نسبی بھائی کی رضاعی بہن یا رضاعی بھائی کی نسبی بہن سے نکاح کرنا

Reviewed Updated May 10, 2026 31

Question

خالد نے اپنی  چچی فولاد بی بی کا دودھ پی لیا، فولاد بی بی کا ایک بیٹا زاہد، خالد کی بہن (جس نے فولاد بی بی کا دودھ نہیں پیا ہے) کےساتھ نکاح چاہتا ہےاسی طرح خالد کے دو اور بھائی (جس نے بھی فولاد بی بی کا دودھ نہیں پیا ہیں)فولاد بی بی کی  بیٹیوں سے نکاح کرنا  چاہتے ہیں، شریعت کی روشنی میں مذکورہ نکاح کا حکم واضح فرمائیں؟

Answer

جب کوئی عورت کسی لڑکے کو دودھ پلائے تو یہ لڑکا اس عورت کا رضاعی بیٹا بن جاتا ہے جس پر مرضعہ اور اس کے تمام اصول وفروع حرام ہو جاتے ہیں۔ تاہم یہ حرمت دودھ پینے والے لڑکے یا لڑکی  کے ساتھ متعلق ہوتی ہے اس کے بھائی یا بہن پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ صورت مسئولہ میں جب خالد نے اپنی چچی فولاد بی بی کا دودھ پی لیا تو وہ اس کی رضاعی ماں بن گئی اور خالد پر فولاد بی بی اور اس کے اصول اور فروع حرام ہوگئے البتہ فولاد بی بی کا بیٹا زاہد، خالد کی بہن (جس نے فولاد بی بی کا دودھ نہیں پیا ہے) کے ساتھ نکاح کر سکتا ہے اسی طرح خالد کے دو بھائی (جنہوں نے فولاد بی بی کا دودھ نہیں پیا ) فولاد  بی بی کی بیٹیوں سے نکاح  کر سکتے ہیں۔    (‌ويجوز ‌أن ‌يتزوج ‌الرجل ‌بأخت ‌أخيه ‌من ‌الرضاع؛ لأنه يجوز أن يتزوج بأخت أخيه من النسب، وذلك مثل الأخ من الأب إن كانت له أخت من أمه جاز لأخيه من أبيه أن يتزوجها) ش: أوضح الأترازي كلام المصنف بقوله: هذا مثل أن يرضع زيد من أم عمرو، فيجوز لعمرو أن يتزوج أخت زيد نسبا، وإن كان زيد أخاه من الرضاع، كما في النسب، ذلك مثل الأخوين لأب، ولأحدهما أخت من أمه من غير أمها جاز للأخ الآخر أن يتزوج أخته، لأن هذه أجنبية في حق الأخ لأب، وعلى هذا أخت الأخت من الرضاع، وأخت الأخت من النسب، وكان ينبغي أن يقول: أخت أخيه، أو أخته من الرضاع، ويقول: أخت أخيه، وأخته من النسب، لكن اكتفى بذكر الأخ لظهور ذلك. ( البناية شرح الهداية،5 / 268) يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعا أو ولد لهذا الرجل من غير هذه المرأة قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعا فالكل إخوة الرضيع وأخواته وأولادهم أولاد إخوته وأخواته وأخو الرجل عمه وأخته عمته وأخو المرضعة خاله وأختها خالته وكذا في الجد والجدة ۔ (الفتاوى الهندية، 1/ 343) فتویٰ نمبر : 7390/297/324 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2026-05-10 کتاب النکاح رضاعت کے احکام

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy