حکومت کی طرف سے ملنے والے مختلف فنڈز میں میراث کا حکم

Reviewed Updated November 5, 2025 29

Question

میاں سید سجاد احمد جو کہ سرکاری ملازم تھا دوران ملازمت وفات ہوا مرحوم کی تین بیویاں ہیں جن میں ایک سرکاری ملازمہ ہے مرحوم کے تین بیٹے ،اور چار بیٹیاں بھی ہیں ۔مرحوم  کو حکومت کی طرف سے جی پی فنڈ،پنشن،اور دیگر تقریبا آٹھ قسم کی مراعات ملیں گی اب سوال یہ ہے کہ ورثاء میں ان مراعات کی تقسیم کیسے ہوگی کون کون سی چیز کا حکم میراث کا ہوگا  اور اس میں ہر وارث کا کتنا حصہ بنتا ہے اور حکومت کی طرف سے جو مراعات حکومت دے رہی ہے اس کی تقسیم کا طریقہ کار کیا ہوگا؟

Answer

شريعت مطہرہ کی رو سے میراث کے احکام میت کے ترکہ میں جاری ہوں گے ،یعنی وفات کے وقت جو مال میت  کی ملکیت  میں ہو وہ ورثاء میں بقدر حصص شرعیہ تقسیم ہوگا ۔جو مال میت کی ملکیت  نہ ہو ،بلکہ وفات کے بعد کسی پیکچ یا مراعات کے طور پر ورثاء میں سے کسی کو دیا جائے تو وہ میراث میں تقسیم نہیں ہوگا،كيونکہ یہ حکومت یا ادارہ کی طرف سےعطیہ ہے اور عطیہ میں میراث جاری نہیں ہوتا۔ صورت مسؤلہ میں  مرحوم اپنی زندگی میں جس رقم کا مالک  بن چکا تھا وہ میت کی ملکیت شمار ہوگی اور اس پر میراث کے احکام جاری ہوں گےاور جو فنڈ اس کے مرنے کے بعد ادارے کی طرف سے اس کے ورثاء کو  ملتا ہے تو وہ میراث میں تقسیم نہیں ہوگا ،بلکہ ورثاء میں سے جس  کے نام جاری ہو وہی اس کا حقدار ہوگا۔ ‌ التركة ‌في ‌الاصطلاح ‌ما ‌تركه ‌الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال.(رد المحتار على الدر امختار، كتاب الفرائض ،ج:10،ص:493) العطايا لا يورث عنه.(الأشباه والنظائر،ص:495) و تنعقد الهبة بالايجاب و القبول وتتم بالقبض الكامل،لأنها من التبرعات والتبرع لا يتم الا بالقبض.(شرح المجلة لسليم رستم باز، الباب السابع في الهبة،المادة:837،ص:462) فتویٰ نمبر : 6511/297/328 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-11-04 کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام)

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy