رسول اللہ ﷺ کے سیرت مبارکہ کے ہر پہلو میں امت مسلمہ کے لیے رہنمائی ہے۔ حجۃ الوداع (الوداعی حج) وہ عظیم الشان واقعہ ہے جس میں آپ ﷺ نے اپنے آخری حج کے دوران امت مسلمہ کو زندگی کے ہر شعبے سے متعلق اہم ہدایات دیے تھے،حقوق اللہ و حقوق العباد کی تاکید فرمائی تھی، اور باقی اسلام کے بنیادی اصولوں کو واضح فرمایا تھا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی روایت جو سنن ابن ماجہ کے اندر موجود ہے، یہ روایت تاریخی حج کی ایک جامع اور تفصیلی بیان ہے، جو تمام مسلمانوں کے لیے رسول اللہ ﷺ کا حج ، حج کا مسنون طریقہ اور حج کی تعلیمات سمجھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضری
حضرت جعفر ( صادق ) رحمہ اللہ اپنے والد محمد ( باقر ) رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں ، انھوں نے فرمایا : ہم لوگ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے – جب ہم آپ کے پاس پہنچے تو آپ نے تمام افراد کے بارے میں پوچھا ( کہ آپ لوگ کون کون ہیں ؟ ) حتی کہ میری باری آ گئی ۔ میں نے کہا : میں محمد بن علی بن حسین ہوں ۔ انھوں نے میرے سر کی طرف ہاتھ بڑھا کر میرا اوپر والا بٹن کھولا ، پھر ( اس سے ) نیچے والا بٹن کھولا ، پھر اپنا ہاتھ میرے سینے پر رکھ دیا ۔ اس وقت میں ایک جوان لڑکا تھا ۔ آپ نے فرمایا : تمھیں خوش آمدید ہو! جو چاہو پوچھو ، چنانچہ میں نے آپ سے سوالات کیے ( انھوں نے جواب دیے ۔ ) آپ اس وقت نابینا ہو چکے تھے ۔ ( اتنے میں ) نماز کا وقت ہو گیا ۔ آپ ایک کپڑا اوڑھے ہوئے تھے جو اتنا چھوٹا تھا کہ جب اسے کندھوں پر ڈالتے تو اس کے دونوں کنارے آگے آ جاتے ( بکل مارنا مشکل تھا ۔ ) اور ان کی بڑی چادر ان کے قریب تپائی پر پڑی ہوئی تھی ۔ آپ نے ہمیں نماز پڑھائی ۔ ( نماز کے بعد ) میں نے کہا : ہمیں رسول اللہ ﷺ کے حج کے بارے میں بتایئے ۔
حجۃ الوداع کی تیاری اور احرام کا باندھنا
حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے ہاتھ سے نو کا اشارہ کر کے فرمایا : رسول اللہ ﷺ ( ہجرت کے بعد مدینے میں ) نو سال اقامت پزیر رہے اور حج نہیں کیا ۔ دسویں سال آپ نے لوگوں میں اعلان کروا دیا کہ رسول اللہ ﷺ حج کرنے والے ہیں ، چنانچہ مدینہ میں بہت سے لوگ ( اطراف و اکناف سے ) آ گئے ۔ ہر ایک کی یہی خواہش تھی کہ رسول اللہ ﷺ کی اقتدا ( میں حج ) کرے اور وہی کام کرے جو رسول اللہ ﷺ کریں ۔ آپ ﷺ روانہ ہوئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ روانہ ہوئے ۔ ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے ہاں محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کی ولادت ہو گئی ۔ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی طرف آدمی بھیج کر دریافت کیا : میں کیا کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ غسل کر کے ایک کپڑا لنگوٹ کی طرح باندھ لے اور احرام باندھ لے ۔‘‘
( ذوالحلیفہ کی ) مسجد میں رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی پھر قصواء ( اونٹنی ) پر سوار ہوئے ۔ جب اونٹنی رسول ﷺ کو لے کر بیداء ( میدان ) میں پہنچی تو حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مجھے رسول اللہ ﷺ کے آگے جہاں تک میری نظر کام کرتی تھی سوار اور پیدل افراد نظر آئے ، اسی طرح نبی ﷺ کے دائیں طرف ( بے شمار لوگ تھے ۔ ) اور اسی طرح بائیں طرف ، اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے پیچھے ( حد نظر تک لوگ تھے ۔ ) اللہ کے رسول ﷺ ہمارے درمیان موجود تھے ، آپ پر قرآن مجید نازل ہوتا تھا اور آپ اس کا مطلب جانتے تھے ۔ جو کام بھی آپ ﷺ کرتے تھے ، ہم بھی کرتے تھے ۔
تلبیہ اور طوافِ کعبہ کا آغاز
رسول اللہ ﷺ نے توحید کی آواز بلند کی : ( لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكُ لَا شَرِيْكَ لَكَ ) ’’ حاضر ہوں ، اے اللہ ! حاضر ہوں ۔ حاضر ہوں ، تیرا کوئی شریک نہیں ۔ حاضر ہوں ، تعریفیں اور نعمتیں تیری ہیں اور بادشاہی بھی ، تیرا کوئی شریک نہیں ۔‘‘ لوگوں نے بھی ان الفاظ میں لبیک پکارا جن الفاظ میں ( آج کل ) پکارتے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے اس میں سے کسی لفظ سے منع نہیں کیا ، البتہ خود رسول اللہ ﷺ اپنا ( مذکورہ بالا ) تلبیہ ہی پکارتے رہے ۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہماری نیت صرف حج کی تھی ، ہمیں عمرے کا علم ہی نہ تھا ( کہ حج کے ساتھ ہی عمرہ بھی کیا جا سکتا ہے ) حتی کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کعبہ کے پاس پہنچے تو نبی ﷺ نے حجر اسود کا استلام کیا ۔ ( طواف کے ) تین چکروں میں رمل کیا اور چار چکروں میں ( عام رفتار سے ) چلے ، پھر مقام ابراہیم پر تشریف لے گئے اور فرمایا : ﴿ وَاتَّخِذُوْا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهَيْمَ مُصَلي ﴾ سورة البقرة، آیت 125 ’’ مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ ۔‘‘ آپ نے مقام ابراہیم کو اپنے اور کعبہ کے درمیان کیا ( اور دو رکعتیں پڑھیں ۔ امام جعفرؒ فرماتے ہیں : ) میرے والد ( محمد بن علیؒ ) کا بیان ہے اور یقینا نبی ﷺ ہی سے انہوں نے بیان کیا ہوگا کہ آپ نے دو رکعتوں میں ﴿ قُلْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْكَـٰفِرُونَ ﴾ اور ﴿ قُلْ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ ﴾ پڑھیں ۔ پھر دوبارہ بیت اللہ کی طرف تشریف لے گئے اور حجر اسود کا استلام کیا ، پھر دروازے سے نکل کر صفا کی طرف چلے ۔
صفا و مروہ کی سعی اور احرام کھولنے کا حکم
جب صفا کے قریب پہنچے تو یہ آیت پڑھی ﴿ إِنَّ ٱلصَّفَا وَٱلْمَرْوَةَ مِن شَعَآئِرِٱللَّهِ ﴾ ’’ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔‘‘ ( اور فرمایا : ) ’’ ہم اسی سے شروع کرتے ہیں جس کا نام اللہ نے پہلے لیا ہے ۔‘‘ چنانچہ آپ نے صفا سے ابتدا کی ۔ آپ اس ( صفا ) پر چڑھے حتی کہ بیت اللہ پر نظر پڑی ۔ اللہ کی تکبیر و تہلیل اور حمد فرمائی ( الله اكبر ، لا اله الا الله اور الحمدلله ) پھر فرمایا : ( لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، أَنْجَزَ وَعْدَهُ ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ ) ’’ اکیلے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کی بادشاہی ہے ، اور اسی کی تعریفیں ہیں ، وہ زندہ کرتا اور موت دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے ۔ اکیلے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ اس کا کوئی شریک نہیں ، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا ، اپنے بندے کی مدد کی اور اسی ایک ( معبودِ حقیقی ) نے ( دشمنوں کی سب ) جماعتوں کو شکست دی ۔‘‘ پھر ان ( الفاظ کو پہلی بار اور دوسری بار پڑھنے ) کے درمیان دعا مانگی ۔ تین بار ایسے ہی کیا ۔ پھر اتر کر مروہ کی طرف چلے حتی کہ جب آپ کے قدم نشیب میں پہنچے تو وادی کے نشیبی حصے میں دوڑے ، پھر جب ( آپ کے قدم ) بلند جگہ پہنچے تو آپ ( عام رفتار سے ) چل کر مروہ پر پہنچے ۔ مروہ پر بھی اسی طرح کیا ( تکبیر و تحمید اور تہلیل کے بعد ( لا اله الا الله وحده….پڑھا ) جس طرح صفا پر کیا تھا ۔ ( اسی طرح سعی پوری کی ۔ )
جب مروہ پر آپ کے چکر پورے ہوئے تو فرمایا :’’ اگر مجھے اپنے معاملے کے بارے میں پہلے وہ بات معلوم ہوتی جو بعد میں معلوم ہوئی تو میں قربانی کے جانور ساتھ نہ لاتا اور اس ( طواف و سعی ) کو عمرہ بنا دیتا ، لہٰذا تم میں سے جس کے ساتھ ہدی ( قربانی کا جانور ) نہیں ، اسے چاہیے کہ احرام کھول دے اور اسے عمرہ بنا لے ۔‘‘ چنانچہ سب لوگوں نے احرام کھول دیے اور بال کٹوا لیے ، سوائے نبی ﷺ کے اور ان لوگوں کے جن کے ساتھ قربانی کے جانور تھے ۔
عمرہ اور حج کا حکم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا واقعہ
حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ نے اٹھ کر کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا یہ حکم اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ؟ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالیں اور دو بار فرمایا :’’ عمرہ حج میں اس طرح داخل ہو گیا ہے ۔ ( صرف اس سال کے لیے ) نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ۔‘‘ ( یہ حج میں عمرے کا حکم اور اس کی ابدی حیثیت کو واضح کرتا ہے اور اس سے مراد حج تمتع ہے۔)
حضرت علی رضی اللہ عنہ ( یمن سے ) نبی ﷺ کے اونٹ ( قربانی کے لیے ) لے کر حاضر ہوئے تو دیکھا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی ان افراد میں شامل ہیں جنہوں نے احرام کھول دیا ہے اور انہوں نے رنگ دار کپڑے پہن رکھے ہیں اور سرمہ لگایا ہوا ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کے اس کام پر نا پسندیدگی کا اظہار کیا تو انہوں نے فرمایا : مجھے ابا جان نے یہ حکم دیا ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ عراق میں ( یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے ) فرمایا کرتے تھے : میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کے اس عمل کی شکایت کرنے اور انہوں نے جو بات بتائی تھی اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ پوچھنے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے ان کے اس کام پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ سچ کہتی ہے ، وہ سچ کہتی ہے ۔ تم نے جب حج کا احرام باندھا تھا تو کیا کہا تھا ؟‘‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے کہا تھا : اے اللہ ! میں اسی چیز کا احرام باندھتا ہوں جس کا احرام تیرے رسول ﷺ نے باندھا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے ساتھ تو قربانی ہے ، لہٰذا تم بھی احرام نہ کھولو ۔‘‘
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : قربانی کے وہ جانور جو حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے لائے تھے اور وہ جانور جو نبی ﷺ مدینہ سے لائے تھے ، ان کی مجموعی تعداد سو تھی ۔ پھر نبی ﷺ کے سوا ، اور جن کے ساتھ قربانی کے جانور تھے ان کے سوا سب لوگوں نے احرام کھول دیا اور بال کٹوا لیے ۔
8 ذوالحجہ (یوم الترویہ) اور عرفات کی طرف روانگی
پھر جب ( 8 ذوالحجہ ) ترویہ کا دن آیا اور لوگ منیٰ کی طرف چلے ، تب انہوں نے حج کا احرام باندھا ۔ رسول اللہ ﷺ بھی سوار ہوئے ( اور منیٰ جا پہنچے ) اور آپﷺ نے منیٰ میں ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء اور فجر کی نمازیں پڑھیں ، پھر ( فجر کی نماز کے بعد ) کچھ دیر ٹھہرے رہے حتی کہ سورج نکل آیا ۔ اور آپﷺ کے حکم سے نمرہ مقام میں آپﷺ کے لیے بالوں کا ( بکریوں کے بالوں سے بنا ہوا ) ایک خیمہ لگا دیا گیا ۔
رسول اللہ ﷺ ( منیٰ سے ) روانہ ہوئے تو قریش کو یقین تھا کہ آپﷺ مشعر حرام یا مزدلفہ میں رک جائیں گے ، جیسے زمانہ جاہلیت میں قریش کیا کرتے تھے لیکن رسول اللہ ﷺ آگے بڑھ گئے حتی کہ عرفات میں پہنچ گئے ۔ آپﷺ کو نمرہ میں خیمہ لگا ہوا ملا ۔ آپﷺ وہاں تشریف فرما ہوئے ۔ جب سورج ڈھل گیا تو آپﷺ کے حکم سے ( آپﷺ کی اونٹنی ) قصواء پر کجاوہ کسا گیا ۔
خطبہ حجۃ الوداع: انسانی حقوق اور اسلامی تعلیمات
رسول اللہ ﷺ اس (قصواء اونٹنی) پر سوار ہو کر وادی کے نشیب میں تشریف لے آئے ۔ ( وہاں ) لوگوں سے خطاب فرمایا ۔ ( اس خطاب میں ) فرمایا :’’ تمہارے خون اور تمہارے مال ایک دوسرے کے لیے اسی طرح قابل احترام ہیں جس طرح تمہارے اس شہر (مکہ) میں اس مہینے (ذوالحجہ) کا یہ (حج کا) دن۔ سنو ! جاہلی رواج کی ہر چیز میرے ان قدموں تلے روندی گئی ۔ دورِ جاہلیت میں ہو جانے والے قتل سب معاف ہیں ۔ ( ان کا بدلہ نہیں لیا جائے گا ۔ ) اور سب سے پہلے میں ربیعہ بن حارث کا خون معاف کرتا ہوں ۔ یہ ( دودھ پیتا بچہ ) قبیلہ بنی سعد میں پرورش پا رہا تھا اور قبیلہ بن ہذیل نے اسے قتل کر دیا تھا ۔ زمانہ جاہلیت کے سب سود معاف ہیں ۔ اور سب سے پہلے میں اپنے خاندان کا ، یعنی عباس بن عبدالمطلب کا سود معاف کرتا ہوں ۔ وہ سب کا سب معاف ہے ۔ عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو ۔ تم نے انہیں اللہ کی ذمہ داری پر حاصل کیا ہے اور اللہ کے نام پر ان کی عصمت کو اپنے لیے حلال کیا ہے ۔ ان پر تمہارا یہ حق ہے کہ تمہارے بستر پر کسی ایسے شخص کو نہ بیٹھنے دیں جو تمہیں ناپسند ہے ۔ اگر وہ یہ حرکت کریں تو انہیں مارو لیکن سخت مار نہ ہو ۔ اور تم پر ان کا یہ حق ہے کہ مناسب انداز سے انہیں خوراک اور لباس مہیا کرو ۔ اور میں نے تمہارے اندر وہ چیز چھوڑی ہے کہ اگر اسے مضبوطی سے پکڑے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہیں ہو گے ۔ وہ اللہ کی کتاب ہے ۔ اور تم سے (قیامت کے دن) میرے بارے میں پوچھا جائے گا تو تم کیا کہو گے ؟‘‘
حاضرین نے عرض کیا : ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے ( پورا دین ) پہنچا دیا ، ( اپنا فرض پوری طرح ) ادا کر دیا ، اور ( امت کی ) خیر خواہی کی ۔ نبی ﷺ نے انگشتِ شہادت آسمان کی طرف بلند کی اور لوگوں کی طرف جھکائی اور تین بار فرمایا :’’ اے اللہ ! گواہ رہ ! اے اللہ گواہ رہ ! ‘‘ (یہ خطبہ حجۃ الوداع انسانیت کے حقوق، معاشی انصاف، اور معاشرتی ذمہ داریوں کا ایک جامع دستور ہے۔)
عرفات میں نماز اور وقوف عرفہ
اس کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی ، پھر اقامت کہی تو نبی ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی ، پھر ( بلال رضی اللہ عنہ نے ) اقامت کہی تو نبی ﷺ نے عصر کی نماز پڑھائی ۔ دونوں نمازوں کے درمیان آپ ﷺ نے کوئی ( سنت یا نفل ) نماز ادا نہیں فرمائی ۔ اس کے بعد اللہ کے رسول ﷺ سوار ہو کر ( عرفات میں ) وقوف کے مقام پر تشریف لے گئے ۔ آپﷺ نے چٹانوں کی طرف اپنی اونٹنی کا پیٹ ( اور پہلو ) کیا ، اور جبل مشاۃ ( ٹیلے ) کو اپنے سامنے کیا اور قبلے کی طرف منہ کیا ۔ ( اور ذکر و دعا میں مشغول ہو گئے ۔ ) آپﷺ برابر وہاں ٹھہرے رہے حتی کہ سورج غروب ہو گیا اور تھوڑی سی سرخی بھی کم ہو گئی ۔ جب سورج کی ٹکیا نظروں سے بالکل اوجھل ہو گئی تو آپﷺ نے سواری پر حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے سوار کر لیا ۔
مزدلفہ کی طرف روانگی اور شب گزاری
رسول اللہ ﷺ ( عرفات سے ) روانہ ہوئے تو آپﷺ نے قصواء ( اونٹنی ) کی مہار بہت زیادہ کھینچ رکھی تھی حتی کہ اس کا سر آپﷺ کے کجاوے کی اگلی لکڑی سے جا لگا ۔ آپ دائیں ہاتھ سے اشارہ کر کے فرما رہے تھے : اے لوگو ! آرام سے چلو ۔ آرام سے چلو ۔‘‘ جب راستے میں کوئی ٹیلا آتا تو رسول اللہ ﷺ اونٹنی کی مہار ڈھیلی چھوڑ دیتے تاکہ وہ ( ٹیلے پر آسانی سے ) چڑھ جائے ۔
پھر آپ مزدلفہ تشریف لائے ۔ وہاں ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں ۔ اور ان کے درمیان کوئی ( سنت یا نفل ) نماز نہیں پڑھی ۔ پھر رسول اللہ ﷺ لیٹ گئے حتی کہ صبح صادق ہو گئی ۔ جب واضح طور پر صبح طلوع ہو گئی تو آپ نے اذان اور اقامت کہلوا کر فجر کی نماز ادا کی ، پھر ( نماز کے بعد ) رسول اللہ ﷺ قصواء ( اونٹنی ) پر سوار ہو کر مشعر حرام تشریف لے گئے ۔ آپ اس کے اوپر تشریف لے گئے اور اللہ کی حمد اور تکبیر و تہلیل میں مشغول ہو گئے ۔ رسول اللہ ﷺ یہاں ٹھہرے رہے حتی کہ خوب روشنی ہو گئی ، پھر سورج طلوع ہونے سے پہلے یہاں سے روانہ ہو گئے ۔
رمی جمرات اور قربانی کا عمل
آپﷺ نے اپنے پیچھے ( اونٹنی پر ) حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو سوار کیا ۔ وہ خوبصورت بالوں والے ، گورے چٹے اور خوش شکل آدمی تھے ۔ جب رسول اللہ ﷺ روانہ ہوئے تو کچھ عورتیں ( اونٹوں پر سوار ) تیزی کے ساتھ پاس سے گزریں ، حضرت فضل رضی اللہ عنہ انہیں دیکھنے لگے ۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے ( ان کا چہرہ ) دوسری طرف کر دیا تو فضل رضی اللہ عنہ نے اپنا چہرہ دوسری طرف پھیر کر عورتوں کو دیکھنا شروع کر دیا ۔ جب رسول اللہ ﷺ وادی محسر میں پہنچے تو سواری کو قدرے تیز کیا ، پھر اس درمیانی راستے پر چل پڑے جو بڑے جمرے پر پہنچاتا ہے حتی کہ آپ اس جمرے پر جا پہنچے جو درخت کے قریب ہے ۔ آپﷺ نے اسے سات کنکریاں ماریں ، ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے ۔ وہ کنکریاں اتنی چھوٹی تھیں کہ انگوٹھے اور انگلی سے پکڑ کر پھینکی جا سکیں ۔ آپﷺ نے وادی کے نشیب میں کھڑے ہو کر کنکریاں ماریں ۔( یہ رمی جمرات کا مسنون طریقہ ہے۔)
پھر آپﷺ قربان گاہ تشریف لے گئے اور اپنے ہاتھ سے تریسٹھ ( 63 ) اونٹوں کو نحر فرمایا ۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ( نیزہ ) دیا تو باقی اونٹ انہوں نے نحر کیے ۔ نبی ﷺ نے انہیں اپنے قربانی کے جانوروں میں شریک کر لیا تھا ۔ پھر آپ کے حکم سے ہر اونٹ کی ایک بوٹی لے کر ہنڈیا میں ڈالی گئی اور پکائی گئی ۔ دونوں نے یہ گوشت کھایا اور اس کا شوربا پیا ۔
طوافِ افاضہ اور زم زم کا پانی
پھر رسول اللہ ﷺ طوافِ افاضہ کے لیے کعبہ کی طرف تشریف لے گئے ۔ آپﷺ نے ظہر کی نماز مکہ مکرمہ میں ادا کی ۔ عبدالمطلب کی اولاد کے افراد زمزم پر پانی پلا رہے تھے ، چنانچہ آپﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا :’’ عبدالمطلب کے بیٹو ! ( کنوئیں سے ) پانی نکالو ، اگر یہ خوف نہ ہوتا کہ لوگ پانی پلانے کے معاملے میں تم پر غالب آ جائیں گے تو میں بھی تمہارے ساتھ پانی نکالتا ۔‘‘ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک ڈول دیا ۔ آپ نے اس سے پانی پیا ۔ ( یہ زمزم کے پانی کی برکت اور اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔)
اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہم سب سے یہ اہم فریضہ احسن طریقے ادا کریں۔ آمین یا رب العالمین