واقعات

امام غزالی اور ایک ننھے عاشقِ الٰہی کی قربانی: ایک سبق آموز حکایت

امام غزالی اور ایک ننھے عاشقِ الٰہی کی قربانی: ایک سبق آموز حکایت | MasnoonDuayain

امام غزالی رحمہ اللہ تاریخِ اسلام کی وہ عظیم ہستی ہیں، جن کی علمی و روحانی خدمات بے مثال ہیں۔ ایک دفعہ آپ حجِ بیت اللہ شریف کے سفر پر تھے کہ ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو ایمان کے حیرت انگیز واقعات میں سے ایک ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایمان افروز ، سبق آموز حکایت ہے اور اسی کے اندر گہرا اسلامی سبق ہے۔

یہ حکایت ایک ننھے بچے کے بے مثال توکل علی اللہ، عشقِ الٰہی اور قربانی کے انوکھے انداز کو بیان کرتی ہے، جو حج کی قبولیت کا ذریعہ بن گیا۔


قافلے میں ایک مجذوب بچہ: ایمان کی انوکھی مثال

امام غزالی رحمہ اللہ ایک دفعہ ایک قافلے کے ساتھ حج بیت اللہ شریف کو جا رہے تھے، اثنائے سفر جہاں قافلہ قیام کرتا تھا تو ایک دس بارہ سال کا لڑکا بڑے والہانہ اور مجذوبانہ انداز میں چلتا پھرتا نظر آتا۔ (امام غزالیؒ فرماتے ہے کہ وہ لڑکا) اکثر میری مجلس میں آتا اور بڑے مؤدبانہ انداز میں بیٹھ کر میری گفتگو سنتا تھا۔

اس کے اس ذوق و شوق کو دیکھ کر میں نے (اس لڑکے سے) پوچھ لیا کہ بیٹا میں تمہیں تنہا دیکھتا ہوں اس طویل سفر میں تمہارا سرپرست و سربراہ کون ہے؟ تو وہ بچہ بڑے بے نیازانہ انداز سے گویا ہوا کہ حضرت! جس نے مجھے اپنے گھر بلایا ہے وہی میرا سرپرست و سربراہ ہے، انسانوں میں تو کوئی نہیں! میں نے پوچھا آخر سواری کا خرچہ اور خوراک وغیرہ کا کیا انتظام ہے؟ کہا جس کا مہمان ہوں وہی میرا کفیل ہے۔ یہ اس کے بچپن کا توکل اور خدا پر کامل یقین تھا۔

امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے بچے کے اس جواب سے اس کے ایمان و ایقان پر حیرت ہوئی، سوچا اس بچے کی روحانیت ہم بڑوں کو بھی مات دے گئی! میں نے ارادہ کر لیا کہ اس بچے کی ضروریات میں پوری کروں گا لہذا میں نے تمام سفر میں اس کا خاص خیال رکھا۔ اس کو اپنے ساتھ سوار کر لیتا اور اپنے ساتھ ہی کھلاتا پلاتا مگر ہر مرحلہ میں مجھے اسے تلاش کرنا پڑتا۔ وہ از خود اپنی ضروریات کے لیے کبھی میرے پاس نہ آتا۔ بس اپنی دھن میں مست رہتا، قافلے سے ذرا ہٹ کر کہیں نہ کہیں نوافل و ذکر اذکار میں محو رہتا، اس لیے میرے دل میں اس بچے کی کشش بڑھتی گئی۔ یہ روحانیت کا ایک اعلیٰ مقام تھا۔

👈👈👈  مسنون دعائیں سیکھیں


مکہ میں بھی وہی صورتحال: حج کے دوران بچے کی ثابت قدمی

جب مکہ مکرمہ پہنچے تو یہی صورت حال تھی۔ میں اسے تلاش کر کر کے اس کی ضروریات پوری کرتا، مکہ ہو کہ منی، مزدلفہ ہو کہ عرفات میں بے تابانہ اسے تلاش کر کے اسے ساتھ رکھتا۔

حج کے اعمال اور اس کے متعلقہ عبادات کے بارے میں مزید جاننے کے لیے ہمارا قربانی کے احکام اور مسائل کا صفحہ دیکھ سکتے ہیں۔ عید الاضحیٰ کے احکام بھی اسی سے متعلق ہیں۔


عید الاضحی کا دن اور بچے کی انوکھی قربانی: ایمان افروز واقعہ

جب قربانی کا دن آیا تو میں نے اپنے لیے جانور خریدا اور قربانی کر دی۔ پھر میں اس بچے کو تلاش کرنے لگا کہ اس کے لیے قربانی کا جانور خرید کر اسے دوں۔ تلاش کرتے کرتے آخر وہ نظر آگیا، کیا دیکھتا ہوں کہ میدان میں دور ایک جگہ پر وہ سر بہ سجدہ پڑا رو رہا تھا اور کہ رہا تھا

“اے اللہ! میرے پاس تو کوئی رقم نہیں ہے کہ میں تمہارے نام پر کوئی جانور خرید کر ذبح کر دوں۔ اے میرے اللہ! تو میری جان کی قربانی قبول کرلے۔”

یہ کہتے کہتے اس کی ہچکی بند ہو گئی، میں نے جلدی سے اسے اٹھایا اور بیٹھا کر اسے اپنی گود میں لے لیا مگر وہ تو زار و قطار رو رہا تھا، میں نے اسے تسلی دینے کے لیے کہا: “میں تو تمہیں اسی لیے تلاش کر رہا تھا کہ تم میرے ساتھ چلو، اپنی پسند کا جانور خرید کر قربانی دے دو۔”

عید کے نماز کا طریقہ جانئے

مگر وہ اس قدر درد ناک انداز سے گریہ وزاری کر رہا تھا کہ اس کا جسم کپکپا رہا تھا، مجھ سے دیکھا نہیں جا رہا تھا، وہ بس بار بار یہی کہتا جا رہا تھا: “اے اللہ! میری قربانی قبول کر لے!” آخر اس نے ایک دل دوز آہ بھری، تڑپا اور پھر ساکت ہو گیا۔ گویا اللہ تعالی نے اس کی قربانی قبول کر لی۔ اس کا سر میری گود میں تھا اور میرے آنسو اس کے چہرے کی مٹی کو دھو رہے تھے۔ ( یہ ایک حیرت انگیز واقعہ تھا جو ایمان کی بلندی کو ظاہر کرتا ہے۔)

پھر میں نے ہاتف کی آواز سنی

“اے غزالی! اس بچے نے اپنی قربانی پیش کر کے تمام حجاج کے حج قبول کروالیے ورنہ ہم کسی ایک کا بھی حج قبول نہ کرتے۔”

میں نے اس عاشق الٰہی کی میت کو کفنایا، دفنایا اور سوچتا رہا کہ میرے سوا کسی کو یہ خبر نہیں کہ ایک بچے کی قربانی نے لاکھوں حجاج کے حج کو بارگاہِ خداوندی سے قبولیت کا پروانہ دے دیا۔

خلاصہ یہ ہے کہ ی واقعہ اللہ کے بندوں سے اس کے والہانہ تعلق اور حج کی قبولیت کی نشانی ہے۔ یہ اسلامی حکایت ہر ایک کے لیے ایمان افروز ہے۔

مزید جاننے کیلیے ایمان کے حیرت انگیز واقعات والے صفحے پر جائیں

Leave a Comment

Your email will not be published. Required fields are marked *