گھر میں مسجد بنانے پر جنت کے وجوب،کےمتعلق حدیث کی تحقیق

Reviewed Updated October 7, 2025 37

Question

کیا ذخیرہ احادیث میں ایسی کوئی مستندحدیث موجود ہے جس میں یہ کہا گیا ہو کہ "جس نے اپنے گھر میں مسجد بنائی تو اس کےلیے جنت واجب ہوگئی یا وہ جنت میں ضرور داخل ہوگا"؟برائے مہربانی وضاحت فرمائیں۔

Answer

شریعت مطہرہ کی رو سے مسجد بنانا ایک مستحسن اورموجب ثواب عمل ہے،احادیث میں آپﷺ نےمسجد بنانے کی ترغیب دی ہے اوراس پر اللہ کی طرف سے  جنت مىں گھر کا وعدہ ذکر فرمایا  ہے، اسی طرح اپنے محلوں میں  مسجدیں اورگھروں میں نماز کےلیے مخصوص جگہ متعین کرنےاوران کو صاف ستھرا رکھنے کی ترغیب بھی مستند ذخیرہ احادیث میں موجود ہے،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی  ہیں کہ: أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌ببناء ‌المساجد ‌في ‌الدور وأن تنظف وتطيب. (سنن أبي داود، كتاب الصلاة، باب اتخاذ المساجد في الدور، رقم الحديث: 455، ج: 1، ص: 342) اس روایت میں شارحین حدیث  کہتے ہیں کہ : اگر"دور" سے  مراد محلے ہوں تو" مساجد" سے مسجدیں ہی  مراد ہیں اور معنی یہ ہے کہ "رسول اللہ ﷺ نے محلوں میں مسجدیں بنانے کاحکم دیا" ،اوراگر"دور" سے  مراد گھر ہوں،تو  "مساجد" سے گھروں کے اندر نماز کےلیے مخصوص جگہ مراد ہوگی،اور معنی یہ ہوگا کہ "رسول اللہﷺنے گھروں میں نماز کےلیے جگہ مخصوص کرنے کا حکم دیا ہے"۔نیز یہ بھی  واضح رہے کہ جب تک کسی حدیث کا مضمون مستند کتب حدیث سے ثابت نہ ہو اس کو بیان کرنے سے احتراز  کرنا چاہیے ،کیونکہ  آپ ﷺ نے اپنی طرف غلط بات منسوب کرنےوالے کےلیے جہنم کی وعید سنائی ہے۔ الغرض مسجد بنانے پر اللہ کی طرف سے جنت میں گھر بنانے کا وعدہ اسی طرح گھروں میں مصلے(جائے نماز) بنانےاوران کو صاف ستھرا رکھنے  کا حکم تو ذخیرہ احادیث میں موجود  ہے،لیکن سوال میں مذکوریہ مضمون کہ  "جس نے  اپنے گھر میں مسجد بنائی تو اس کےلیے جنت واجب ہوگئی یا وہ جنت میں ضرور داخل ہوگا"ہمیں تلاش کے باوجود مستند کتب حدیث میں نہیں ملا،لہذا ثبوت کے بغیر اس کو بیان کرنے سےاجتناب کرنا چاہیے۔   أخبرني منصور، قال: سمعت ربعي بن حراش، يقول: سمعت عليا، يقول: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «لا تكذبوا علي، فإنه من كذب علي فليلج النار». (أخرجه البخاري، کتاب العلم، باب إثم من كذب على النبيﷺ،رقم الحديث:106، ج:1، ص:41) عن جابر بن عبد الله، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "‌من ‌بنى ‌مسجدا ‌لله ‌كمفحص ‌قطاة، أو أصغر، بنى الله له بيتا في الجنة". (سنن ابن ماجه، أبواب المساجد والجماعات، باب من بنى لله مسجدا، رقم الحديث: 738، ج: 1، ص: 475) عن عائشة، «أن النبي صلى الله عليه وسلم أمر ببناء المسجد في الدور». (صحيح ابن خزيمة، كتاب الصلاة، ‌‌باب الأمر ببناء المساجد في الدور، رقم الحديث: 1294، ج: 2، ص: 270) عن عائشة قالت: أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌ببناء ‌المساجد ‌في ‌الدور وأن تنظف وتطيب. (سنن أبي داود، كتاب الصلاة، باب اتخاذ المساجد في الدور، رقم الحديث: 455، ج: 1، ص: 342) (وعن عائشة قالت: أمر) ، أي: أذن (رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌ببناء ‌المسجد ‌في ‌الدور) : جمع دار، وهو اسم جامع للبناء والعرصة والمحلة، والمراد المحلات فإنهم كانوا يسمون المحلة التي اجتمعت فيها قبيلة دارا، أو محمول على اتخاذ بيت في الدار للصلاة، كالمسجد يصلي فيه أهل البيت، قاله ابن الملك، والأول هو المعول وعليه العمل، ثم رأيت ابن حجر ذكر أنه المراد به هاهنا المحلات والقبائل، وحكمة أمره لأهل كل محلة ببناء مسجد فيها أنه قد يتعذر أو يشق على أهل محلة الذهاب للأخرى، فيحرمون أجر المسجد وفضل إقامة الجماعة فيه، فأمروا بذلك ليتيسر لأهل كل محلة العبادة في مسجدهم من غير مشقة تلحقهم. (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، كتاب الصلاة، باب المساجد ومواضع الصلاة، رقم الحديث: 717، ج: 2، ص: 603) فتویٰ نمبر : 6486/297/328 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-10-07 کتاب العقائد قرآن اورحدیث سے متعلقہ مباحث کابیان

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy