بیوی کی رضاعی بہن سے نکاح کرنا

Reviewed Updated May 19, 2026 67

سوال

اگر کسی شخص کے نکاح میں ایک عورت ہو تو کیا وہ اس عورت کی رضاعی بہن سے نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کسی بھی شخص کے لیے بیک وقت دو حقیقی بہنوں کو یا رضاعی بہنوں  کو  نکاح میں جمع کرنا جائز نہیں۔ لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا ہو تو جب تک وہ اس کے نکاح میں موجود ہو اس وقت تک اس کی رضاعی بہن سے نکاح نہیں کر سکتا ۔   قال اللہ تعالی:﴿وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا﴾.(سورۃ النساء،آیت:23) وأما الجمع بين ذوات الأرحام فإنه لا يجمع بين أختين بنكاح ولا بوطء بملك يمين سواء كانتا أختين من النسب أو من الرضاع.( الفتاوى الهندية، کتاب النکاح، الباب الثالث فی بیان المحرمات، القسم الرابع المحرمات بالجمع، ج:1، ص:343) فتویٰ نمبر : 7412/297/324 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2026-05-19 کتاب النکاح محرمات

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy