القرآن الکریم

قربانی کرنے کا مکمل طریقہ ، احکام اور مسائل

قربانی کرنے کا مکمل طریقہ ، احکام اور مسائل | MasnoonDuayain

قربانی اللہ تعالیٰ کی رضا اور قربت حاصل کرنے کا ایک عظیم ذریعہ ہے۔ ہر سال عید الاضحی پر مسلمان اللہ جل شانہ کی خوشنودی کے لیے جانور کی قربانی کرتے ہیں۔ اس عمل کو صحیح اور شرعی طریقے سے ادا کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اس مضمون میں قربانی کرنے کا مکمل طریقہ، اس سے متعلق اہم ہدایات، قربانی کے احکام و مسائل، اور مسنون دعائیں تفصیل سے بیان کی گئی ہیں۔ قرآنی قربانی کے احکام اور شرعی احکام قربانی کو سمجھنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ یہ مضمون قربانی کی شرائط اور اس سے متعلق تمام اہم پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔

ہمارا صفحہ عید کی نماز کا طریقہ دیکھیں


جانور ذبح کرنے کا صحیح اور مسنون طریقہ

جانور ذبح کرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ جانور کو قبلہ رخ لٹانے کے بعد “بسم اللہ، واللہ اکبر” کہتے ہوئے تیز دھار چھری سے جانور کے حلق اور لبہ کے درمیان ذبح کیا جائے۔ گردن کو پورا کاٹ کر الگ نہ کیا جائے، نہ ہی حرام مغز تک کاٹا جائے، بلکہ “حلقوم” اور “مری” یعنی سانس کی نالی اور اس کے اطراف کی خون کی رگیں جنہیں “اوداج” کہا جاتا ہے، کاٹ دی جائیں۔ اس طرح جانور کو شدید تکلیف بھی نہیں ہوتی اور سارا نجس خون بھی نکل جاتا ہے۔ اس طریقے کے علاوہ باقی تمام طریقوں میں نہ ہی پورا خون نکلتا ہے اور جانور کو بلا ضرورت شدید تکلیف بھی ہوتی ہے۔ یہ قربانی کا سنت طریقہ ہے۔

جانور کو قبلہ رخ لٹاتے ہوئے جانور کی بائیں کروٹ پر لٹانا پسندیدہ ہے، یعنی ہند و پاک میں جانور کی سر والی طرف جنوب میں اور دم والی جانب شمال میں ہو، تاکہ دائیں ہاتھ سے چھری چلانے میں سہولت رہے۔ یہ قربانی کے شرعی احکام میں شامل ہے۔


قربانی سے پہلے اور بعد کی دعائیں

قربانی کے عمل کے دوران دعاؤں کا پڑھنا اس کی قبولیت اور اجر میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ یہ دعائیں قربانی کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہیں۔ مزید دعاؤں کے لیے ہمارا صفحہ مسنون دعائیں دیکھیں۔

جانور کو لٹاتے وقت کی دعا

جب قربانی کا جانور قبلہ رخ لٹائیں تو پہلے درج ذیل آیت پڑھنا بہتر ہے

إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِي لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَ مَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

ترجمہ: “میں نے اپنا رُخ اس ذات کی طرف کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، خالص اسی کی طرف (متوجہ ہوں) اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ بے شک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔” (سورہ الانعام، آیت 79، 162)

ذبح کرنے سے پہلے کی دعا

ذبح کرنے سے پہلے درج ذیل دعا اگر یاد ہو تو پڑھ لے

“الہم منک ولک”

اس کے بعد “بسم اللہ اللہ اکبر” کہہ کر ذبح کرے۔

(سنن ابی داؤد، باب ما یستحب من الذبح : 2786)

ذبح کرنے کے بعد کی دعا

اور ذبح کرنے کے بعد اگر درج ذیل دعا یاد ہو تو پڑھ لے

اللَّهُمَّ تَقَبَّلُهُ مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ حَبِيبِكَ مُحَمَّدٍ وَ خَلِيلِكَ إِبْرَاهِيمَ عليهما السلام

ترجمہ: “اے اللہ! اسے میری طرف سے قبول فرما، جیسا کہ تو نے اپنے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے خلیل ابراہیم علیہ السلام سے قبول فرمایا۔”

اگر کسی اور کی طرف سے ذبح کر رہا ہو تو “منی” کی جگہ “من” کے بعد اس شخص کا نام لے لے (مثلاً: “اللَّهُمَّ تَقَبَّلُهُ مِن فلانٍ کَمَا تَقَبَّلْتَ…”)۔


قربانی کے احکام اور شرائط: مسائل قربانی

قربانی کے احکام اور قربانی کی شرائط کو سمجھنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قربانی کے مسائل درج ذیل ہیں

مسئلہ نمبر 1: جس شخص پر صدقہ فطر واجب ہے، اس پر قربانی بھی واجب ہے۔ یعنی قربانی کے تین ایام (10، 11، 12 ذو الحجہ) کے دوران اپنی ضرورت سے زائد اتنا مال یا اشیاء جمع ہو جائیں کہ جن کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو تو اس پر قربانی لازم ہے۔ مثلاً: رہائشی مکان کے علاوہ کوئی مکان ہو، خواہ تجارت کے لیے ہو یا نہ ہو، اسی طرح ضروری سواری کے طور پر استعمال ہونے والی گاڑی کے علاوہ گاڑی ہو تو ایسے شخص پر بھی قربانی لازم ہے۔

مسئلہ نمبر 2: مسافر پر قربانی واجب نہیں۔

مسئلہ نمبر 3: قربانی کا وقت دسویں تاریخ سے لے کر بارہویں تاریخ کی شام تک ہے، بارہویں تاریخ کا سورج غروب ہو جانے کے بعد (غروب شمس کے بعد) قربانی کرنا درست نہیں۔ قربانی کا جانور دن کو ذبح کرنا افضل ہے۔ رات کو بھی ذبح کر سکتے ہیں، لیکن افضل بقرہ عید کا دن ہے، پھر گیارہویں اور پھر بارہویں تاریخ ہے۔

مسئلہ نمبر 4: شہر اور قصبوں میں رہنے والوں کے لیے عید الاضحی کی نماز پڑھ لینے سے قبل قربانی کا جانور ذبح کرنا درست نہیں ہے۔ دیہات اور گاؤں والے صبح صادق کے بعد فجر کی نماز سے پہلے بھی قربانی کا جانور ذبح کر سکتے ہیں۔ اگر شہری اپنا جانور قربانی کے لیے دیہات میں بھیج دے تو وہاں اس کی قربانی بھی نماز عید سے قبل درست ہے اور ذبح کرانے کے بعد اس کا گوشت منگوا سکتا ہے۔

مسئلہ نمبر 5: اگر مسافر مالدار ہو اور کسی جگہ پندرہ دن قیام کی نیت کرے، یا بارہویں تاریخ کو سورج غروب ہونے سے پہلے گھر پہنچ جائے، یا کسی نادار آدمی کے پاس بارہویں تاریخ کو غروب شمس سے پہلے اتنا مال آجائے کہ صاحب نصاب ہو جائے تو ان تمام صورتوں میں اس پر قربانی واجب ہو جاتی ہے۔ نیز اگر مسافر مالدار ہو، دورانِ سفر قربانی کے لیے رقم بھی ہو اور وہ پندرہ دن سے کم عرصہ کے لیے رہائش پذیر ہونے کے باوجود باسانی قربانی کر سکتا ہو تو قربانی کر لینا بہتر ہے۔

مسئلہ نمبر 6: قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا زیادہ اچھا ہے، اگر خود ذبح نہ کر سکتا ہو تو کسی اور سے بھی ذبح کرا سکتا ہے۔ بعض لوگ قصاب سے ذبح کراتے وقت ابتداء خود بھی چھری پر ہاتھ رکھ لیا کرتے ہیں، ایسے لوگوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ قصاب اور قربانی والے دونوں مستقل طور پر تکبیر پڑھیں، اگر دونوں میں سے ایک نے نہ پڑھی تو قربانی صحیح نہ ہوگی۔

(شامی، جلد 6، صفحہ 33)

مسئلہ نمبر 7: قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت زبان سے نیت پڑھنا ضروری نہیں، دل میں بھی پڑھ سکتا ہے۔

مسئلہ نمبر 8: قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت اس کو قبلہ رخ لٹائے اور اس کے بعد یہ دعا پڑھے

إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفاً وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ ۔

اس کے بعد “بسم اللہ اللہ اکبر“ کہہ کر ذبح کرے۔

سنن ابی داؤد، باب ما یستحب من الذبح : 2786

ذبح کرنے کے بعد یہ دعا پڑھے: “اللهم تقبله منى كما تقبلت من حبيبك محمد وخليلك إبراهيم عليهما الصلوة والسلام

مسئلہ نمبر 9: قربانی صرف اپنی طرف سے کرنا واجب ہے، اولاد کی طرف سے نہیں، اولاد چاہے بالغ ہو یا نابالغ، مالدار ہو یا غیر مالدار۔


قربانی کے جانور

مسئلہ نمبر 10: درج ذیل جانوروں کی قربانی ہو سکتی ہے: اونٹ، اونٹنی، بکرا، بکری، بھیڑ، دنبہ، گائے، بیل، بھینس، بھینسا۔

بکرا، بکری، بھیڑ اور دنبہ کے علاوہ باقی جانوروں میں سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ کسی شریک کا حصہ ساتویں حصے سے کم نہ ہو اور سب قربانی کی نیت سے شریک ہوں یا عقیقہ کی نیت سے، صرف گوشت کی نیت سے شریک نہ ہوں۔

گائے، بھینس اور اونٹ وغیرہ میں سات سے کم افراد بھی شریک ہو سکتے ہیں، اس طور پر کہ مثلاً چار آدمی ہوں تو تین افراد کے دو دو حصے اور ایک کا ایک حصہ ہو جائے۔ نیز اگر پورے جانور کو چار حصوں میں تقسیم کر لیں، یہ بھی درست ہے۔ یا یہ کہ دو آدمی موجود ہوں تو نصف نصف بھی تقسیم کر سکتے ہیں۔

اسی طرح اگر کئی افراد مل کر ایک حصہ ایصال ثواب کے طور پر کرنا چاہیں تو یہ بھی جائز ہے، البتہ ضروری ہے کہ سارے شرکاء اپنی اپنی رقم جمع کر کے ایک شریک کو ہبہ کردیں اور وہ اپنی طرف سے قربانی کر دے، اس طرح قربانی کا حصہ ایک کی طرف سے ہو جائے گا اور ثواب سب کو ملے گا۔

مسئلہ نمبر 11: اگر قربانی کا جانور اس نیت سے خریدا کہ بعد میں کوئی مل گیا تو شریک کرلوں گا اور بعد میں کسی اور کو قربانی یا عقیقہ کی نیت سے شریک کیا تو قربانی درست ہے اور اگر خریدتے وقت کسی اور کو شریک کرنے کی نیت نہ تھی، بلکہ پورا جانور اپنی طرف سے قربانی کرنے کی نیت سے خریدا تھا تو اب اگر شریک کرنے والا غریب ہے تو کسی اور کو شریک نہیں کر سکتا اور اگر مالدار ہے تو شریک کر سکتا ہے، البتہ بہتر نہیں۔

ایک جانور قربانی کرنے کے لیے خریدا، اگر اس کے بدلے دوسرا حیوان دینا چاہے تو جائز ہے، مگر یہ لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ دوسرا حیوان کم از کم اسی قیمت کا ہو، اگر اس سے کم قیمت کا ہو تو زائد رقم اپنے پاس رکھنا جائز نہیں، بلکہ صدقہ کرنا ضروری ہے۔ ہاں! اگر زبانی طور پر جانور کو متعین نہ کیا ہو، بلکہ یہ ارادہ کیا ہو کہ اگر اچھی قیمت میں فروخت ہو رہا ہو تو فروخت کر دیں گے۔ اس صورت میں اصل قیمت سے زائد رقم اپنے پاس رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔

مسئلہ نمبر 12: قربانی کا جانور گم ہوا، اس کے بعد دوسرا خریدا، اگر قربانی کرنے والا امیر ہے تو ان دونوں جانوروں میں سے جس کو چاہے ذبح کرے، جب کہ دونوں جانوروں کی قربانی واجب ہوگی۔

وضاحت: اگر کسی آدمی نے قربانی کے لیے جانور خریدا اور خریدنے کے بعد وہ جانور قربانی کرنے سے پہلے گم ہو جائے تو صاحب حیثیت آدمی پر قربانی کے لیے دوسرا جانور خریدنا ضروری ہے، کیونکہ اس پر قربانی شرعاً واجب تھی اور واجب ادا نہیں ہوا۔ جبکہ فقیر آدمی پر دوسرا جانور خریدنا اور قربانی کرنا لازم نہیں تھا، اس کے باوجود غریب نے دوسرا جانور بھی خرید لیا، اب اگر مالدار اور غریب ہر دو کا پہلا گم شدہ جانور مل جائے تو امیر پر صرف شرعی واجب (قربانی) کا ادا کرنا لازم ہے، جس جانور کو ذبح کر دے کافی ہے، جب کہ غریب پر خود سے واجب کردہ جانوروں کی قربانی کرنا لازم ہے۔

اس کی تفصیل یوں ہے کہ امیر آدمی پر نصاب سے قربانی واجب تھی، اس نے وہ ادا کر دی، اس کے حق میں جانور متعین نہیں ہوا تھا، اُسے اختیار ہے کہ جس جانور کو چاہے ذبح کر دے، جبکہ غریب آدمی پر قربانی لازم نہیں تھی، غریب نے از خود جانور خرید کر اپنے پر قربانی کو لازم کر لیا اور جو جانور اس نے خریدا وہ بھی متعین ہو گیا۔ اب پہلا جانور جو غریب کے حق میں قربانی کے نام سے متعین ہو چکا، اگر وہ گم ہو جائے تو اس کے بدلے دوسری قربانی لازم نہ تھی، اس کے باوجود غریب نے دوسرا جانور خرید کر اپنے پر قربانی لازم کر لی، اس بنا پر فقیر آدمی پر دوسری قربانی بھی لازم ہوئی۔ لہذا غریب آدمی دونوں جانوروں کی قربانی کرے گا۔ بخلاف مالدار کے کہ اس پر صرف قربانی لازم ہے، جانور متعین نہیں ہے، دونوں جانوروں میں سے کسی ایک کی قربانی کر دے تو کافی ہے۔

مسئلہ نمبر 13: قربانی کے جانور میں اگر کئی شرکاء ہیں تو گوشت وزن کر کے تقسیم کریں۔

مسئلہ نمبر 14: بھیڑ، بکری جب ایک سال کی ہو جائے، گائے، بھینس دو سال کی اور اونٹ پانچ سال کا تو اس کی قربانی جائز ہے، اگر اس سے کم ہے تو جائز نہیں۔ ہاں! دنبہ اور بھیڑ (نہ کہ بکرا) اگر اتنا موٹا تازہ ہو کہ سال بھر کا معلوم ہو تو اس کی قربانی بھی جائز ہے۔

موجودہ دور میں جانوروں کو تول کر (وزن کر کے) خرید و فروخت کرنا بھی جائز ہے، ایسی قربانی بلا شبہ درست ہے۔

مسئلہ نمبر 15: قربانی کا جانور اگر اندھا ہو، یا ایک آنکھ کی ایک تہائی یا اس سے زائد روشنی جاتی رہی ہو، یا ایک کان ایک تہائی یا اس سے زیادہ کٹ گیا ہو، یا دم ایک تہائی یا اس سے زیادہ کٹ گئی ہو تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے۔

گائے اور بھینس کے دو تھن یا بکری کا ایک تھن خشک ہو چکا ہو یا پیدائشی طور پر نہ ہوں تو ایسے جانور کی قربانی بھی درست نہیں ہے۔

مسئلہ نمبر 16: اسی طرح اگر جانور ایک پاؤں سے لنگڑا ہے، یعنی تین پاؤں سے چلتا ہے، چوتھے پاؤں کا سہارا نہیں لیتا تو ایسے جانور کی قربانی بھی جائز نہیں۔ ہاں! اگر وہ چوتھے پاؤں سے سہارا لیتا ہے، لیکن لنگڑا کے چلتا ہے تو ایسے جانور کی قربانی درست ہے۔

مسئلہ نمبر 17: قربانی کا جانور خوب موٹا تازہ ہونا چاہیے۔ اگر جانور اس قدر کمزور ہو کہ ہڈیوں میں گودا بالکل نہ رہا ہو، تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے۔

بعض لوگ موٹا تازہ جانور محض دکھلاوے یا ریا و نمود کے لیے خریدتے ہیں، ایسے لوگ قربانی کے ثواب سے محروم ہوتے ہیں، ان پر لازم ہے کہ وہ موٹا تازہ جانور تلاش کرتے ہوئے محض ثواب کی نیت کریں۔

مسئلہ نمبر 18: اگر کسی جانور کے تمام دانت گر گئے ہوں تو اس کی قربانی جائز نہیں ہے اور اگر اکثر دانت باقی ہوں، کچھ گر گئے ہوں تو قربانی جائز ہے۔

اگر کسی جانور کی عمر پوری ہو اور دانت نہ نکلے ہوں تو بھی قربانی ہوسکتی ہے، تاہم اس سلسلہ میں صرف جانوروں کے عام سوداگروں کی بات معتبر نہیں ہے، بلکہ یقین سے معلوم ہونا ضروری ہے یا یہ کہ خود گھر میں پالا ہوا جانور ہو تو اس کی قربانی کی جاسکتی ہے۔

مسئلہ نمبر 19: جس جانور کے پیدائشی کان ہی نہ ہوں، اس کی قربانی جائز نہیں ہے۔

مسئلہ نمبر 20: اگر کسی جانور کے سینگ بالکل جڑ سے ٹوٹ چکے ہوں، اس طور پر کہ دماغ اس سے متاثر ہوا ہو تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں اور اگر معمولی ٹوٹے ہوں یا سرے سے سینگ ہی نہ ہوں، جیسے: اونٹ تو بلا کراہت جائز ہے۔

اسی طرح گائے، بکری وغیرہ کے اگر پیدائشی سینگ نہ ہوں تو اس کی قربانی بھی جائز ہے۔

مسئلہ نمبر 21: خارش زدہ جانور کی قربانی جائز ہے، البتہ اگر خارش کی وجہ سے بے حد کمزور ہو گیا ہو تو پھر جائز نہیں۔

مسئلہ نمبر 22: اگر قربانی کے جانور میں کوئی عیب پیدا ہوا جس کے ہوتے ہوئے قربانی درست نہ ہو تو مالدار شخص کے لیے یہ ضروری ہے کہ دوسرا جانور اس کے بدلے خرید کر قربانی کرے، اگر غریب ہے تو اسی جانور کی قربانی کر سکتا ہے۔

اگر قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کے لیے گراتے ہوئے کوئی عیب پیدا ہو جائے، مثلاً: ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ جائے یا سینگ وغیرہ ٹوٹ جائے تو اس سے قربانی پر اثر نہیں پڑے گا، البتہ جانور کو گراتے وقت احتیاط کرنا چاہیے۔


قربانی کا گوشت اور کھال سے متعلق احکام

قربانی کا گوشت تقسیم کرنے کا طریقہ اور کھال کے احکام بھی شریعت محمدی کا اہم حصہ ہیں۔

مسئلہ نمبر 23: قربانی کے گوشت میں بہتر یہ ہے کہ تین حصے کرے، ایک حصہ اپنے لیے رکھے، ایک حصہ اپنے رشتہ داروں کو دے اور ایک حصہ فقراء و مساکین کو دے، لیکن اگر سارے کا سارا اپنے لیے رکھے تب بھی جائز ہے۔

مسئلہ نمبر 24: قربانی کی کھال کسی کو خیرات کے طور پر دے یا فروخت کر کے اس کی قیمت فقراء کو دے، البتہ اگر کسی دینی تعلیم کے مدرسہ اور جامعہ کو دے دے تو سب سے بہتر ہے، کیونکہ علم دین کا احیاء سب سے بہتر ہے۔

مسئلہ نمبر 25: قربانی کی کھال کو اپنے مصرف میں بھی لایا جا سکتا ہے، اس طور پر کہ اس کا عین باقی رہے، مثلاً: مصلی بنائے یا رسی یا چھلنی بنائے تو درست ہے۔

مسئلہ نمبر 26: قربانی کی کھال کی قیمت مسجد کی مرمت یا امام و مؤذن یا مدرس یا خادم کی تنخواہ میں نہیں دی جا سکتی، نہ اس سے مدارس کی تعمیر ہو سکتی ہے اور نہ شفا خانوں یا دیگر رفاہی اداروں کی۔

مسئلہ نمبر 27: قربانی کی کھال قصائی کو اجرت میں دینا جائز نہیں۔

اگر کسی کی قربانی کی کھال چوری ہوگئی یا چھن گئی تو اُسے چاہیے کہ وہ کھال کی رقم صدقہ کر دے، اگر استطاعت نہ ہو تو کوئی حرج نہیں، قربانی پر فرق نہیں پڑے گا۔


قربانی کے متفرق مسائل

مسئلہ نمبر 28: اگر قربانی کے تین دن گزر گئے اور قربانی نہیں کی تو اب ایک بکری یا بھیڑ کی قیمت خیرات کر دے، اور اگر جانور خریدا تھا، مگر قربانی نہیں کی تو بعینہ وہی جانور خیرات کر دے۔

مسئلہ نمبر 29: ایصال ثواب کے لیے قربانی کا گوشت خود بھی کھا سکتا ہے اور دوسروں کو بھی کھلا سکتا ہے۔

مسئلہ نمبر 30: اگر کسی شخص کے حکم کے بغیر اس کی طرف سے قربانی کی تو قربانی نہیں ہوگی۔ اسی طرح اگر کسی شخص کو اس کے حکم و اجازت کے بغیر قربانی میں شریک کیا تو کسی کی بھی قربانی نہیں ہوگی، اس طرح اگر حصہ داروں میں سے کوئی ایک صرف گوشت کی نیت سے شریک ہے تو کسی کی قربانی صحیح نہ ہو گی۔

مسئلہ نمبر 31: قربانی کا گوشت غیر مسلم کو بھی دے سکتا ہے، البتہ کسی کو اجرت میں نہیں دے سکتا۔

مسئلہ نمبر 32: گابھن جانور کی قربانی صحیح ہے، اگر بچہ زندہ نکلے تو اس کو بھی ذبح کر دے۔ اور گوشت آپس میں تقسیم کرنے کی بجائے صدقہ کر دیا جائے۔

قربانی کے جانور کے بال کاٹنا یا دودھ دوھنا درست نہیں ہے، اگر کسی نے ایسا کیا تو اُسے صدقہ کرے، اگر بیچ دیا تو اس کی رقم کو صدقہ کرنا واجب ہے۔

(بدائع الصنائع، جلد 5، صفحہ 78)

مسئلہ نمبر 33: جو شخص قربانی کرنا چاہے اس کے لیے مستحب یہ ہے کہ یکم ذوالحجہ سے قربانی کا جانور ذبح ہونے تک نہ اپنے جسم کے بال کاٹے اور نہ ناخن۔

(سنن ابی داؤد، باب ما یستحب من ذالک : 2791)

البتہ اگر زیر ناف اور بغل کے بالوں پر چالیس روز کا عرصہ گزر چکا ہو تو ان بالوں کی صفائی کرنا بہتر ہے۔

مسئلہ نمبر 34: قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ تک بھی رکھ سکتا ہے۔

(سنن ابی داؤد، باب فی لحوم الاضاحی : 2812)

مسئلہ نمبر 35: جانور ذبح کرنے کے لیے چھری خوب تیز ہونی چاہیے، تاکہ جانور کو تکلیف نہ ہو۔

(سنن ابی داؤد، باب فی الارفاغ فی الذبح : 2816)

مسئلہ نمبر 36: اگر کوئی شخص اپنی قربانی کا گوشت سارا کا سارا کسی اور کو کھلا دے، خود کچھ بھی نہ کھائے تو ایسا کر سکتا ہے۔

(کتاب الآثار، باب الاضحیۃ : 837)

مسئلہ نمبر 37: خصی جانور کی قربانی جائز، بلکہ افضل ہے، کیونکہ اس میں دوسرے کی بہ نسبت گوشت زیادہ ہوتا ہے۔

مسئلہ نمبر 38: ذبح کرتے وقت تکبیر کے علاوہ کچھ اور نہیں کہنا چاہیے، مثلاً: “باسم الله تقبل من فلان” – (جیسے کہ پہلے گزر چکا۔)

(کتاب الآثار، باب الاضحیۃ : 839)

مسئلہ نمبر 39: اگر کسی نے قربانی کی نذر مانی اور وہ کام ہو جائے تو قربانی واجب ہے، اس کے گوشت سے خود نہیں کھا سکتا، سارا فقراء اور مساکین کو کھلا دے۔

مسئلہ نمبر 40: اگر کسی شخص کی ساری یا اکثر آمدنی حرام کی ہو تو اس کو اپنے ساتھ قربانی میں شریک نہیں کرنا چاہیے۔ اگر شریک کیا تو کسی کی قربانی نہیں ہو گی۔

ایسا شخص جس کی ساری کمائی حرام کی ہو، اس پر قربانی لازم نہیں، کیونکہ اس کا سارا مال واجب التصدق (بلانیت ثواب صدقہ کرنا ضروری) ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالی حرام مال سے کسی کا صدقہ قبول نہیں فرماتے، بلکہ وہاں صرف پاکیزہ مال سے کیا ہوا صدقہ و خیرات قبول ہوتا ہے۔

مسئلہ نمبر 41: بکری کے علاوہ دوسرے کسی جانور میں تمام شرکاء اپنا اپنا حصہ تقسیم کیے بغیر فقراء کو دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں۔

البتہ اگر نذر کی قربانی ہو یا مرحوم کی وصیت کے تحت قربانی کر رہے ہیں تو پھر تقسیم سے پہلے کسی فقیر کو دینا درست نہیں۔

مسئلہ نمبر 42: کسی نے مرتے وقت وصیت کی کہ میرے مال سے قربانی کی جائے تو اس قربانی کا سارا گوشت خیرات کرنا ضروری ہے، خود کچھ بھی نہ کھائے۔


مزید جانئے 👈👈 قربانی کے فضائل اور مسائل

Leave a Comment

Your email will not be published. Required fields are marked *