیاء  مدرسہ کے عملہ اور طلبا کے لیے وقف ہوتے ہیں ،اس لیے طلبا ،مدرسین اور عملہ کے لیے اس کے استعمال کی اجازت ہوتی ہے۔ صورت مسئولہ میں عموما مدرسہ کی اشیاء اور پانی وغیرہ کا چونکہ   مدرس کے لیے استعمال کرنے کی اجازت ہوتی ہے ،اس  لیے اگر مہتمم اور شوری  کی طرف سے  وضو بنانے کے لیے پانی گھر لے جانے پر پابندی نہ ہو، تو مدرس پانی گھر لے جاکر استعمال کرسکتا ہے۔البتہ اگر مہتمم صاحب کی طرف سے  گرم پانی  صرف مدرسے میں استعمال کرنے کی اجازت ہو، تو پھر پانی گھر لے جانا درست نہیں۔   فإن شرائط الواقف معتبرة إذا لم تخالف الشرع وهو مالك، ‌فله ‌أن ‌يجعل ‌ماله حيث شاء ما لم يكن معصية. (رد المحتار على الدر المختار،كتاب الوقف،ج:6،ص:343) والذي يبدأ به من ارتفاع الوقف أي من غلته عمارته شرط الواقف أولا ثم ما هو أقرب إلى العمارة، وأعم للمصلحة كالإمام للمسجد، والمدرس للمدرسة يصرف إليهم إلى قدر كفايتهم، ثم السراج والبساط كذلك إلى آخرالمصالح۔(الدرالمختار مع ردالمحتار،كتاب الوقف، مطلب:فی وقف المنقول قصداً، ج:4، ص:367) ‌ويكره ‌رفع ‌الجرة من السقاية وحملها إلى منزله، لأنه وضع للشرب لا للحمل، كذا في محيط السرخسي.وحمل ماء السقاية إلى أهله إن كان مأذونا للحمل يجوز وإلافلا.(الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب الحادي عشر۔۔۔، ج:5،ص:341) فتویٰ نمبر : 6591/297/328 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-12-25 کتاب الوقف

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy