روزے کی حالت میں خوشبو کا ناک میں،اور دھوئے کا حلق میں جانا

Reviewed Updated September 29, 2025 25

Question

اگر کوئی شخص روزہ سےہو اور اس حالت میں خوشبو ناک میں چلی جائے یا دھواں حلق میں چلاجائے تو ایسےروزے کا کیا حکم ہے؟

Answer

واضح رہے کہ صرف خوشبو سونگھنا جیسے کہ عود، مسک یا گلاب وغیرہ اور اس خوشبو یا بدبو ناک میں جانے سے روزہ میں کوئی فرق نہیں آتا،البتہ دھواں اگر حلق سے نیچے اتارا جائے ،تو اس سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے،سوائے اس دھواں اور گردوغبار کے جن سے بچنا ممکن نہ ہو۔ لہذا صورت مسؤلہ میں اگر روزہ دار خوشبو کو سونگھ لے یا اس کے حلق میں گرد و غباراور دھواں  غیر ارادی طور پر داخل ہو جائے تو روزہ فاسد نہیں ہوتا، کیونکہ اس سے بچنا عام طور پر ممکن نہیں، لیکن اگر کوئی شخص جان بوجھ کر دھواں اندر لے، چاہے وہ خوشبودار بخور ہو یا عام دھواں جیسے سگریٹ وغیرہ، تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔   (أو دخل حلقه غبار أو ذباب أو دخان) ولو ذاكرا استحسانا لعدم إمكان التحرز عنه، ومفاده أنه لو أدخل حلقه الدخان أفطر أي دخان كان ولو عودا أو عنبرا له ذاكرا لإمكان التحرز عنه فليتنبه له كما بسطه الشرنبلالي. (رد المحتارعلى الدرالمختار، باب مايفسد الصوم ومالايفسده،ج:2،ص:395) لا يكره للصائم شم رائحة المسك والورد ونحوه مما لا يكون جوهرا متصلا كالدخان.(رد المحتارعلى الدرالمختار،باب مايفسد الصوم ومالايفسده،ج:2،ص:417) فتویٰ نمبر : 10730/297/321 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-08-27 کتاب الصوم چن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتاہے

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy