نئے اور پرانے نوٹوں کا کمی اور زیادتی کے ساتھ تبادلہ

Reviewed Updated December 31, 2025 26

Question

میں اکثر اپنے ساتھ نئے نوٹ رکھنے کا شوقی ہوں، لیکن جب میں ان  نوٹوں کو خریدتا ہوں تو مجھے 100 روپے کے بدلے 120 دینے پڑتے ہیں، کیا یہ سود ہے یا نہیں؟

Answer

واضح رہےکہ جو نوٹ ایک ہی ملک کے ہوتے ہیں اور ایک ہی قسم کی مالیت رکھتے ہیں وہ خواہ پرانے ہوں یا نئے ہوں، لیکن ان کا آپس میں تبادلہ برابری کے ساتھ لازم ہے کمی زیادتی کے ساتھ ان کا باہم تبادلہ سود ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔ لہذا صورت مسئولہ کے مطابق پرانے نوٹوں کے بدلے نئے نوٹ کمی بیشی کے ساتھ خرید نا جائزنہیں یہ سود کے زمرے میں آتاہے اس سے اجتناب لازم ہے۔   قال: "‌فإن ‌باع ‌فضة ‌بفضة ‌أو ذهبا بذهب لا يجوز إلا مثلا بمثل وإن اختلفا في الجودة والصياغة" لقوله عليه الصلاة و السلام: "الذهب بالذهب مثلا بمثل وزنا بوزن يدا بيد والفضل ربا" الحديث. وقال عليه الصلاة والسلام: "جيدها ورديئها سواء" وقد ذكرناه في البيوع.( الهداية في شرح بداية المبتدي،‌‌كتاب الصرف،ج:3،ص:81) فتویٰ نمبر : 4018/297/322 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-12-31 کتاب الربا(سودکے احکام)

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy