خلع لینے کے بعد سابقہ شوہر سے نکاح کرنا

Reviewed Updated December 25, 2025 24

Question

اگر کوئی عورت شوہر کی مار پٹائی کی وجہ سے عدالت سے خلع کی ڈگری لے لے، جس پر شوہر بھی راضی ہو۔ تو کیا ایسی عورت عدت گزارنے کے بعد پھر اپنے سابقہ شوہر کے ساتھ ازدواجی تعلقات قائم کر سکتی ہے یا نہیں؟

Answer

 واضح رہے کہ خلع ملنے کی صورت میں عورت پر ایک طلاق بائن واقع ہو جاتی ہے اس کے بعد وہ عورت اپنے سابقہ شوہر کے ساتھ  دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ نکاح کر سکتی ہے۔ لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی شوہر سے خلع لےلے تو اس کے بعد وہ دونوں باہم رضامندی سے دوبارہ ازسرنو نکاح کرسکتے ہیں۔   والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض. (المبسوط السرخسي، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج:6، ص:173)  إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية. (الفتاوى الهندية، کتاب الطلاق، الباب الثامن فی الخلع، ج:1، ص:488) فتویٰ نمبر : 7352/297/324 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-12-25 خلع خلع کے مسائل

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy