عورت کااحرام کی حالت میں چہرہ نہ چھپانا

Reviewed Updated December 31, 2025 30

Question

میرا سوال یہ ہے کہ کہا جاتا ہے عورت کو پردہ کرنا ہے اور احرام کی حالت میں چہرہ نہیں چھپانا ہے یہ بات مجھے سمجھ نہیں آرہی اس کو پلیز ذرا وضاحت سے فرما دیں۔

Answer

احرام کی حالت میں عورت کو چہرے پر کپڑا نہیں لگانا چاہیے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ  احرام کی حالت میں  عورت کے چہرہ  نہ چھپائے، بلکہ عورت کے لیے جہاں تک ممکن ہو پردہ کرنا  ضروری  ہے،  اس کے لیے  آج کل  بازار میں ایسےکیپ  ملتے  ہیں، جن  کے آگے نقاب لگا  ہوتا ہے جس سےکپڑا چہرے سے نہیں لگتا ہوں تو پردہ کے اہتمام کے ساتھ احرام کی پابندی بھی پوری ہوجاتی ہےلہذا اسے استعمال کرنا چاہیے۔   عن عائشة رضي الله عنها قالت: كان الركبان يمرون بنا، ونحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن محرمات، ‌فإذا ‌جازوا ‌بنا ‌سدلت إحدانا جلبابها من رأسها على وجهها، فإذا جاوزونا كشفناه. (السنن الكبرى للبيهقي،كتاب الحج، باب المحرمة تلبس الثوب من علو فيستر وجهها وتجافي عنه،ج:5،ص:75،رقم الحديث:9051) والمرأة ‌في ‌جميع ‌ذلك ‌كالرجل ‌غير ‌أنها ‌لا ‌تكشف ‌رأسها ‌وتكشف ‌وجهها ‌ولو ‌سدلت ‌على ‌وجهها ‌شيئا‌ وجافته ‌عنه ‌جاز. (الفتاوى الهندية، كتاب المناسك وفيه سبعة عشر بابا، الباب الخامس في كيفية أداء الحج،مواضع رمي الجمار، ج:1،ص:235) فتویٰ نمبر : 10869/297/321 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-12-31 کتاب الحج واجباتِ حج

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy