اللہ تعالیٰ کا گھر، بیت اللہ، مسلمانوں کیلئے ایمان و عقیدت کا مرکز ہے۔ حج کی سعادت ہر اس مسلمان کے لیے ایک عظیم ترین خواب ہے جو صاحبِ استطاعت ہو۔ یہ حج اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے جس کی ادائیگی سے اللہ تعالیٰ گناہوں کی مغفرت فرماتے ہے اور حج کرنے پر جنت کا وعدہ ہے۔ یہ تفصیلی مضمون آپ کو حج کا مکمل طریقہ، حج کی اقسام، حج کے ایام، ارکان حج و واجبات حج اور اس کے بے شمار فضائل سے آگاہ کرے گی تاکہ آپ یہ عظیم فریضہ احسن طریقے سے ادا کر سکیں۔
حج کی فرضیت: کس پر اور کب فرض ہے؟
حج کی فرضیت خود قرآنِ مجید اور صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ اللہ پاک نے قرآنِ مجید میں صاحبِ استطاعت شخص کو حج کرنے کا حکم فرمایا ہے، اور فرمایا کہ:
“وَلِلَّہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیلًا” (سورہ آل عمران، آیت:۹۷ )
ترجمہ: “اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے جو بھی اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو”۔
اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
” أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ فَحُجُّوا ”۔۔۔ الخ
ترجمہ: “اے لوگو! تم پر حج فرض کیا گیا ہے، لہٰذا حج کرو ۔۔۔” (صحیح مسلم، حدیث 1337)
نیز دوسرے احادیثِ مبارکہ میں بھی تاکید کے ساتھ حج کرنے کا حکم آیا ہے اور حج نہ کرنے والوں کے لیے وعید وارد ہوئی ہے۔ یہ حج کی شرعی حیثیت کو واضح کرتا ہے۔
حج کس پر فرض ہے؟
اگر کوئی آزاد عاقل و بالغ مسلمان جو صحت اور تندرستی کی وجہ سے حج کرنے پر قدرت رکھتا ہو اور اس کے پاس ضروریاتِ زندگی کے پورا کر لینے اور دورانِ سفرِ حج اپنے اہل وعیال کے واجبی خرچے پورے کرنے کے ساتھ ساتھ اتنا زائد رقم ہو جس سے حج کے ضروری اخراجات پورے ہوسکتے ہوں، تو ایسے شخص پر حج کرنا فرض ہے۔
امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ صاحبِ استطاعت شخص پر حج کرنا فرض ہے؛ لہذا صاحبِ استطاعت افراد کے ذمہ زندگی میں ایک مرتبہ حج کرنا فرض ہوگا۔
حج کی اقسام: حجِ افراد، حجِ قِران اور حجِ تَمَتُّع
حج کے اقسام تین ہیں، جن کا انتخاب حاجی صاحبان اپنی خواہش و سہولت اور سفر کے پروگرام کے مطابق کرتا ہے
- حج افراد: اس کا مطلب ہے میقات سے صرف حج کا احرام باندھ کر حج کرنا۔ اس قسم میں صرف حج کی نیت ہوتی ہے۔
- حج قِران: اس کا مطلب یہ ہے کہ میقات سے عمرہ اور حج کا احرام ایک ساتھ باندھے اور ایک ہی سفر میں حج کے مہینوں میں عمرہ کریں اور اسی احرام سے حج کریں۔ یہ ایک ہی احرام میں دونوں عبادتوں کو جمع کرنا ہے۔
- حج تَمَتُّع: اس کا مطلب یہ کہ میقات سے حج کے مہینوں میں عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ ادا کریں اور پھر احرام کھول دے، پھر ایام حج میں حج کا احرام باندھ کر حج کریں۔ لہذا زیادہ لوگ اس تیسری قسم کا حج کرتے ہیں یعنی حج تمتع اور اس میں آسانی بھی ہے۔ یہ حج تمتع کا مکمل طریقہ سمجھنے میں نسبتاً آسان ہے۔
ایام حج: آٹھ (8) سے بارہ (12) ذو الحجہ تک
حج کے ایام آٹھ (8) سے بارہ (12) ذو الحجہ تک ہیں۔ ان دنوں میں مخصوص مناسک ادا کیے جاتے ہیں:
- 8 ذو الحجہ (یوم الترویہ)
- 9 ذو الحجہ (یوم عرفہ)
- 10 ذو الحجہ (یوم النحر/قربانی کا دن)
- 11 ذو الحجہ (ایام التشریق کا پہلا دن)
- 12 ذو الحجہ (ایام التشریق کا دوسرا دن)
حج کے ارکان: حج کی بنیادیں
حج کے ارکان تین ہیں۔ احرام، وقوف عرفہ، طواف زیارت۔ نیز ان تینوں کو حج کے فرائض اور مناسک حج بھی کہتے ہیں۔ یہ وہ بنیادی اعمال ہیں جن کے بغیر حج ادا نہیں ہوتا۔
- احرام: دل سے حج کی نیت کرکے مکمل تلبیہ پڑھنا۔ احرام کا معنی ہی عبادت کی نیت سے مخصوص لباس پہننا اور اپنے اوپر پابندیاں لاگو کرنا ہے۔
- وقوف عرفہ: نویں ذی الحجہ کو زوالِ آفتاب کے بعد سے لے کر دسویں ذی الحجہ کی صبح صادق کے درمیان میدانِ عرفات میں ٹھیرنا، چاہے کچھ ہی دیر کے لیے ٹھیرے۔ (یہ رکنِ اعظم ہے، اگر کسی سے وقوفِ عرفہ رہ جائے تو اس کا حج ہی نہیں ہوا، چاہے دم ہی کیوں نہ دیدے) یہ حج کا سب سے اہم رکن ہے۔
- طواف زیارت: جوکہ وقوفِ عرفہ کے بعد کیا جاتا ہے، (جب تک حاجی طوافِ زیارت نہ کرلے اس کا حج مکمل نہیں ہوتا اور بیوی اس کے لیے حلال نہیں ہوتی، اور طواف زیارت کا وجوبی وقت دسویں ذوالحجہ کے سورج طلوع ہونے سے لے کر بارہویں ذوالحجہ کا سورج غروب ہونے تک ہے، وقتِ مقررہ کے دوران طواف نہ کرنے کی صورت میں دم لازم ہوتا ہے)۔
واجبات حج: حج کے اہم مناسک
حج کے واجبات چھ ہیں جو درجہ ذیل ہیں۔ نیز ان کو حج کے مناسک بھی کہتے ہیں اور ان میں سے کسی کے چھوٹ جانے پر دم (قربانی) لازم آتا ہے
- وقوف مزدلفہ
- رَمی جمرات
- دم شُکر (قربانی)
- حلق یا قصر
- صفا و مروہ کی سعی
- طواف وداع
حج کے فضائل: گناہوں کی بخشش اور جنت کا حصول
فضائل حج کے بارے میں بہت ساری احادیث مبارکہ ہے۔ چند اس میں سے درجہ ذیل لکھے جاتے ہیں۔ یہ حج کے ثواب اور برکات کی نشاندہی کرتے ہیں
- حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “جس نے اس گھر (بیت اللہ) کا حج کیا اور وہ نہ تو عورت کے قریب گیا اور نہ ہی کوئی گناہ کیا تو (تمام گناہوں سے پاک ہو کر) اس طرح واپس لوٹا جیسے اس کی ماں نے اُسے جنم دیا تھا۔” ( صحیح بخاری، حدیث 1819 )
- حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنا۔ عرض کی گئی: پھر کون سا ہے؟ فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ عرض کی گئی کہ پھر کون سا ہے؟ فرمایا کہ برائیوں سے پاک حج۔ ( صحیح بخاری، حدیث 26 )
- حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “ایک عمرہ سے دوسرا عمرہ اپنے درمیان گناہوں کا کفارہ ہیں اور حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا اور کچھ نہیں ہے (یعنی ایسے حج والا شخص جنت میں جائے گا)۔” (صحیح بخاری، حدیث 1773 )
حج کے فوائد: روحانی اور سماجی پہلو
حج کے فوائد بہت زیادہ ہیں، جو دین و دنیا دونوں کے لیے خیر کا باعث ہیں
- دین اسلام کا رکن: حج دین اسلام کا ایک رکن ہے، دینِ اسلام اس کے بغیر مکمل نہیں ہوتا، یہ اس کی اہمیت اور اللہ سبحانہ و تعالى کی محبت کی دلیل ہے۔
- اللہ کی راہ میں جہاد: یہ اللہ کی راہ میں ایک قسم کا جہاد ہے، اسی لیے اللہ سبحانہ و تعالى نے اسے جہاد کی آیات کے بعد ذکر کیا ہے۔ اور صحیح بخاری سے ثابت ہے کہ جب حضرت عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا نے نبى كريم ﷺ سے دريافت فرمايا: “کیا عورتوں پر بھی جہاد ہے؟” تو رسول کریم ﷺ نے فرمايا: “جی ہاں ان پر ایسا جہاد ہے جس میں لڑائی نہيں، اور وہ حج اور عمرہ ہے۔” ( صحیح بخاری، حدیث 1861 )۔ یہ عورتوں کے لیے جہاد کی فضیلت کو واضح کرتا ہے۔
- عظیم اجر: جو شخص مشروع طریقہ پر سنت کے مطابق حج ادا کریگا تو اسے اللہ رب العزت اجر عظیم سے نوازی گا، صحیح بخاری کے حديث ميں نبى كريم ﷺ كا فرمان ہے: “جس شخص نے اللہ کے لیے اس شان کے ساتھ حج کیا کہ نہ کوئی فحش بات ہوئی اور نہ کوئی گناہ تو وہ اس دن کی طرح واپس ہو گا جیسے اس کی ماں نے اسے جنا تھا ۔” ( صحیح بخاری، حدیث 1521)
- اللہ کا وفد: حضرت ابو ہریرہ رضى اللہ تعالى عنہ بیان كرتے ہيں كہ رسول كريم ﷺ نے فرمايا: “حج اور عمرہ كرنے والے لوگ اللہﷻ كے وفد ہيں، اگر يہ دعا كرتے ہيں تو اللہﷻ ان كى دعا قبول كرتا ہے، اور اگر بخشش طلب كرتے ہيں تو اللہ تعالى انہيں بخش ديتا ہے۔” اسے نسائى اور ابن ماجہ نے روايت كيا ہے۔ (سنن نسائی، حدیث 2626) (سنن ابن ماجہ، حدیث 2892 )
- اللہ کا ذکر و تعظیم: اس ميں اللہ ﷻ كا ذكر اور اس كى تعظيم اور اللہﷻ كے شعار كا اظہار ہوتا ہے مثلاً تلبيہ، اور بيت اللہ كا طواف اور صفا مروہ كى سعى، اور ميدان عرفات ميں وقوف، اور مزدلفہ ميں رات بسر كرنا، اور جمرات كو كنكرياں مارنا، اور اس ميں ذكر اور تكبير اور تعظيم بھى ہوتى ہے. حديث ميں ہے كہ نبى كريم ﷺ نے فرمايا: ”بیت اللہ کا طواف ، صفا مروہ کی سعی اور رمی جمار کا حکم صرف اس لئے دیا گیا ہے کہ تاکہ اللہ تعالیٰ کا ذکر قائم کیا جائے ۔“۔(مسند احمد، حدیث 25080)۔ یہ حج کے روحانی فوائد کو نمایاں کرتا ہے۔
- امت کا اتحاد: اس حج ميں دنيا كے ہر كونے سے مسلمان جمع ہوتے ہیں اور آپس ميں آی دوسرے کے ساتھ انس و محبت و مودت كا اظہار كرتے ہیں اور ایک دوسرے سے تعارف كراتے ہيں، اور انہی کا وعظ و نصيحت کی جاتی ہے اور خير و بھلائى كى طرف دعوت دی جاتى ہے۔
- مساوات اور خضوع: سب مسلمان (مرد) ايک ہى لباس اور ايک ہى جگہ پر ايک طرح كا ہى عمل كرتے ہیں، اور بيک وقت مشاعر مقدسہ ميں وقوف كرتے ہيں، ان سب كا عمل ايک ہوتا ہے اور سب (مردوں) نے دو چادريں زيب تن كى ہوتى ہيں، خضوع ہوتا ہے اور سب ہى اللہ عزوجل كے سامنے ہوتے ہيں.
- دینی و دنیاوی منافع: حج ميں جو كچھ حاصل ہوتا ہے اس میں دينى اور دنياوى دونوں کا خير ہے اور مسلمانوں كا آپس ميں مصالح كى تبادلہ ہوتا ہے اسى ليے اللہ سبحانہ و تعالى نے فرمايا ہے:
“وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ” (سورة الحج: 27)
ترجمہ: “اور لوگوں میں حج کی منادی کردو تمہارے پاس لوگ پاپیادہ اور پتلے ودبلے اونٹوں پر سوار ہو کر دور دراز رستوں سے چلے آئیں گے۔”
“لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ” (سورة الحج: 28)
ترجمہ: “تاکہ اپنے فوائد کو دیکھیں اور تاکہ جو چارپائے اللہ نے ان کو دے رکھے ہیں ان پر ایام مقررہ میں اللہ کا نام یاد کیا کریں (قربانی کرنے میں اس کا نام لیا کریں) پھر ان میں سے آپ بھی کھاؤ اور محتاج فقیر کو بھی کھلاؤ۔”
حج تمتع کا تفصیلی طریقہ: احرام سے لے کر طواف وداع تک
یہاں حج کا مکمل طریقہ (حج تمتع) بیان کیا جا رہا ہے، چونکہ یہ سب سے زیادہ آسان اور مقبول قسم ہے۔
احرام کی تیاری
جب میقات قریب آئے تو غسل کرے (میقات سے پہلے بھی کر سکتے ہو)، غسل کا انتظام نہ ہو تو وضو کرے اور تہبند باندھ کر ایک چادر سر پر اوڑھے، خوشبو لگائے مگر کپڑے پر داغ نہ لگے اور دو رکعت نفل پڑھے۔ سلام کے بعد سر سے چادر ہٹا کر دل میں احرام کی نیت کرے اور زبان سے بھی کہے
اَللّٰھُمَ اِنِّیْ اُرِیْدُ الْعُمْرَۃَ فَیَسِّرْھَا لِیْ وَ تَقَبَّلْھَا مِنِّیْ
(ترجمہ: اے ﷲ میں عمرہ کا ارادہ رکھتا/ رکھتی ہوں پس تو اسے میرے لئے آسان فرما اور میری طرف سے اس کو قبول فرما۔)
پھر فوراً زور سے تین بار تلبیہ پڑھے:
لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ… لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ … إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكُ لَا شَرِيْكَ لَكَ
(میں حاضر ہوں اے ﷲ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں بے شک سب تعریفیں تیرے لئے ہیں اور سب نعمتیں تیری دی ہوئی ہیں اور بادشاہت تیری ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔)
اب آپ محرم بن گئے، تلبیہ کے بعد بالخصوص یہ دعا پڑھے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ رِضَاکَ وَ الْجَنَّۃَ وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ غضبِکَ وَ النَّار
(ترجمہ: اے اللہ بے شک میں آپ سے آپ کی رضا کا اور جنت کا سوال کرتا/کرتی ہوں، اور آپ کی ناراضگی سے پناہ مانگتا/مانگتی ہوں)۔
اب طواف شروع کرنے تک تلبیہ کی کثرت رکھے، ہر نماز کے بعد اور اٹھتے بیٹھتے ہر وقت، ہر کسی سے ملاقات کے وقت تلبیہ پڑھے، بلندی پر چڑھے تب لبیک پکارے اور نیچے اترے تب بھی تلبیہ پڑے۔
ضروری ہدایات (مخطورات احرام)
مخطورات احرام سے بچے۔ سلے ہوئے کپڑے نہ پہنے، سر اور منہ نہ ڈھانپے، موزہ نہ پہنے اور ایسے جوتے نہ پہنے جس سے انگوٹھا اور ٹخنہ کے درمیان کی ابھری ہوئی ہڈی چھپ جائے، خوشبو نہ سونگھے نہ لگائے۔ جسم کے بال اور ناخن نہ کاٹے۔
نوٹ برائے خواتین
عورت کے لیے سلے ہوئے کپڑے پہننے کی اور پاؤں ڈھانپنے کی اجازت ہے۔ چہرہ نہ ڈھانپے اس طرح کپڑا منہ پر ڈالے کہ چہرہ کو نہ لگے۔
مکہ معظمہ میں داخلہ اور بیت اللہ پر پہلی نظر
مکہ معظمہ کی حد اور آبادی میں جب داخل ہو تو یہ دعا پڑھے
“اے پروردگار میں تیرا گنہگار بندہ ہوں میں تیرے فرض کی ادائیگی اور تیری رحمت کا طالب بن کر آیا ہوں تو میرے لیے رحمت کے دروازے کھول دے اور میرا حج اپنی رضاء کے مطابق کرا دے۔ آمین یا رب العالمین۔”
جب کعبہ شریف (بیت اللہ) پر نظر پڑے تو یہ دعا تین بار پڑھے:
اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَ لِلّٰہِ الْحَمْدُ
پھر تلبیہ پڑھے، پھر درود شریف کے بعد یہ دعا پڑھے
اللھم زدبیتک ھذا تشریفاً وتعظیماً ونکریماً وبراً ومھابۃ اللھم انی اسئلک الجنۃ بلاحساب۔
حرم شریف میں داخلہ کے وقت یہ دعا پڑھے
بسم ﷲ، والصلوۃ والسلام علے رسول ﷲ رب اغفرلی ذنوبی، وافتح لی ابواب رحمتک
پہلے داہنا پاؤں پھر بایاں پاؤں داخل کرے۔
جب بیت اللہ پر نظر پڑے تو دل و زبان سے کہے
اللھم زد بیتک ھذا تشریفاً وتعظیماً و تکریماً ومھابۃ وزد من شرفہ وکرمہ وممن حجہ‘ واعتمرہ تشریفاً وتکریما وبراً، اللھم انت السلام ومنک السلام فحینا ربنا بالسلام۔
اگر فرض نماز کا وقت ہو اور جماعت کی تیاری ہو تو پہلے نماز پڑھے پھر طواف کرے ورنہ جاتے ہی طواف کی تیاری کرے۔
طواف کا طریقہ: سات چکر اور دعائیں
اولاً اضطباع کرے یعنی اوڑھی ہوئی چادر کے سیدھے کنارہ کو داہنے ہاتھ کی بغل کے نیچے لے کر بائیں کندھے پر اس طرح ڈالے کہ داہنا کندھا کھلا رہے۔ پھر طواف شروع کرے۔
حجر اسود کے سامنے اس طرح کھڑا ہو کہ حجر اسود اپنی سیدھی جہت پر رہے اور دل میں طواف کعبہ کی نیت کرے اور زبان سے بھی کہے
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُرِیْدُ طَوَافَ بَیْتِکَ الْحَرَامِ فَیَسِّرْہُ لِیْ وَ تَقَبَّلْہُ مِنِّیْ سَبْعَۃَ اَشْوَاطٍ لِلّٰہِ تَعَالیٰ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ: (اے اللہ میں نیت کرتا ہوں طواف کرنے کی تیرے مقدس گھر کا پس تو اسے آسان فرما دے مجھ پر اور انہیں میری طرف سے قبول فرما۔ ان سات چکروں کو (طواف) جو محض تجھ یکتا عزوجل کی خوشنودی کے لئے، اختیار کرتا ہوں)۔
حجر اسود کے سامنے جاکر کہے
بِسْمِ اللہِ اَللہُ اَکْبَرْ ولِلہِ الْحَمْدُ
ترجمہ: (شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے، اللہ سب سے بڑا ہے اور سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔ یہ کہہ کر دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھائے جس طرح افتتاح صلوٰۃ کے وقت اٹھاتے ہیں۔
پھر ہاتھ چھوڑ کر حجر اسود کے قریب آکر اس کو اس طرح ادب سے بوسہ دے کہ منہ سے آواز نہ نکلے اگر ازدحام ہو تو دونوں ہاتھ یا داہنا ہاتھ رکھ کر اس کو چومے یا ہاتھ سے اس کی طرف اشارہ کرکے اس کو چومے پھر نیچی نظر سے اپنی داہنی طرف چل کر سات شوط (چکر) لگائے۔ ہو سکے تو ہر شوط (چکر) پر حجر اسود کو بوسہ دے۔
رمل کا طریقہ
مرد پہلے تین شوط (چکر) میں رمل کرے۔ یعنی کندھے ملائے۔ سینہ تان کر چھوٹے چھوٹے قدم سے جلدی جلدی چلے جس طرح ایک بہار مجاہد فوجی مقابلہ کے لیے نکلتا ہے۔
حالت طواف میں دعا یاد ہو تو پڑھے ورنہ یہ دعا پڑھے
رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِی الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ. وَأَدْخِلْنَا الْجَنَّةَ مَعَ الْأَبْرَارِ يَا عَزِيْزُ، يَا غَفَّارُ، يَا رَبَّ الْعَالَمِيْنَ.
(ترجمہ: اے ہمارے پروردگار ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچا اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ جنت میں داخل فرما۔ اے بڑی عزت والے، اے بڑی بخشش والے، اے سب جہانوں کے پالنے والے۔) پڑھتا رہے۔
رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان کے راستہ میں یہ دعا پڑھے
ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الا خرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار۔
حجر اسود کے پاس پہنچ کر ہو سکے تو بوسہ دے یہ ایک شوط (چکر) ہوا۔
اسی طرح دوسرے چھ شوط (چکر) لگائے تو ایک طواف پورا ہوگا ۔ پھر حجر اسود کے پاس جا کر بوسہ دے ورنہ اس کے سامنے کھڑے ہو کر ہاتھ سے اشارہ کر کے اس کو چومے احرام کی چادر سے کندھے کو چھپائے۔
پھر اگر مکروہ وقت نہ ہو تو مقام ابراہیم کے پیچھے قریب میں جہاں جگہ ملے تو طواف کے بعد کی دو رکعت نفل پڑھے اور اگر وقت مکروہ ہو تو دعا پر اکتفا کرے (اور دو رکعت نفل مکروہ وقت گزرنے کے بعد ادا کرے)۔
پھر زمزم کا پانی تین سانس میں پئے، اور پینے سے پہلے یہ دعا پڑھے
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ عِلْمًا نَافِعًا وَّرِزْقًا وَّاسِعًا وَّشِفَاءً مِّنْ کُلِّ دَاءٍ
(ترجمہ: اے اللہ کریم! میں تجھ سے نفع دینے والا عِلْم، کُشادہ رِزْق اور ہر بیماری سے شِفا کا سُوال کرتا ہوں)۔
پھر حجر اسود اور خانہ کعبہ کے دروازہ کے بیچ کا حصہ ملتزم کو چمٹ جائے اپنا پیٹ سینہ اور داہنے رخسار کو چمٹا کر اللہﷻ کے حضور میں رو رو کر خوب متوجہ ہو کر دعا مانگے پھر حجر اسود کو چوم کر باب الصفا کی جانب سے نکل کر سعی کرے۔
سعی کا طریقہ: صفا و مروہ کے درمیان
صفا پہاڑ سے شروع کرے اور مروہ کی طرف جائے بیچ میں دوڑنے کی جگہ پر دوڑے (عورت نہ دوڑے) پھر مروہ سے صفاء کی طرف جائے اور دوڑنے کی جگہ دوڑے یہ دو چکر ہوئے۔ ایسے سات چکر ختم کر کے دعا مانگے اور بال کٹائے یا حلق کریں اور احرام کھول ڈالے۔
رسول اللہﷺ کا حج کے بارے میں پڑھیں
حج کے ایام میں مناسک کی ادائیگی (8 سے 12 ذوالحجہ)
حج کا مکمل طریقہ: (حج تمتع) میں حج کے مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی کے بعد احرام کھول دیا جاتا ہے۔ پھر 8 ذوالحجہ کو دوبارہ حج کا احرام باندھا جاتا ہے۔
8 ذوالحجہ (یوم الترویہ)
جس طرح عمرہ کا احرام باندھا تھا اسی طرح آٹھویں ذی الحجہ کو صبح میں اشراق کے بعد حج کا احرام باندھے۔ (بجائے عمرہ کے حج کی نیت کرے) پھر منیٰ پہنچنے کی کوشش کرے۔
آٹھویں ذوالحجہ کی ظہر سے نویں ذوالحجہ کی فجر تک پانچ نمازیں منیٰ میں پڑھے۔ نماز کے وقت کے علاوہ میں ذکر تلاوت میں مشغول رہے۔
9 ذوالحجہ (یوم عرفہ)
نویں ذوالحجہ کی طلوع آفتاب کے بعد عرفات کے لئے روانہ ہوجائے اور لبیک جاری رکھے۔ عرفات پہنچنے پر ارادہ ہو تو تھوڑا آرام کرکے زوال ہوتے ہی غسل کرے (غسل کا وقت نہ ہو تو وضو بھی کافی ہے) پھر مسجد عرفات (مسجد نمرہ) میں امام کے پیچھے ظہر و عصر کو ظہر کے وقت میں ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ ادا کرے۔ پہلے اذان ہوگی پھر خطبہ پڑھا جائے گا پھر اقامت کہہ کر ظہر باجماعت ادا کی جائے گی پھر سنت و نوافل پڑھے بغیر اسی وقت دوسری اقامت کہہ کر نماز عصر باجماعت پڑھی جائے گی۔
تنبیہات (نماز عرفات)
(۱) یہ حکم ان حجاج کے لیے ہے جو امام کے ساتھ ظہر و عصر ادا کریں اور جن کو امام کے ساتھ پڑھنے کا موقع نہ ملے وہ تنہا پڑھے یا جماعت کر کے تو ظہر کو اس کے وقت میں اور عصر کو اس کے وقت میں ادا کرے عصر کو ظہر کے وقت میں نہ پڑھے اس کا خیال رہے۔
(۲) امام مسافر ہوگا تو قصر کرے گا۔ پس جو مقتدی مقیم ہوں گے وہ امام کے سلام کے بعد دوسری دو رکعت پڑھیں گے۔
(۳) امام مسافر نہ ہو بلکہ مقیم ہو اور نماز قصر کرے جیسے حنبلی امام کرتا ہے تو حنفی مسافر ہو یا مقیم اس امام کی اقتدا نہیں کر سکتا اس لیے نماز سے قبل واقف معلم یا تجربہ کار عالم سے اس کی تحقیق کی جائے۔ ایسے حالات میں بہتر یہی ہے کہ اپنی جگہ پر رفیقوں کے ساتھ ظہر کو اپنے وقت پر اور عصر کو اس کے وقت پر باجماعت پڑھے۔
(٤) نماز کے وقت کے علاوہ میں دعا، استغفار، آہ وبکا، گریہ و زاری میں مشغول رہے۔ ہو سکے تو لبیک پکارتے ہوئے جبل رحمت کے قریب وقوف کے لئے جائے اور قبلہ رخ کھڑے ہو کر دعا کرے اور سو بار لا الہ الا ﷲ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علیٰ کل شی قدیر۔ سو (100) بار “قل ھو ﷲ احد” سو (100) مرتبہ درود ابراہیم پڑھے۔ اس کے بعد اپنے لیے، اپنے والدین کے لیے، اولاد بہن بھائی، خویش و اقارب، دوست و احباب اور تمام مسلمانوں کے لیے دعا کرتا رہے۔
یہ دن نہایت ہی مبارک اور مقدس ہے ایک منٹ بھی لایعنی باتوں میں صرف نہ ہونا چاہئے۔ غروب آفتاب کے بعد نماز مغرب پڑھے بغیر مزدلفہ کے لیے روانہ ہوجائے۔ وقوف عرفہ کا وقت غروب آفتاب کے بعد ختم ہو جاتا ہے، اس سے پہلے نکلے گا تو گنہگار ہوگا اور دم دینا ہوگا۔
مزدلفہ میں رات اور فجر
مزدلفہ پہنچ کر مغرب و عشاء کو عشاء کے وقت میں ایک اذان واقامت کے ساتھ جمعاً پڑھے۔ اذان و اقامت کہہ کر مغرب پڑھے پھر سنت پڑھے بغیر اور بلا اذان واقامت کے عشا پڑھے۔ عشاء کے بعد مغرب و عشاء کی سنتیں اور وتر پڑھے۔ یہ رات حجاج کے لیے شب قدر سے افضل ہے۔ ذکر ﷲ، تلاوت، درود، دعا و استغفار میں مشغول رہے اگر آرام کرنا ہو تو آرام کرنے کے بعد تہجد پڑھ کر دعا و استغفار اور تلاوت وغیرہ میں مشغول رہے۔
فجر کی نماز غلس (اندھیرے) میں پڑے۔ اس کے بعد جبل قزح یا اس کے قریب آکر وقوف کرے اور تلبیہ، تکبیر، تہلیل، دعاء و استغفار اور تلاوت وغیرہ میں مشغول رہے وہاں نہ پہنچ سکے تو اپنی جگہ پر پڑھے۔
10 ذوالحجہ (یوم النحر)
جب طلوع آفتاب کے وقت ہو منیٰ کے لئے روانہ ہوجائے۔ “رمی” کے لئے کنکریاں مزدلفہ سے لے لے۔ منیٰ پہنچ کر “جمرۂ عقبہ” پر سات کنکری مارے۔ پہلی کنکری مارتے وقت تلبیہ بند کر دے۔ ہر کنکری مارتے وقت یہ دعا پڑھے:
بسم ﷲ ﷲاکبر رغما للشیطان ورضاً للرحمن اللھم اجعلھا حجاً مبروراً وذنبا مغفوراً وسعیاً مشکوراً۔
دسویں ذی الحجہ کو رمی کا وقت صبح صادق سے گیارھویں کی صبح صادق تک ہے لیکن وقت مسنون طلوع کے بعد سے زوال تک ہے۔ (عورت بوڑھی کمزور کے لیے طلوع سے قبل رمی مکروہ نہیں ہے) زوال سے غروب تک مباح اور غروب سے صبح صادق تک مکروہ ہے لیکن عورت، بوڑھیا، ضعیفہ کے لیے مکروہ نہیں۔ اگر گیارھویں ذوالحجہ کی صبح تک رمی نہ کی تو قضا کے ساتھ دم بھی لازم ہے۔
رمی کے بعد ذبح کرے (یعنی قربانی کرے)۔ پھر حلق کرائے (یعنی سر کے بال منڈوائے) یا قصر کرائے (بال کٹوائے)۔ اب احرام ختم ہوگیا (مگر طواف زیارت سے پہلے بیوی اس کے لیے حلال نہیں)۔
اس کے بعد مکہ معظمہ (زاد ﷲ شرفاً وکرامۃ) پہنچ کر طواف زیارت کرے۔ یہ بہتر ہے ۔ اگرچہ اس کا وقت بارھویں ذوالحجہ کے غروب تک ہے اس کے بعد مکروہ تحریمی ہے۔ طواف سے فارغ ہو کر شب منیٰ میں گزارے۔
11 اور 12 ذوالحجہ (ایام التشریق)
گیارھویں ذوالحجہ اور بارھویں ذوالحجہ کے زوال کے بعد تینوں جمرہ کی رمی واجب ہے۔ پہلے جمرۂ اولیٰ کی پھر جمرۂ وسطیٰ کی اس کے بعد جمرۂ عقبہ کی ۔
تنبیہ (رمی کا وقت)
دسویں ذوالحجہ اور گیارھویں ذوالحجہ کو رمی کا وقت زوال سے شروع ہوتا ہے۔ زوال سے پہلے ناجائز ہے کرے تو معتبر نہیں ہے۔ عورت، بوڑھے، مریض وغیرہ کے لیے مغرب کے بعد کا وقت مکروہ نہیں ہے۔ بارھویں کو مکہ معظمہ میں جانا ہو تو زوال کے بعد رمی سے فارغ ہو کر مغرب سے پہلے منیٰ سے روانہ ہوجائے۔
اچھا یہ ہے کہ تیرھویں ذوالحجہ کو زوال کے بعد رمی سے فارغ ہو کر جائے۔ مکہ معظمہ میں تیرھویں ذوالحجہ کے بعد اپنے اور اپنے والدین وغیرہ کے لیے عمرہ کرتا رہے۔ عمرہ کا بڑا ثواب ہے۔
طواف وداع: حج کا الوداعی طواف
روانگی کے وقت طواف وداع کرے۔ دو رکعت نفل ادا کرے۔ آب زمزم خوب سیرابی سے پئے، ملتزم کو لپٹ کر اللہﷻ کو تضرعاً، آہ وبکا، گریہ و زاری کے ساتھ پکارے اور خوب دعائیں مانگے، فراق کا غم و افسوس کرتے ہوئے وداع ہو۔ دروازہ کے پاس پہنچ کر آخری دعا کرکے دربار رسالت مآب کی حاضری کے لئے روانہ ہوجائے (اگر مدینہ منورہ کا سفر شامل ہو)۔ قیام مدینہ و حاضری کے وقت ادب ملحوظ رہے صلوٰۃ و سلام میں مشغول رہے۔
اللہ پاک تمام مسلمانوں کو یہ سعادت نصیب فرمائے آمین یا رب العلمین وصلی ﷲ تعالیٰ علی خیر خلقہ وبارک وسلم تسلیماً کثیراً کثیرا۔