صورت مسئولہ میں شوہر کا اپنی بیوی کو یہ کہنا کہ اگر تمہاری بہن کی شادی کے معاملہ میں تمہارے میکہ والوں نے میری بات نہیں مانی تو ایسی صورت میں تمہیں طلاق دے دوں گا،ان الفاظ سے طلاق معلق نہیں ہوئی تھی ، اس لیے کہ مذکورہ الفاظ آئندہ مستقبل میں طلاق دینے کی دھمکی کے ہیں ،اور شرعاًدھمکی کےان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ،اور اس کے ساتھ شوہر کا یہ جملہ کہنا کہ تم میری طرف سے فارغ ہو،ان الفاظ سے اگر شوہر کی طلاق دینے کی نیت نہیں تھی جیسا کہ سوال میں درج ہے ،توا ن الفاظ سے بھی طلاق واقع نہیں ہوگی ،باقی اسی جھگڑے کے دوران شوہرکا یہ کہنا کہ میں تمہیں طلاق دے دیتاہوں،یہ الفاظ بھی آئندہ مستقبل میں طلاق دینے کی دھمکی کے ہیں، اور شرعاًدھمکی کے ان الفاظ سے کوئی طلاق نہیں ہوتی ،لہذامذکورہ میاں بیوی کا نکاح بدستور برقرار ہے ،کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔ خیر الفتاوی میں ہے: "کیا لفظ فارغ میں ہرحال میں نیت ضروری ہے؟ جب خاوند نے فارغ ہے ،فارغ ہے،فارغ ہے کے الفاظ کے ساتھ ساتھ ایسے لفظ بھی کہہ دیےہیں جن سے مزید اس کی نیت دریافت کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی،مثلاً :اس نے کہہ دیا کہ تو جہاں چاہے اپنا نکاح کرسکتی ہے اور عورت کے وارث کو بھی کہا ہے کہ عورت مجھ سے فارغ ہے،اس کا جہاں بھی چاہے نکاح کردو،اب جواب میں نیت کو مشروط کرنا چہ معنی دارد۔ الجواب :ان کلمات سے یقینا یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ مندرجہ بالا کلمات طلاق کی نیت سے کہے گئے تھے ،اس لیے نیت معلوم کرنے کی ضرورت اب بھی باقی ہے ،فقط واللہ اعلم " (کتاب الطلاق، ج:5، ص:133، ط:مکتبۃ امدادیہ ) العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے: "صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام." (كتاب الطلاق ج:1 ،ص:38،ط:دار المعرفة) فقط واللہ اعلم
شوہر کا بیوی سے یہ کہنا کہ اگر میری فلاں بات نہ مانی تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا کیا اس سے طلاق معلق ہوگی؟
Question
ایک شخص کے سسرال والے اس کی سالی کی شادی کسی ایسی جگہ کرنا چاہ رہے تھےجس جگہ شادی پر یہ شخص راضی نہیں تھا، اس نے اپنی بیوی سے اس بات پر جھگڑے کے دوران یہ کہا کہ اگر تمہاری بہن کی شادی کے معاملہ میں تمہارے میکہ والوں نے میری بات نہیں مانی تو ایسی صورت میں تمہیں طلاق دے دوں گا، تم میری طرف سے فارغ ہو۔بعد ازاں اس شخص نے یہ کہا کہ میں اس شرط کو ختم کرتا ہوں، اوراس شخص کی سالی کی شادی اسی جگہ پر ہوئی جہاں شادی کرنے پر یہ شخص راضی نہیں تھا۔ سوال یہ ہے کہ آیا یہ طلاق معلق ہوگی؟ اور یہ شرط پوری ہونے کی صورت میں طلاق واقع ہوگی؟ کیا اس شخص کے اس شرط کو ختم کرنے سے یہ شرط ختم ہوگی؟ نیز اسی جھگڑے کے دوران شوہر نے یہ بھی کہا کہ میں تمہیں طلاق دے دیتا ہوں تم کسی اور سے نکاح کرلو، میرے گھر سے نکل جاؤ، شوہر کی نیت طلاق دینے کی نہیں، یہ سب غصہ میں کہا گیا ہے، پوچھنا یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟
Answer
Related Fatwas
نئے اور پرانے نوٹوں کا کمی اور زیادتی کے ساتھ تبادلہ
میں اکثر اپنے ساتھ نئے نوٹ رکھنے کا شوقی ہوں، لیکن جب میں ان نوٹوں کو خریدتا ہوں تو مجھے 100 روپے…
غیر کی زمین میں مسجد تعمیر کرنا
اگر کوئی جگہ ایسی ہوکہ اس کا کوئی مالک معلوم نہ ہو، پھر ایک شخص کہے کہ یہ جگہ میری ہے اور…
جہاں اذن عام نہ ہو وہاں نمازِ جمعہ
جی حضرت! ہمارے یہاں ڈینس سٹی میں امتیاز مارٹ کے نیچے بیسمنٹ میں ایک مسجد ہے، جہاں پانچ وقت کی نماز باجماعت…
بیوہ عدت کہاں گزارے گی عدت گزارنے کے بعد اپنے ماں باپ کے گھر پر رہے گی یا شوہر کے؟
میرے ایک بیٹے کا چند دنوں پہلے انتقال ہوا ہے، اس نے ورثاء میں ایک بیوہ اور ایک بیٹی چھوڑی ہے، میرے…
جنوبی وزیرستان علاقہ مانتوئی میں نماز جمعہ پڑھنا
ضلع جنوبی وزیر ستان تحصیل شکئی علاقہ مانتوئی میں قدیم زمانے سے جامع مسجد بنام(جامع مسجد درس) موجود ہے، جس میں قدیم…
لے پالک لڑکی کی نسبت اپنی طرف کرنا
میں نے ایک بچی کو گود لیا تھااور تمام سرکاری کاغذات کے اندراس کواپنی طرف منسوب کیا ہوا ہے، اب مسئلہ معلوم…